امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کرنے پر حریت (ع) چیئرمین میر واعظ عمرفاروق نے شدید مذمت کرتے ہوئے اسلامی ممالک کی عالمی تنظیم اسلامک کو۔آریشن (او آئی سی) کو اس فیصلے کا سنجیدہ نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ۔
سماجی رابط ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹوئیٹ کرتے ہوئے زودیا کہ مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کا اسلامی ممالک کی عالمی تنظیم اسلامک کو۔آریشن (او آئی سی) سنجیدہ نوٹس لے۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کا فیصلہ یکطرفہ ہے ،جو قابل ِقبول نہیں ۔
سلسلہ ٹوئیٹز میں میر واعظ عمر فاروق نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ یو این چارٹر کے تحت اِس غیر جانبدارانہ فیصلے کے خلاف کارروائی کرے جبکہ مسلم مخالف قدم کے خلاف ’او آئی سی ‘ کو سنجیدہ نوٹس لینا چاہئے ۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا۔وائٹ ہاو ¿س میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کررہے ہیں اور امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کے لیے عملی اقدامات کو حتمی شکل دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ 20 سال سے کسی امریکی صدر نے مقبوضہ بیت المقدس کے معاملے پر پیش رفت نہیں کی تاہم اتنے طویل عرصے کے بعد ہم دیرینہ امن کے قریب ہیں، مقبوضہ بیت المقدس کامیاب جمہوریتوں کا دل ہے اور یہاں اسرائیلی پارلیمنٹ بھی موجود ہے۔تاہم اِس فیصلے پر دنیا بھر میں احتجاج کیا جارہا ہے جبکہ اِس فیصلے کو یکطرفہ تصور کیا جارہا ہے ۔
ادھر سعودی عرب نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دیا ہے اور ساتھ ہی اس پر فوری طورپر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے شاہی دیوان سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور تل ابیب سے امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی عالمی قراردادوں کے منافی اور ناقابل قبول اقدام ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب القدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت بنائے جانے کے اعلان اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ بیان میں کہا گیاہے کہ سعودی عرب پہلے القدس کے بارے میں غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ اقدام کے تباہ کن نتائج سے خبردار کر چکا ہے۔
شاہی دیوان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو امریکی فیصلے پر شدید تشویش ہے۔ اس اقدام سے امریکا کی فلسطینی قوم کے حقوق کے خلاف اسرائیل کی واضح طرف داری ظاہر ہوتی ہے۔ نیز القدس کے حوالے سے تاریخی حقائق اور طے شدہ اصولوں کی نفی کرکے فلسطینیوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔
بیان کے مطابق فلسطینی قوم کو عالمی قراردادوں کے مطابق جو حقوق دیئے گئے ہیں انہیں حاصل کرنے اور عالمی سطح پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرانے کی مساعی فلسطینیوں کا حق ہے۔ سعودی عرب کسی ملک کے ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گا جس کے نتیجے میں فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق، القدس کے اسلامی تشخص اورخطے میں دیرپا امن کی مساعی پر ضرب لگتی ہو۔ امریکی صدر کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو صہیونی ریاست کے دارالحکومت کے طورپر تسلیم کئے جانے سے فلسطین۔ اسرائیل تنازع مزید پیچیدہ ہو جائے گا اور اس کے نتیجے میں پورے خطے میں تشدد کی ایک نئی لہر اٹھ سکتی ہے۔
شاہی دیوان نے فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق بہ شمول حق خود ارادیت کے فراہم کرنے، مسئلہ فلسطین کے دائمی اور منصفانہ حل کے لیے عالمی سطح پر کوششیں تیز کرنے، عرب ممالک کی طرف سے پیش کردہ امن فارمولے پر عمل درآمد کی راہ ہموار کرنے، فلسطینی قوم کے سلب شدہ حقوق انہیں فراہم کرنے اور خطے میں امن واستحکام کے قیام کے لیے جدوجہد کرنے پر زور دیا۔

