سرینگر(پی آر) مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے اور کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر مزاحمتی قیادت نے 3روزہ احتجاجی پروگرام جاری کیا ،جس کے تحت 8دسمبر کو نماز جمعہ کے بعد احتجاج ،9دسمبر کو حیدر پورہ میں سمینار منعقد کرنے اور 10 دسمبر کو انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ڈے کے موقع پر ہڑتال کی اپیل کی گئی ۔مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میر واعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یروشلم کی مقدس سرزمین ‘ دنیا میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کےلئے انتہائی اہم مقام کی حامل ہے۔ان کا کہناتھا کہ یہ زمین ہمارا قبلہ ¿ اوّل ہے اور ہمارے دینی و مذہبی جذبات و احساسات کے ساتھ وابستہ ہے اور اس سرزمین کو صیہونی ریاست اسرائیل کا دار الخلافہ قرار دینے کے فیصلے کو کوئی بھی مسلمان ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کے غیر معقول فیصلے لے کرامریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی فسطائی ذہن حکومت اپنی بچگانہ سیاست کاری اور مسلم دشمنی کا بھرپور مظاہرہ کررہی ہے۔ یروشلم کو اسرائیلی دارالخلافہ تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کو بچگانہ اور دنیا کے امن و امان کےلئے انتہائی خطرناک عمل سے تعبیر کرتے ہوئے مشترکہ قیادت نے کہا کہ اس قسم کے یک طرفہ مسلم دشمن فیصلے دنیا کے امن و استحکام اور بھائی چارگی کی فضا جو اس وقت بھی کوئی تابناک اور مثالی نہیں ہے ‘ کو مزید ابتر کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کے فیصلے عملائے جائیں گے تو دنیا کبھی بھی امن و استحکام اور تعمیر و ترقی کا حقیقی مزہ نہیں پاسکے گی اور دنیا پر لازم ہے کہ وہ انسانوں کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی سعی کرنے کے بجائے ان مسائل کو مذید الجھانے سے بچیں۔انہوں نے کہا کہ یروشلم مسلمانوں کےلئے قبلہ اوّل ہے اور کوئی بھی مسلمان اس سرزمین کو یہودی ریاست اسرائیل کا دارالخلافہ بنانے کے عمل کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرسکتا۔مشترکہ قیادت نے جملہ امت مسلمہ کو اس امریکی فیصلے کے خلاف متحد ہوجانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے فلسطینی بھایﺅں کی مدد و نصرت اور اس سرزمین کی آزادی کے حوالے سے سرگرم عمل رہیں۔انہوں نے کہا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دینے کے امریکی فیصلے کے خلاف جملہ کشمیری کل مورخہ 8 دسمبر کو نماز جمعہ کے بعدبھر پور ‘ پرامن احتجاجی مظاہرے کریں گے اور اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کریں گے۔ 10 دسمبر‘انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے جاری مشترکہ بیان میں مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ اقوام عالم کے نمائندہ فورم اقوام متحدہ نے انسانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کےلئے 10دسمبر کا دن مقرر کر رکھا ہے۔ اس دن عالمی سطح پر سمینار منعقد ہوتے ہیں اور انسانوں کے حقوق کے تحفظ کےلئے نت نئے اعلانات داغے جاتے ہیں جن میں عالمی قوتیں انسانوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے دعوے کرتی پھرتی ہیں۔ اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے ایک عالمی کمیشن بھی تشکیل دے رکھا ہے جو انسانی حقوق کا شور و غوغا اُٹھاتا رہتا ہے۔مزاحمتی قیادت نے کہا کہ کشمیر بھی انسانی معاشرے کا ہی ایک حصہ ہے اور یہاں بھی گوشت پوست کے انسان بودوباش رکھتے ہیں لیکن عرصہ ¿ دراز سے ان انسانوں کو جانوروں سے بدتر حالات کا سامنا ہے۔ پچھلے ۰۷ برس سے یہاں رہنے والوں کو بھارتی جبر و ظلم کا سامنا ہے۔یہاں لاکھوں انسانوں کو تہہ تیغ کیا جاچکا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی بلا رکاوٹ جاری ہے جبکہ ہزاروں ہیں کہ جنہیں گرفتار کرکے لاپتہ کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی سرزمین ہے کہ جہاں پر ہزاروں بے نامی قبریں بھی دریافت ہوئیں اور جہاں بھارتی افواج و فورسز عفت ماب خواتین کی تذلیل کو جنگی ہتھیارکے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔سید علی گیلانی ،میر واعظ عمرفاروق اورمحمد یاسین نے کہا کہ اگر صرف پچھلے ڈیڑھ برس کا جائزہ لیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس عرصے میں سیکڑوں جوانوں کے لہو کی ہولی کھیلی گئی ہے اور اس قتل و غارت گری کو کسی کھیل تماشے کی مانند مسحور کن انداز میں پیش کیا جارہا ہے۔ اسی عرصے میں ہزاروں بچے اور بچیاں ہیں کہ جنہیں پیلٹ مار کر آنکھوں کی بینائی سے محروم کردیا گیا ہے۔ کئی ہیں جو اپنے اہم اعضا سے بھی محروم ہوچکے ہیں اور آج بھی علاج و معالجے کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ اسی عرصے میں ہزاروں پیر و جوان،زن و مرد اور جوان و معذور ‘ جیلوں ،اذیت گاہوں ‘ پولیس تھانوں اور دوسرے مراکز میں ٹارچر اور قید و بند کا شکار بنائے جارہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ تہاڑ جیل دہلی سے لیکر جموں کشمیر کی جیلیں آج بھی کشمیری اسیروں سے بھرے پڑے ہیں۔ کئی ایک ہیں جو عمر قید یا دوسری سزاﺅں کے تحت سالہاسال سے اسیر ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔سید علی گیلانی ،میر واعظ عمرفاروق اورمحمد یاسین نے کہا کہ آج کشمیر کے شمال و جنوب میں سخت سری کے ایام میں بھی کریک ڈاﺅن،بستیوں کا گھیراﺅ ،لوگوں کی بلا تخصیص مار پیٹ،لوٹ مار اور لوگوں کو گرفتار کرنے پی ایس اے جیسے من مانے قوانین کے تحت جیلوں میں ڈالنے کا عمل تیز تر کیا گیا ہے۔بیٹے کے بدلے باپ اور بھائی کے بدلے بھائی کو گرفتار کرکے تشدد و تذلیل کا نشانہ بنانا عام ہوگیا ہے۔ ہر طرف سے سرکاری تشدد اور ریاستی دہشت گردی کا دور دورہ ہے لیکن کہیں سے اس کے خلاف کوئی آواز بلند نہیں ہورہی ۔سید علی گیلانی ،میر واعظ عمرفاروق اورمحمد یاسین نے کہا کہ انسانی کے حقوق کو پاﺅں تلے روندھنے والا بھارت دنیا بھر میں بڑی جمہوریت ہونے کا دم بھرتا ہے اور دنیا جو جانوروں کے حقوق و تحفظ کا ڈھنڈورا پیٹتی نظر آتی ہے ‘ انسانوں پر ڈھائے جانے والے ان مظالم پرخاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ قائدین نے سوال کیا کہ کیا کشمیری انسان نہیں، کیا کشمیری انسانی معاشرے کا حصہ نہیں ،کیا انہیں جینے کا حق نہیں ہے اور کب تک عالمی برادری بھارت کے بڑی تجارتی منڈی ہونے کی وجہ سے اس کے جرائم پر پردہ ڈالتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی و معاشی مفادات کے عوض اخلاقیات اور انسانیت کا یہ سودا بہرصورت ایک مہنگا سودا ہے جس کا خمیازہ ہوری انسانیت کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ سید علی گیلانی ،میر واعظ عمرفاروق اورمحمد یاسین نے کہا کہ بھارت کے ظلم و جبر اور اس پر عالمی برادی کی مجرمانہ خاموشی کسی بھی صورت میں کشمیریوں کی آواز کو دبا نہیں سکتے اور اپنی آزادی و حق خودارادیت کے لئے نیز اپنے انسانی حقوق کے تحفظ کی خاطر کشمیری ہمیشہ احتجاج کرتے رہیں گے ۔ اسی ضمن میں ایک بھر پور و منظم احتجاجی پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے قائدین نے کہا کہ عالمی انسانی حقوق کے دن 10دسمبر2017 بروز‘اتوار‘ کشمیری ‘ بدترین انسانی حقوق کی پامالیوں اور اس حوالے سے عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی کے خلاف مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کریں گے جبکہ شام کے اوقات میں مکمل بلیک آﺅٹ کرکے یہاں ہونے والی انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کو اجاگر کیا جائے گا۔ اسی روز بعدحمزہ مسجدکوکر بازار لال چوک میں تینوں قائدین سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک ظہر کی نماز کے بعد ایک احتجاجی جلوس کی قیادت بھی کریں گے ۔ یہ جلوس سرینگر میں قائم اقوام متحدہ کے مقامی مبصر آفس پر جاکر وہاں ایک میمورنڈم پیش کرے گا۔ انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے ہی سنیچر وار مورخہ 9 دسمبر کو سےد علی شاہ گےلانی کے دفتر و دولت خانہ واقع رحمت آباد حےد ر پورہ پر اےک سمےنار منعقد ہوگا۔ اس سمےنار کا عنوان( کشمےر میں انسانی حقوق کی پامالیاں اور عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی) ہو گا اور اس کے ذرےعے کشمےر میں ہونے والے ظلم و جبر کو دنےا بھر کے سامنے اجاگر کرنے کی سعی کی جائے گی۔

