Blog

  • چنار بک فیسٹیول 2026 میں بسلیری اور این بی ٹی کی کثیر لسانی ماحول دوست کامک بک کی رونمائی

    چنار بک فیسٹیول 2026 میں بسلیری اور این بی ٹی کی کثیر لسانی ماحول دوست کامک بک کی رونمائی

    بسلیری انٹرنیشنل نے نیشنل بک ٹرسٹ (این بی ٹی)، وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند کے اشتراک سے آج چنار بک فیسٹیول 2026 کے موقع پر شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (SKICC)، سرینگر میں ماحولیات پر مبنی کثیر لسانی کامک بک “چھوٹا بھیم اینڈ ودیا – بگ گرین مشن” کی باضابطہ رونمائی کی۔یہ کامک بک بسلیری انٹرنیشنل کے فلیگ شپ اقدام “بوٹلز فار چینج” کا حصہ ہے، جس کا مقصد پلاسٹک کے فضلے کی ری سائیکلنگ اور ذمہ دارانہ ویسٹ مینجمنٹ کے بارے میں عوامی شعور بیدار کرنا ہے۔ یہ کامک بک 48 زبانوں میں شائع کی گئی ہے، جن میں بھارت کی تمام 22 شیڈولڈ زبانیں بھی شامل ہیں، تاکہ بچوں میں ماحول کے تحفظ اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا شعور پیدا کیا جا سکے۔

    اس موقع پر جموں و کشمیر کے مختلف اسکولوں میں اس کامک بک کی 20 ہزار انگریزی اور اردو کاپیاں بھی تقسیم کی گئیں۔تقریب کی رونق میں کئی معزز شخصیات نے اضافہ کیا، جن میں ڈاکٹر امت وانچو، چیف کنوینر، چنار بک فیسٹیول 2026؛ شری وسیم راجا (جے کے اے ایس)، جوائنٹ ڈائریکٹر، محکمہ? سیاحت، جموں و کشمیر؛ شری پیرزادہ فاروق احمد شاہ، رکنِ قانون ساز اسمبلی (ایم ایل اے)، گلمرگ؛ شری انشول گرگ (آئی اے ایس)، ڈویڑنل کمشنر، کشمیر؛ محترمہ شوبھا کپور، سینئر لیڈ، پارٹنرشپس اینڈ کمیونیکیشنز؛ اور مسٹر کے. گنیش، ڈائریکٹر، سسٹینیبلٹی اینڈ کارپوریٹ افیئرز، بسلری انٹرنیشنل، بطورِ معزز مہمان شریک ہوئے۔

    اس موقع پر ڈاکٹر اینجلو جارج، سی ای او، بسلیری انٹرنیشنل پرائیویٹ لمیٹڈ نے کہا:بسلیری میں ہمارا یقین ہے کہ ایک پائیدار مستقبل کی بنیاد نئی نسل کی درست رہنمائی سے رکھی جا سکتی ہے۔ نیشنل بک ٹرسٹ کے اشتراک سے ہماری ‘بسلیری گرینر پرامِس’ مہم کے تحت ہم کہانیوں کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے بچوں میں ماحولیات سے متعلق ذمہ داری کا شعور اجاگر کر رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ‘چھوٹا بھیم اینڈ ودیا – بگ گرین مشن’ بچوں کو روزمرہ زندگی میں ایسے آسان اقدامات اپنانے کی ترغیب دے گی جو ماحول کے تحفظ میں مثبت کردار ادا کریں۔”مسٹر یووراج ملک، ڈائریکٹر، نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا نے کہا:“کامک بکس بچوں تک مثبت پیغام پہنچانے کا ایک مو ¿ثر ذریعہ ہیں۔ ‘چھوٹا بھیم اینڈ ودیا – بگ گرین مشن’ مقبول کرداروں کے ذریعے بچوں کو ماحول دوست عادات اپنانے اور یہ سمجھنے کی ترغیب دیتی ہے کہ ان کے روزمرہ کے چھوٹے اقدامات بھی بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں

  • ایس ڈی ایم زینہ پورہ شوپیان نے یومِ آزادی کی تقریبات کی تیاریوں کا جائزہ لیا

    ایس ڈی ایم زینہ پورہ شوپیان نے یومِ آزادی کی تقریبات کی تیاریوں کا جائزہ لیا

    میر عرفان

    شوپیان کے زینہ پورہ میں 15 اگست 2026 کو منعقد ہونے والی یومِ آزادی کی تقریب کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ایس ڈی ایم زیناپورہ، جناب بلال احمد، جے کے اے ایس، کی زیرِ صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا۔

    اجلاس کے دوران ایس ڈی ایم نے تمام افسران پر زور دیا کہ یومِ آزادی کو جوش و جذبے، ولولے اور حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ منانے کے لیے تمام ضروری انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں۔ تقریب کو کامیاب اور منظم انداز میں منعقد کرنے کے لیے مختلف محکموں کو الگ الگ ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ یومِ آزادی کی تقریبات میں ایک رنگا رنگ ثقافتی پروگرام بھی شامل ہوگا، جس میں مختلف اسکولوں کے طلبہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے مختلف پرفارمنس پیش کریں گے۔ ثقافتی سرگرمیوں کے علاوہ منشیات کے استعمال کے بڑھتے ہوئے رجحان اور دیگر اہم سماجی مسائل کے حوالے سے آگاہی اور گفتگو بھی پروگرام کا حصہ ہوگی۔

    اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ یومِ آزادی کی تقریبات طلبہ اور عام لوگوں کو مختلف سرگرمیوں میں شرکت کا موقع فراہم کریں اور معاشرے کو درپیش اہم مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوں۔ مختلف اسکولوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کی شرکت سے تقریبات میں مزید جوش و خروش اور معنویت پیدا ہوگی۔

    ایس ڈی ایم نے کہا کہ گزشتہ سال زیناپورہ میں منعقدہ یومِ آزادی کی تقریبات انتہائی کامیاب رہی تھیں، جن میں عوام نے بھرپور جوش و خروش اور شرکت کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سال بھی پروگرام کو اسی جذبے اور جوش کے ساتھ منعقد کیا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ تقریبات میں شرکت کریں اور حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ یومِ آزادی منانے کے لیے متاثر ہوں۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تقریب کے کامیاب اور پُرامن انعقاد کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کیے جائیں گے اور 15 اگست 2026 کو یومِ آزادی کی تقریبات کو بھرپور جوش و خروش اور حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ منایا جائے گا۔

    اجلاس میں زیناپورہ سب ڈویژن کے تمام سب ڈویژنل افسران، تحصیل، بلاک اور سیکٹورل افسران نے شرکت کی۔

  • کرگل وجے دیوس میں شرکت کیلئے راجناتھ سنگھ سرینگر پہنچ گئے

    کرگل وجے دیوس میں شرکت کیلئے راجناتھ سنگھ سرینگر پہنچ گئے

    کرگل وجے دیوس میں شرکت کیلئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سرینگر پہنچ گئے ۔

    جموں و کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے سرینگر ہوائی اڈے پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا خیرمقدم کیا۔

    بعد ازاں لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا “ آج سرینگر ہوائی اڈے پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ جی کا خیرمقدم کیا“۔

    وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے دور کشمیر کو سیکورٹی اور انتظامی امور کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • میرے برادراکبراتفاق بشیر نائیکو کی دوسری برسی انہیں شاندار خراج

    میرے برادراکبراتفاق بشیر نائیکو کی دوسری برسی انہیں شاندار خراج

    یادوں کے چراغ کبھی نہیں بجھتے

    کبھی کبھی زندگی میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن کی اہمیت کا اندازہ ہمیں اس وقت ہوتا ہے جب وہ ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو جاتے ہیں۔ والدین کے بعد اگر کوئی رشتہ انسان کی زندگی میں رہنمائی، شفقت، محبت اور حوصلے کی علامت ہوتا ہے تو وہ بڑے بھائی کا رشتہ ہے۔ بڑا بھائی صرف خون کا رشتہ نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک ایسا سایہ ہوتا ہے جو زندگی کے ہر مشکل موڑ پر انسان کو سنبھالتا ہے، حوصلہ دیتا ہے اور خاموشی سے اس کی ڈھارس بندھاتا ہے۔

    21 جولائی 2026 کو میرے برادر اکبرمرحوم اتفاق بشیر نائیکوکی وفات کو دو برس مکمل ہو گئے ہیں۔ وقت اپنی رفتار سے ا?گے بڑھتا رہا، موسم بدلتے رہے، زندگی اپنی ڈگر پر چلتی رہی، مگر ا?پ کی جدائی کا زخم ا?ج بھی ہرابھرا ہے۔ دو سال گزرنے کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کل ہی ا?پ ہم سے رخصت ہوئے ہوں۔ ا?پ کی ا?واز، ا?پ کی مسکراہٹ، ا?پ کی محبت اور ا?پ کا خلوص ا?ج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو ایک محدود وقت کے لیے دنیا میں بھیجا ہے، مگر کچھ لوگ اپنی مختصر زندگی میں ایسا نقوش چھوڑ جاتے ہیں کہ ان کی یادیں نسلوں تک زندہ رہتی ہیں۔ میرے بھائی بھی انہی خوش نصیب انسانوں میں شامل تھے جنہوں نے دولت یا شہرت سے نہیں بلکہ اپنے حسنِ اخلاق، شرافت اور انسان دوستی سے لوگوں کے دل جیتے۔
    میرے بھائی محکمہ پولیس میں تقریباً بیس سال سے زائد تک نہایت ایمانداری، دیانت داری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ خدمات انجام دیتے رہے۔ میرے بھائی نے اس پیشے کو صرف ملازمت نہیں سمجھا بلکہ ایک ذمہ داری اور امانت جان کر نبھایا۔

    میں نے ہمیشہ انہیں اپنے فرائض کی ادائیگی میں سنجیدہ، وقت کا پابند اور اصولوں کا احترام کرنے والا پایا۔ وہ کبھی اپنے عہدے پر فخر نہیں کرتے تھے بلکہ عاجزی کو اپنی پہچان بنائے رکھے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جو بھی ان سے ملتا، ان کے اخلاق کا گرویدہ ہو جاتا۔
    لیکن اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ میرے بھائی کی سب سے بڑی پہچان کیا تھی تو میرا جواب ہوگا’ان کا کردار‘ وہ شریف النفس، نرم مزاج اور ملنسار انسان تھے۔ ان کی زبان سے کبھی کسی کے لیے تلخ الفاظ نہیں سنے۔ وہ ہر چھوٹے بڑے سے محبت اور احترام سے پیش ا?تے تھے۔ ان کی شخصیت میں غرور نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتے تھے اور حتیٰ المقدور ہر ایک کی مدد کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

    رسول اکرم ? نے فرمایا:
    تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں۔ (صحیح بخاری)

    بھائی جان! ا?پ صرف میرے بڑے بھائی نہیں تھے، بلکہ میرے بہترین دوست بھی تھے۔ بچپن کی کتنی ہی یادیں ا?ج بھی ذہن میں تازہ ہیں۔ ا?پ کا ہاتھ پکڑ کر چلنا، میری غلطیوں پر شفقت سے سمجھانا، میرے لیے فکر مند رہنا اور ہر مشکل وقت میں میرا حوصلہ بڑھانا، یہ سب ایسے لمحے ہیں جو کبھی فراموش نہیں ہو سکتے۔
    زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے پیاروں کی قدر ان کے ہوتے ہوئے پوری طرح نہیں کر پاتے، لیکن جب وہ ہم سے جدا ہو جاتے ہیں تو ان کی ہر بات، ہر نصیحت اور ہر مسکراہٹ دل میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتی ہے۔ ا?ج جب کبھی کسی مسئلے کا سامنا ہوتا ہے تو بے اختیار دل کہتا ہے: کاش بھائی جان ا?ج ہوتے، ضرور کوئی بہتر راستہ بتاتے۔

    علامہ اقبال? نے کہا تھا:
    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
    ہر گھر میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی موجودگی اس گھر کی رونق ہوتی ہے۔ میرے بھائی بھی ہمارے گھر کی ایسی ہی رونق تھے۔ ان کی موجودگی سے گھر میں سکون، محبت اور اپنائیت کا احساس رہتا تھا۔
    ا?پ کی وفات 21 جولائی 2024 کو ہوئی۔ وہ دن ہماری زندگی کا شاید سب سے کٹھن دن تھا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے ہمارے گھر کا ایک مضبوط ستون اچانک گر گیا ہو۔ امی کی ا?نکھوں میں ا?ج بھی ا?پ کی یاد کے ا?نسو ہیں۔ ا?پ کی اہلیہ، ا?پ کی پیاری بیٹی اور ا?پ کا بیٹا اور باقی گھر والے ا?ج بھی ا?پ کی محبت اور شفقت کو شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ ہم سبھی جب بھی کبھی اکٹھے بیٹھتے ہیں تو ا?پ کا ذکر ضرور ا?تا ہے، اور دل خاموشی سے ا?پ کے لیے دعا کرنے لگتا ہے۔
    مرزا غالب نے کہا تھا
    رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
    مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ ا?ساں ہو گئیں

    لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ رنج ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ کم تو ہو جاتے ہیں، مگر ختم کبھی نہیں ہوتے۔ بھائی کی جدائی بھی انہی غموں میں سے ایک ہے۔میرے بھائی نے ہمیں ایک قیمتی سبق دیا کہ انسان کی اصل عزت اس کے اخلاق میں ہے۔ دولت، عہدہ اور شہرت سب عارضی چیزیں ہیں، لیکن اچھا کردار ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ ا?ج جب بھی کوئی ان کا ذکر کرتا ہے تو سب سے پہلے ان کی شرافت، ان کی نرم طبیعت اور ان کے حسنِ سلوک کی تعریف کرتا ہے۔ اس سے بڑی کامیابی کسی انسان کے لیے اور کیا ہو سکتی ہے؟

    قرا?نِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں۔
    ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے میرے بھائی کی نیکیوں کو قبول فرمائے گا، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے گا اور انہیں اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔بھائی جان! اگر ا?پ ا?ج ہمارے درمیان ہوتے تو شاید ہم ا?پ کی دوسری برسی نہ منا رہے ہوتے بلکہ ا?پ کے ساتھ بیٹھ کر زندگی کی باتیں کر رہے ہوتے۔ لیکن اللہ کی رضا کے سامنے ہر سر جھک جاتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ دنیا کی یہ جدائی ہمیشہ کی جدائی نہیں۔ اگر اللہ نے چاہا تو جنت میں دوبارہ ملاقات ہوگی، جہاں نہ کوئی غم ہوگا، نہ جدائی، نہ ا?نسو اور نہ ہی فراق۔
    ا?ج ا?پ کی دوسری برسی کے موقع پر میں، ا?پ کے چھوٹے بھائی، اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہیں کہ وہ ا?پ کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، اس میں نور بھر دے، ا?پ کے درجات بلند فرمائے، ا?پ کی تمام خطاﺅں کو معاف فرمائے اور ا?پ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔میں یہ بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہماری والدہ محترمہ کو صبر و صحت عطا فرمائے، ا?پ کی اہلیہ، بیٹے اور بیٹی اور باقی خاندان کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور انہیں ا?پ کے لیے بہترین صدقہ جاریہ بنائے۔ا?مین
    ا?خر میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ بھائی جان! ا?پ ہم سے دور ضرور ہیں، مگر ہمارے دلوں سے کبھی دور نہیں ہو سکتے۔ ا?پ کی یاد ہمارے لیے ایک قیمتی امانت ہے۔ ہم ہر دعا میں ا?پ کو یاد رکھتے ہیں، ہر قرا?ن خوانی میں ا?پ کے لیے ایصالِ ثواب کرتے ہیں اور ہر خوشی کے موقع پر ا?پ کی کمی شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ا?پ کی مسکراہٹ، ا?پ کی شفقت، ا?پ کی نصیحتیں اور ا?پ کا خلوص ہمیشہ ہماری زندگی کا سرمایہ رہیں گے۔
    اللہ تعالیٰ ا?پ پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے، ا?پ کی قبر کو نور سے بھر دے، ا?پ کو جنت الفردوس میں انبیائ ، صدیقین، شہدائ اور صالحین کی رفاقت عطا فرمائے۔

    ا?مین یا رب العالمین

    ا?پ کا چھوٹا بھائی
    رخسار بشیر نائیکو

  • بانڈی پورہ میں پانی میںبہہ جانے کے بعد کمسن بیٹے کی نعش بر آمد ، والدہ کی تلاش جاری

    بانڈی پورہ میں پانی میںبہہ جانے کے بعد کمسن بیٹے کی نعش بر آمد ، والدہ کی تلاش جاری

    مسلسل بارشوں کے باعث ضلع بانڈی پورہ میں اچانک آنے والے سیلابی ریلے کے دوران لاپتہ ہونے والے 14 سالہ لڑکے کی لاش برآمد کر لی گئی، جبکہ اس کی والدہ کی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے۔

    حکام نے بتایا کہ لڑکے کی لاش گزر بل علاقے میں ایک نالے سے برآمد کی گئی، جس کے بعد اسے قانونی و طبی کارروائی کے لیے ضلع اسپتال بانڈی پورہ منتقل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بچے کی شناخت عامر کٹھانہ ولد مرحوم محبوب کٹھانہ ساکنہ بونی بل ٹنگاتھ بانڈی پورہ کے بطور ہوئی حکام کے مطابق عامر اپنی والدہ گڈی بیگم کے ہمراہ نالے میں بہہ کر آنے والی لکڑیاں جمع کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
    اسی دوران بالائی علاقوں میں موسلا دھار بارش کے باعث اچانک آنے والے شدید سیلابی ریلے نے دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں وہ تیز بہاو¿ میں بہہ گئے۔

    انہوں نے کہا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، سول انتظامیہ اور مقامی رضاکاروں نے بڑے پیمانے پر سرچ اور ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد بدھ کے روز عامر کی لاش گزر بل کے قریب نالے سے برآمد ہوئی، تاہم اس کی والدہ گڈی بیگم کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

  • خراب موسمی صورتحال :کشمیر یونیورسٹی کی جانب سے کل لئے جانے والے امتحانات ملتوی

    خراب موسمی صورتحال :کشمیر یونیورسٹی کی جانب سے کل لئے جانے والے امتحانات ملتوی

    کشمیر یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 23 جولائی کو منعقد ہونے والے تمام یونیورسٹی امتحانات آئندہ اطلاع تک ملتوی رہیں گے۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ملتوی کیے گئے امتحانات کے انعقاد کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں علیحدہ نوٹس کے ذریعے کیا جائے گا۔حکنامہ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ خراب موسمی صورتحال کے پیش نظر یہ فیصلہ طلبہ کے مفاد اور احتیاطی تدابیر کے تحت کیا گیا ہے۔

    یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ امتحانات کی نئی تاریخوں اور دیگر تازہ معلومات کے لیے یونیورسٹی کی جانب سے جاری ہونے والے سرکاری نوٹیفکیشن پر نظر رکھیں۔

  • دریائے جہلم میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے کافی نیچے / محکمہ فلڈ کنٹرول

    دریائے جہلم میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے کافی نیچے / محکمہ فلڈ کنٹرول

    محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول کا کہنا ہے کہ مسلسل بارشوں کے باوجود دریائے جہلم میں پانی خطرے کی سطح سے کافی نیچے ہیں ۔ محکمے کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ رام منشی باغ گیج اسٹیشن پر دریائے جہلم کی موجودہ سطح 7.91 فٹ جبکہ سنگم گیج اسٹیشن پر 5.54 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جو سیلابی خطرے کی حد سے کافی کم ہے۔انہوں نے کہا کہ رام منشی باغ میں وارننگ لیول 18 فٹ جبکہ خطرے کی سطح 21 فٹ مقرر ہے۔

    اسی طرح سنگم میں وارننگ لیول 21 فٹ اور خطرے کی سطح 25 فٹ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور دریائے جہلم میں پانی کی سطح سیلاب کے خدشے سے کہیں نیچے ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگرچہ وادی کے مختلف علاقوں میں مسلسل بارشیں جاری ہیں، تاہم محکمہ فلڈ کنٹرول دریائے جہلم اور دیگر آبی ذخائر کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام متعلقہ ادارے چوبیس گھنٹے نگرانی کر رہے ہیں۔

  • کل سے موسم میں بتدریج بہتری آنے کا امکان / سونم لوٹس

    کل سے موسم میں بتدریج بہتری آنے کا امکان / سونم لوٹس

    معروف ماہر موسمیات سونم لوٹس نے کہا کہ جموں کشمیر میں آئندہ 24گھنٹے موسمی لہذ سے انتہائی حساس ہے ۔ سونم لوٹس نے کہا کہ موجودہ بارشوں کا سلسلہ جموں و کشمیر کے کئی علاقوں میں غیر معمولی حد تک شدید رہا ہے، تاہم سرینگر اور جنوبی کشمیر کے متعدد علاقوں میں دیگر اضلاع کے مقابلے میں نسبتاً کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔انہوں نے کہا” آئند ہ 24گھنٹے ابھی بھی نہایت اہم ہے۔

    عوام احتیاط برتیں، غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور سرکاری ایڈوائزری پر مکمل عمل کریں۔ ہماری توقع ہے کہ کل سے موسم میں بہتری شروع ہو جائے گی“۔ماہر موسمیات کے مطابق موجودہ شدید بارشوں کی بنیادی وجہ فعال مانسون سسٹم اور بحیرہ عرب سے آنے والی نمی ہے، جس کے باعث جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں موسلادھار بارش ہوئی اور کئی مقامات پر سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔

    سونم لوٹس نے کہا کہ بادل پھٹنے اور اچانک آنے والے سیلاب ہمالیائی خطے میں کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں۔ ان کے مطابق ایسے واقعات صرف جموں و کشمیر ہی نہیں بلکہ لداخ اور ہماچل پردیش میں بھی پیش آتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بہت زیادہ بارش ہوتی ہے تو پانی قدرتی راستوں سے بہنے کی کوشش کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

  • اننت ناگ واقعہ : لیفٹنٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ کی مذمت ، لواحقین سے تعزیت

    اننت ناگ واقعہ : لیفٹنٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ کی مذمت ، لواحقین سے تعزیت

    اننت ناگ میں دہشت گردوں کے حملے میں جموں و کشمیر پولیس کے تیسری بٹالین انڈیا ریزرو پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی کی ہلاکت پر لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے جاں بحق پولیس اہلکار کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی ہرگز رائیگاں نہیں جائے گی اور اس بزدلانہ حملے میں ملوث دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچایا جائے گا۔

    لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ انہوں نے واقعے کے فوراً بعد ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلین پربھات سے بات کر کے مجموعی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔انہوں نے کہا کہ ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ انہوں نے شہید کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پورا ملک اس غم کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

    لیفٹنٹ گورنر نے اپنے بیان میں کہا کہ اننت ناگ کا یہ بزدلانہ دہشت گرد حملہ قابل مذمت ہے اور اس گھناو¿نے جرم میں ملوث عناصر کو کسی بھی صورت بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جموں و کشمیر پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز پوری مستعدی کے ساتھ کارروائی میں مصروف ہیں اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا۔دریں اثنا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں اپنی جان قربان کر کے فرض شناسی اور بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ اس المناک واقعے پر انتہائی افسردہ ہیں اور جاں بحق پولیس اہلکار کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا یہ بزدلانہ حملہ نا قابل برداشت ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔عمر عبداللہ نے شہید کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ عاشق حسین قریشی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔

  • اننت ناگ میں تلاشی آپریشن کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ،پولیس اہلکار جاں بحق ، تلاشی آپریشن جاری

    اننت ناگ میں تلاشی آپریشن کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ،پولیس اہلکار جاں بحق ، تلاشی آپریشن جاری

    جنوبی ضلع اننت ناگ کے کوکرناگ روڈ پر اس وقت سنسنی کا ماحول پھیل گیا جب سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان ہونے والی مختصر مگر شدید فائرنگ کے تبادلے میں جموں و کشمیر پولیس ایک سنیئر اہلکار جاں بحق ہو گیا جبکہ علاقے میں بڑے پیمانے پر محاصرہ اور تلاشی آپریشن بدستور جاری ہے۔ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے کے بعد آرا علاقے میں انسداد دہشت گردی آپریشن شروع کیا۔
    تلاشی آپریشن کے دوران جیسے ہی سیکورٹی فورسز کا دہشت گردوں سے آمنا سامنا ہوا تو دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کردی، جس کا فورسز نے مو¿ثر انداز میں جواب دیا۔ایک سینئر پولیس افسر نے کو بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران جموں و کشمیر پولیس کے اہلکار عاشق حسین شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔

    پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور مزید کمک بھی موقع پر طلب کر لی گئی ہے۔ دہشت گردوں کی تلاش کیلئے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ علاقے میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ادھر واقعہ کے بعد ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلین پربھات اور خصوصی ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ایس جے ایم گیلانی نے ضلع اننت ناگ کے لالچوک علاقے کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے حالیہ دہشت گردانہ حملے کے بعد پیدا شدہ سیکورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈی جی پی کے ہمراہ پولیس کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔