جموں :سرمائی دارلحکومت جموں میں جاری طویل ترین بجت اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کے ممبران نے منگل کے روز ایوان اسمبلی سے احتجا جاً واک آﺅٹ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ26جنوری کے پیش نظر وادی کشمیر کو جیل خانے میں تبدیل کیا گیا ہے ۔
تعمیل ارشادکے نامہ نگار کی جانب سے موصولہ تفصیلات کے مطابق منگل کے روز جونہی ایوان اسمبلی کی کارروائی ٹھیک دس بجے شروع ہوئی ،تو اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کے ممبر اسمبلی اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور انہوں نے وادی کشمیر میں تلاشی کارروائیوں میں لائی گئی شدت ،26جنوری کے پیش مبینہ طور لوگوں کو حراساں کرنے کے معاملے پر سرکار کو گھیرتے ہوئے اپنا احتجاج ایوان ِ اسمبلی میں درج کیا ۔
نیشنل کانفرنس کے ممبران نے یک زبان ہو کر کہا کہ یوم جمہوریہ کے پیش نظر نہ صرف وادی کشمیر کو جیل خانے میں تبدیل کیا گیا بلکہ بقول اُنکے تلاشی کارروائیوں کی آڑ میں عام لوگوں کو حراساں کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری فورسز اہلکارلوگوں کو خوامخواہ تنگ وطلب کررہے ہیں ۔
نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور ممبر اسمبلی خانیار علی محمد ساگر نے کہا ‘کشمیر جیل خانے میں تبدیل کیا گیا ہے ،لوگوں کو کیوں حراساں کیا جارہا ہے ؟‘۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں لوگوں کو گھروں سے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔
بعد ازاں نیشنل کانفرنس کے ممبران اسمبلی نے احتجا جاً ایوان سے واک آﺅٹ کیا ۔

