جموں :اپوزیشن جماعت کانگریس کے ممبران اسمبلی نے منگل کے روز ایوان اسمبلی سے سرحدی کشیدگی اور ہلاکتوں کے واقعات پر احتجاجا ً واک آﺅٹ کیا ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ۔
نمائندے کے مطابق ریاستی اسمبلی کے اسپیکر جونہی ایوان اسمبلی میں داخل ہوئے اور اپنی نشست پر براجمان ہوئے ،تو کانگریس کے ممبران اسمبلی اپنی نشستوں پر کھڑے ہوئے ،جنہوں نے سرکار کو سرحدی کشیدگی اور ہلاکتوں کے واقعات پر گھیر لیا ۔
کانگریس کے ممبران نے بتایا کہ پاکستانی فوج کی مسلسل فائرنگ اور ماٹر شلنگ کے نتیجے میں انسانی جانوں کا اتلاف ہورہا ہے اور حکومت ہاتھ پر ہاتھ درے بیٹھی ہے ۔ان کا کہناتھا کہ جمعرات سے اب تک حد متارکہ سے لیکر بین الاقوامی سرحد پر آر پار آتشی گولہ باری کے سبب 12شہری ازجان ہوئے اور 100سے زیادہ زخمی ہوئے ۔سینکڑوں کی تعداد میوشی ہلاک اور40ہزار کے قریب افراد ترک سکونت اختیار کرچکے ہیں ،ریاستی ومرکزی حکومتیں کہاں ہیں ؟
بی جے پی کے ممبران نے ریاستی صدر ست پال شرما کے ساتھ پاکستان کے خلاف نعرہ بازی کی جبکہ پی ڈی پی کے ممبران اپوزیشن کے ممبران کو ماننے میں مصروف عمل تھے ۔کانگریس کے سینئر لیڈر نوانگ رگزن جورا نے حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مرکز کی ”متضاد پالیسی “ کے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا ’ریاستی اور مرکز کی سرکاریں تضاد کی شکار ہیں ‘۔
سرحدی ہلاکتوں پر احتجاج کرتے ہوئے کانگریس کے ممبران نے بی جے پی ہائی ہائی اور نالائک سرکار ہائی ہائی ،آ ر ایس ایس ہائی ہائی جیسے نعرے بلند کئے ۔انہوں نے کہا کہ مخلوط ریاستی حکومت خود افراتفری اور آپسی جھگڑیں ملوث ہے ۔ان کا کہناتھا ایک ایسی صورتحال میں جب ریاستی اور مرکزکی سرکاریں مستحکم نہیں ہیں ،پاکستان اپنے فائدے کےلئے سرحدوں پر ماٹر شلنگ کررہا ہے ۔
این سی لیڈران و ممبران اسمبلی نے کانگریس کے احتجاجی ممبران کا ساتھ دیا ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں سرکار ناکام رہی ۔ممبر اسمبلی عید گاہ مبارک گل نے کہا کہ حکومت کو ممبران اسمبلی کی ایک ٹیم سرحدوں علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لےنے کےلئے بھیجنی چاہئے ۔
این سی لیڈر علی محمد ساگر نے بی جے پی ممبران کے اسمبلی کی جانب سے سرحدی کشیدگی کے معاملے پر دئے گئے بیان پر حیرانگی کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ ریاستی حکومت سرحدی کشیدگی کے معاملے کو سیاسی رنگ میں رنگ رہی ہے جبکہ ہر روز شہریوں کی موت ہوتی ہے ۔بعد ازاں اپوزیشن کے ممبران نے ایوان سے احتجاجاً واک آﺅٹ بھی کیا ۔

