سرحدپارجنگجوﺅں کے تربیتی مراکزمتحرک :راج ناتھ سنگھ

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
Vasco: Home Minister Rajnath Singh with Defence Minister Manohar Parrikar and DG, Indian Coast Guard Rajendra Singh addresses the media after commissioning of the OPV Sarathi at Goa Shipyard Ltd. Vasco on Friday. PTI Photo (PTI9_9_2016_000195A)

سری نگر:سرحدپارجنگجوﺅں کے تربیتی مراکزمتحرک ہونے کادعویٰ کرتے ہوئے مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے الزام لگایاکہ پاکستان کشمیری نوجوانوں کوبھارت مخالف سرگرمیوں کیلئے اُکسانے میں سرگرم ہے ۔راجناتھ سنگھ نے جموں وکشمیرمیں مذاکراتی عمل شروع ہونے پراطمینان ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ سیکورٹی فورسزکشمیرمیں حالات پرقابوپانے کیلئے موثرحکمت کیساتھ آگے بڑھ رہے ہیں ۔

نئی دہلی میںڈی جی پی اور آئی جی پی کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ پاکستان اور پاکستانی زیرانتظام کشمیر میں تربیتی کیمپ ، لانچ پیڈ اور ٹیلی مواصلات اسٹیشن کی شکل میں دہشت گردی کا ڈھانچہ برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک(پاکستان) جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کیلئے مالی معاونت سمیت سبھی طرح کی مدد دستیاب کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا ڈھانچہ برقرار ہے اور پڑوسی ملک جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو ہندوستان کے خلاف اُکسانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔تاہم راجناتھ سنگھ نے جموں وکشمیرمیں مذاکراتی عمل شروع ہونے پراطمینان ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ سیکورٹی فورسزکشمیرمیں حالات پرقابوپانے کیلئے موثرحکمت کیساتھ آگے بڑھ رہے ہیں ۔

انہوں نے ملک کے سرکردہ پولیس افسروں کو فسادات اور مذہبی مقامات کی بے حرمتی کے معاملہ میں سخت کارروائی کرنے کی بھی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو ہندوستان کے خلاف بھڑکایا جارہا ہے۔مرکزی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ملک میں فرقہ وارانہ فسادات میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے سینئر پولیس افسروں کو اس طرح کے واقعات اور مذہبی مقامات کی بے حرمتی کے معاملات میں سختی سے نمٹنے کی بھی ہدایت دی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے