مرکزکی مذاکراتی پہل کے تئیں مین اسٹریم جماعتوں کی عدم دلچسپی

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
Shri Dineshwar Sharma, former Director of Intelligence Bureau, calling on the Union Home Minister, Shri Rajnath Singh, after being appointed as the Representative of Government of India to initiate dialogue in Jammu and Kashmir, in New Delhi on October 23, 2017.

سری نگر: ”مرکزکی مذاکراتی پہل کے تئیں مین اسٹریم جماعتوں کی عدم دلچسپی“کاانکشاف ہواہے کیونکہ ” مذاکراتکاردنیشورشرماسے تین دوروں کے دوران صرف 6ممبران اسمبلی ہی ملاقی ہوئے ہیں ،جن میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی اورسابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ بھی شامل ہیں ۔

سیاسی تجزیہ نگارکہتے ہیں کہ قیام امن اورکشمیرمسئلے کاحل تلاش کرنے کامشن لیکرنکلے مرکزی مذاکارتکارکے سامنے ابتک پی ڈی پی یانیشنل کانفرنس نے سیلف رول یااندرونی خودمختاری کاخاکہ نہ رکھناحیران کن ہے جبکہ دونوں علاقائی جماعتیں اپنے ان فارمولوں کوہی مسئلہ کشمیرکاحل قراردیتی ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ اگرمنتخب عوامی نمائندے آگے آتے تومذاکرات کارکوانفرادی اورعلاقائی مسائل کی شکایت لیکرآنے والے وفودکیساتھ مغزخفائی نہیں کرنی پڑتی ۔

مرکزی سرکارنے ماہ اکتوبرکی23تاریخ کو انٹلی جنس بیوروکے سابق سربراہ دنیشورشرماکوجموں وکشمیرکیلئے بطورمذاکرات کارنامزد کیا تھا،اوراُنکی نامزدگی کااعلان مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے نئی دہلی میں بلائی گئی ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران کیاتھا۔مذاکرات کارنے 6نومبرکوسری نگرپہنچ کراپنے مشن کشمیر کا آغاز کیا تھا ،اوریہاں تین روزتک قیام کے دوران انہوں سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ سمیت کچھ اپوزیشن لیڈروں اورلگ بھگ پچاس وفودکیساتھ نہرﺅگیسٹ ہاﺅس میں ملاقات کی تھی تاہم یہاں قیام کے دوران کوئی بھی مزاحمتی لیڈراُن سے ملنے نہیں آیاجبکہ کچھ مزاحمتی لیڈران کے چورے چھپے دنیشورشرماسے ملاقات کئے جانے کی افواہیں بھی ہوئی تھیں ۔

25نومبر سے مذاکرات کارنے دوسری مرتبہ کشمیرکادورہ کیا،اوراس مرتبہ اُنکی توجہ کامرکزجنوبی کشمیررہا،جہاں انہوں نے پلوامہ اوراسلام آبادمیں مختلف وفودکیساتھ تبادلہ خیال کیا۔6اور25نومبرکوکئے اپنے دوروں کے دوران دنیشورشرمانے جموں کادورہ بھی کیا،اوروہاں بھی انہوں نے درجنوں سیاسی وغیرسیاسی وفودکیساتھ مختلف نوعیت کے مسائل زیرغورلائے ۔جبکہ25 اور 26 دسمبر 2017 کو مذاکراتکاردنیشورشرمانے سرحدی قصبہ کپوارہ اورشمالی قصبہ بارہمولہ کادورہ کرکے یہاں ڈاک بنگلوں میں درجنوں سیاسی وغیرسیاسی وفودکیساتھ کشمیرکی صورتحال اورکشمیری عوام کے مختلف مطالبات ومسائل کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔ جسکے بعدوہ حسب سابقہ جموں پہنچے اوریہاں وزیراعلیٰ کے علاوہ ریاستی گورنرکیساتھ بھی تبادلہ خیال کیا۔اب جبکہ مذاکرات کار15 جنوری کواپنے چوتھے دورے پرآرہے ہیں تواب تک موصوف کے تین دوروں کے ماحاصل کاسیاسی تجزیہ نگاراپنے اندازمیں جائزہ لے رہے ہیں ۔

سیاسی تجزیہ نگاراورکشمیرکی صورتحال پرگہری نگاہ رکھنے والوں کامانناہے کہ جب جب مرکزی سرکارنے جموں وکشمیرکیلئے کسی مذاکراتکاریامصالحت کارکی نامزدگی عمل میں لائی تومین اسٹریم جماعتوں کے لیڈراورسیول سوسائٹی کارکن دورے دوڑے ایسے مذاکراتکاروں یامصالحت کاروں سے ملنے پہنچ جاتے تھے لیکن حیران کن طورپرموجودہ مذاکرات کارکے تئیں مین اسٹریم جماعتوں نے ابتک جسقدرسردمہری کامظاہرہ کیاہے ،اُس کااندازہ اسبات سے لگایاجاسکتاہے کہ اب تک مذاکراتکارتین تین مرتبہ کشمیراورجموںکادورہ کرچکے ہیں لیکن 87رکنی ریاستی اسمبلی کے کل ملاکرصرف 6ممبران اسمبلی بشمول وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی ،سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ ،سی پی آئی ایم کے ریاستی سیکرٹری محمدیوسف تاریگامی ،سابق وزیرحکیم محمدیاسین ،ممبراسمبلی لنگیٹ انجینئررشیداوربھاجپاکی ریاستی شاخ کے صدرست شرماہی دنیشورشرماسے ملے ہیں ۔

جبکہ قانون سازکونسل کے ایک بھاجپارُکن اوراسی جماعت کے ممبرپارلیمنٹ شمشیسرسنگھ منہاس بھی مذاکراتکارسے جموں میں ملاقی ہوئے ۔سیاسی تجزیہ نگارکہتے ہیں کہ قیام امن اورکشمیرمسئلے کاحل تلاش کرنے کامشن لیکرنکلے مرکزی مذاکارتکارکے سامنے ابتک پی ڈی پی یانیشنل کانفرنس نے سیلف رول یااندرونی خودمختاری کاخاکہ نہ رکھناحیران کن ہے جبکہ دونوں علاقائی جماعتیں اپنے ان فارمولوں کوہی مسئلہ کشمیرکاحل قراردیتی ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ اگرمنتخب عوامی نمائندے آگے آتے تومذاکرات کارکوانفرادی اورعلاقائی مسائل کی شکایت لیکرآنے والے وفودکیساتھ مغزخفائی نہیں کرنی پڑتی ۔غورطلب ہے کہ اپنے تین دوروں کے دوران مذاکراتکاردنیشورشرمانے سری نگر،پلوامہ ،اننت ناگ ،کپوارہ اوربارہمولہ میں لگ بھگ200سیاسی اورغیرسیاسی وفودکیساتھ الگ الگ میٹنگیں کیں لیکن کسی ایک بھی وفدکی قیادت کوئی ممبراسمبلی نہیں کررہاتھاجبکہ سیاسی تجزیہ نگارکہتے ہیں کہ ممبران اسمبلی کیلئے یہی موقعہ تھاکہ وہ اپنے منتخب عوامی نمائندے ہونے کاثبوت فراہم کرنے کیساتھ ساتھ کشمیرسے جڑے مختلف نوعیت کے مسائل اورمشکلات کومذاکراتکارکے ذریعے مرکزی سرکارکے اعلیٰ ذمہ داروں تک پہنچاسکتے تھے ۔کے این ایس

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے