شبانہ درجہ حرارت میں مسلسل گراﺅٹ،سرینگر میں رات کا درجہ حرارت منفی6.1ڈگری ریکارڈ

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

شوکت ساحل

سری نگر: جموں وکشمیر کے تینوں خطوں میںمتواتر بنیادوں پر شبانہ درجہ حرارت میں گراﺅٹ ریکارڈ کی جارہی ہے ۔ وادی کشمیر اور خطہ لداخ میں ہر ایک جگہ پر رات کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دونوں خطوں میں بیشتر آبی ذخائر اور پینے کے پانی کی سپلائی لائنیں منجمند ہورہی ہیں۔

گرمائی دارالحکومت سری نگر میں منفی 6.1ڈگری کے ساتھ رواں موسم میں اب تک کی سرد ترین رات ریکارڈ کی گئی ہے۔ منفی درجہ حرارت کے باعث سری نگر میں سیاحوں کی تفریح کے مرکز شہرہ آفاق ڈل جھیل اور اس سے ملحقہ ندی نالوں بشمول ژونٹ کول کو پیر کی صبح جزوی طور پر منجمند پایا گیا۔ تاہم دن کے وقت اچھی خاصی دھوپ کھلی رہنے کے سبب آبی ذخائر کے منجمند حصے تیزی سے پگھل گئے۔

دوسری جانب خطہ لداخ اور جموں میں بھی شدید شبانہ سردی پائی جارہی ہے۔ سرمائی دارالحکومت جموں میں کم سے کم درجہ حرارت 4 ڈگری ریکارڈ کیا۔ بانہال، بٹوٹ اور کٹرہ ٹاون میں شبانہ درجہ حرارت بالترتیب 2 اعشاریہ 6 ڈگری، ایک اعشاریہ 9 ڈگری اور 5 ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان نے بتایا کہ موجودہ موسمی صورتحال اگلے 48 گھنٹوں کے دوران برقرار رہ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’مطلع صاف رہنے کی وجہ سے کم سے کم درجہ حرارت میں گراو¿ٹ آرہی ہے۔ اگلے 48 گھنٹوں کے دوران موسم مجموعی طور پر خشک اور سرد رہے گا۔ خشک موسم کا سلسلہ 12 جنوری تک جاری رہ سکتا ہے‘۔

وادی کے شمال و جنوب میں واقع مشہور سیاحتی مقامات گلمرگ اور پہلگام میں گذشتہ رات کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب منفی10 اعشاریہ 5 ڈگری اور منفی 8 اعشاریہ1 ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تاہم شدید سردی کے باوجود دونوں مقامات پر ان دنوں ملکی و غیرملکی سیاحوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔

گیٹ وے آف کشمیر کہلائے جانے والے قاضی گنڈ، سیاحتی مقام ککر ناگ اور شمالی ضلع کپواڑہ میں گذشتہ رات کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب منفی 5 اعشاریہ 8 ڈگری، منفی 4 اعشاریہ2 اور منفی5 اعشاریہ 5 ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے۔

خطہ لداخ جہاں بیشتر آبی ذخائر گذشتہ قریب ایک ماہ سے منجمند پڑے ہوئے ہیں، میں شدید سردی کا راج بدستور برقرار ہے۔ خطہ کے سرحدی قصبہ کرگل اور لیہہ میں گذشتہ رات کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب منفی 18 اعشاریہ 5 اور منفی 17 اعشاریہ 3 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔

محکمہ موسمیات کے ترجمان نے بتایا کہ سری نگر میں گذشتہ رات منفی 6.1 ڈگری کے ساتھ رواں موسم میں اب تک کی سرد ترین رات ریکارڈ کی گئی۔ ڈل جھیل کو پیر کی صبح ایک بار پھر جزوی طور پر منجمند پایا گیا۔ اگرچہ اچھی خاصی دھوپ کھلنے کے بعد منجمند حصے پگھل گئے، تاہم ڈل کے اندرونی حصے بدستور منجمند پڑے ہوئے ہیں۔

ادھرجموں میں رات کے درجہ حرارت میں گراﺅٹ ریکارڈ کی جارہی ہے۔جموں میں کم ازکم درجہ حررات4.3،کٹرا میں5ڈگری،بٹوت میں 1.6،بانہال میں 0.8ڈگری ، ضلع ڈوڈہ کے سیاحتی مقام بھدرواہ میں گذشتہ رات کم سے کم درجہ حرارت منفی ایک اعشاریہ 8 ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ ادھمپور میں کم ازکم درجہ حرارت صفر ریکارڈ کیا گیا ۔

منفی درجہ حرارت کے باعث سری نگر اور وادی کے دوسروں حصوں میں پینے کے پانی کی سپلائی متاثر ہورہی ہے۔ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ وادی کے بیشتر حصوں میں اتوار کی صبح پینے کے پانی کی سپلائی لائنوں کو منجمند پایا گیا۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ منفی درجہ حرارت سے درپیش آنے والے مشکلات کے باوجود صارفین کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ تعمیل ارشاد کے ایک نامہ نگار جس نے پیر کی صبح ڈل جھیل کا دورہ کیا، نے ڈل کے اندرونی علاقوںمیں شکارہ والوں کو یخ کی پرت توڑ کر شکاروں کے لئے جگہ بناتے ہوئے دیکھا گیا۔

ڈل جھیل 1965 میں پہلی بار مکمل طور پر منجمند ہوگئی تھی جب ایک جیپ اس کے اوپر دوڑی تھی۔ بعد میں 1986 میں پھر ایک بار یہ مشہور جھیل مکمل طور پر منجمند ہوگئی تھی اور مقامی لوگوں و سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گئی تھی جو جھیل کے بیچوں تصاویر لے رہے تھے جبکہ بچے ہاکی کھیلتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے