سرینگرپونچھ : ہند پاک کے درمیان سیاسی ،سفارتی اور سرحدی کشیدگی دن بہ دن شدت اختیار کرتی جارہی ہے کیو نکہ صوبہ جموں ایک ہفتے سے جاری آر پار آتشی گولہ باری کا سلسلہ جمعرات کو بھی جاری رہا ۔پونچھ سیکٹر میں جمعرات کی علی الصبح فائرنگ اور ماٹر شلنگ کا شدید تبادلہ ہوا ،تاہم اِس میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ادھر حد متارکہ پر پاکستان کے جوابی سرجیکل سٹرائک کے خدشہ کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کیا گیا جبکہ فوج کی تعیناتی بھی بڑھائی گئی ۔
لائن آف کنٹرول پر ایک ہفتے سے تناﺅ وکشیدگی کی صورتحال میں مزید شدت آئی ہے ،کیو نکہ برصغیر کی دوایٹمی طاقتوں کی افواج کے درمیان گولہ باری تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔طرفین کے مابین تازہ گولہ باری کا تبادلہ دیگوار پونچھ سیکٹر میں جمعرات کی علی الصبح پیش آیا ۔
دفاعی ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی فوج نے صوبہ جموں کے ضلع پونچھ کے دیگوار سیکٹر صبح 6بجکر30منٹ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت کی اگلی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی غرض سے فائرنگ کی اور ماٹر گولے بھی داغے ۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی فوج نے شہر ی آبادی والے علاقوں پر بھی گولہ باری کی ،تاہم بھارتی فوج نے اس کا مﺅثر انداز میں جواب دیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی گولہ باری کے باعث اِس پار کوئی جانی ومالی نقصان نہیں ہوا ۔
ڈی ایس پی ہیڈکواٹرس پونچھ شاہد نعیم نے گولہ باری کی تصدیق کی ہے ۔سوموار کو پاکستان نے الزام عائد کیا کہ بھارتی فوج کی جانب سے کی گئی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے راﺅلاکوٹ سیکٹر میں تین پاکستانی فوجی ازجان اور ایک زخمی ہوا ۔
اس سے قبل بھارتی فوج نے کہا تھا کہ پاکستانی فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کے نتیجے میں سنیچر کو ایک میجر سمیت4اہلکار ازجان ہوئے ۔آر پار دونوں ممالک کی افواج کو ہوئے جانی نقصان کے بعد حد متارکہ پر صورتحال انتہائی دھماکہ خیز بنی ہوئی ہے ۔
ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے جوابی سرجیکل سٹرائک کے خدشہ کے پیش نظر بھارتی فوج نے احتیاطاً ایل او سی پر تعیناتی بڑھائی۔رپورٹس کے مطابق پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کے بعد بھارتی فوج نے ایل او سی پر سکیورٹی کے پیش نظر اپنی فوج تعینات کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بھارت کے حفاظتی ترجمان کا حوالہ دےتے ہوئے سرجیکل سٹرائیک کی بات عام ہونے کے بعد پاکستانی فوج نے خود کو مستحکم ثابت کرنے کی کوشش کر تے ہوئے کہا کہ وہ سٹرائیک کے رد عمل میں کبھی بھی حملہ کر سکتی ہے، اس خدشہ کے پیش نظر یہ تعیناتی کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق سرحد پر فوج کی تعیناتی مناسب طور پر ہوئی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں احتیاطی تدابیر کی گئی ہیں، جس میں نقل و حرکت کم کرنا اور محفوظ رہنا شامل ہیں۔ اِن رپورٹس میں ذرائع کا حوالہ دےتے ہوئے مزید بتایا گیا ہے کہ”اس کے پیش نظر انتظامی نقل و حرکت کو کم کر دیا گیا ہے تاکہ ہم بڑے اہداف نہ بن سکیں۔“
تاہم، پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی سرجیکل سٹرائیک کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت کی اپنی عوام کو اطمینان دلانے کی حکمت عملی ہے۔واضح رہے کہ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا بھارتی فوجیوں نے گذشتہ دو روز قبل ایل او سی کو عبور کر کے پاکستان کی فوج پر سرجیکل اسٹرائیک کی تھی اور بھارت کی اس کاروائی میں پاکستان کے تین فوجی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا تھا جبکہ یہ سرجیکل سٹرائیک چار بھارتی جوانوں کی ہلاکت کے ردعمل میں کی گئی تھی۔
یاد رہے کہ بدھ کو بی جے پی ایک سینئر راہنما سبھرامنیم سوامی نے کہا تھا کہ پاکستان سے جنگ ناگزیر ہے، انڈیا جنگ کی تیاری کرے۔ اس حوالے سے میڈیا میں آئی رپورٹس کے مطابق حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رکن پارلیمان اور سابق مرکزی وزیر سبھرامنیم سوامی نے کہا ہے کہ پاکستان سے جنگ ناگزیر ہے اور اس کے چار ٹکڑے کر دینے چاہئے۔
پاکستان میں جاسوسی کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والے انڈین شہری کلبھوشن جادھو سے ان کی اہلیہ اور والدہ کی ملاقات کے تنازعے پر پارلیمینٹ میں ہنگامے کے بعد ایوان سے باہر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سبھرامنیم سوامی نے کلبھوشن کی اہلیہ کے گلے سے منگل س±وتر اتروانے کو ہندوو¿ں کی مقدس کتاب ’مہا بھارت‘ میں ایک اہم کردار دروپدی کو ’بے لباس‘ کرنے سے تعبیر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس’مذہبی توہین‘ کا واحد حل جنگ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ’میں پہلے سے کہتا رہا ہوں کہ انڈیا جنگ کی تیاری کرے۔ پاکستان سے جنگ ناگزیر ہے، اس کے چار ٹکڑے کر دینے چاہئے۔‘سبھرامنیم سوامی اس سے پہلے بھی پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دے چکے ہیں۔

