کارواں امن بس سروس: سال 2018 کے دوران 1014 مسافروں نے ایل او سی کے آرپار سفر کیا

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سری نگر، یکم جنوری : سال 2018کے دوران کاروان امن بس سروس کے ذریعہ پاکستان زیر قبضہ کشمیر سے کم وبیش 799مسافروں نے وادی کا سفر کیا جبکہ کشمیر سے بھی 215مسافروں نے بھی سرحدپار اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کی۔
یو این آئی کو سرکاری ذرائع سے معلوم ہوا کہ پاکستان زیر قبضہ کشمیرکا ایک باشندہ سوموار کو امن پل کو پار کرکےکمان پوسٹ تک پیدل سفر کرنے کے بعد اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کی غرض سے وادی کشمیر میں داخل ہوا۔ وہ اپنے رشتہ داروں سے سنہ 1947 میں تقسیم ملک کے وقت جدا ہوا تھا۔
دوسرا کشمیری باشندہ جو گذشتہ بس کے ذریعہ پاکستان زیر قبضہ کشمیر چلا گیا تھا بھی واپس وطن لوٹا۔
ذرائع نے کہا کہ دو کشمیری باشندوں نےاپنے رشتہ داروں کے ساتھ ملاقات کیلئے سرحد پار کیا جبکہ اس بس میں اُس پار سے کوئی مسافر نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ سال 2018 میں 799 پاکستانی زیر قبضہ کشمیر کے باشندے کاروان امن بس خدمات سے فائدہ اٹھا کرواد ی میں آئے اور اپنے بچھڑے ہوئے رشتہ داروں سے ملاقات کی جبکہ 215کشمیریوں نے بھی بس کے ذریعہ سرحد پار کیا اور اپنے رشتہ دارووں سے ملاقات کی۔

Share This Article