سرینگر: انٹرنیشنل نیوز سیفٹی انسٹیٹیوٹ (آئی این ایس آئی) کے مطابق رواں سال 2017 میں دنیا بھر میں68 صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کو قتل کیا گیا جن میں سے 9خواتین بھی شامل ہیں۔خیال رہے کہ2016 میں 112 صحافیوں کا قتل کیا گیا تھا جن میں 3 خواتین تھیں جبکہ 2015 میں10 خواتین سمیت101 صحافیوں کا قتل کیا گیا تھا۔
آئی این ایس آئی کے ڈائریکٹر ہنناہ اسٹورم کا کہنا تھا کہ گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران یہ مردوں کے مقابلے عورتوں کے قتل کی سب سے زیادہ واقعات ہیں۔2017 میں کچھ انتہائی اہمیت کی حامل قتل ہونے والی خواتین میں کم وال بھی شامل ہیں جنہیں قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کو کوپن ہیگن میں سمندر کے کنارے پھینک دیا گیا تھا۔اس کے علاوہ کرد صحافی شفا گردی، بھارت کی گوری لنکیش، میکسیکو کی جنگ میں ہلاکتوں پر رپورٹ کرنے والی میروسلاوا بریچ شامل ہیں۔
کارڈف اسکول آف جرنلزم کی کتاب’کلنگ دی میسینجر‘جسے آئی این ایس آئی نے ترتیب دیا کے مطابق رواں سال صحافیوں کے لیے5 سب سے خطرناک ممالک میں افغانستان، میکسیکو، عراق، شام اور فلسطین کا نام شمار کیا گیا ہے۔رواں سال صحافیوں کے قتل کے واقعات گزشتہ سال سے کم تھے تاہم 68 افراد میں سے32 افراد کا ایسے ممالک میں قتل کیا گیا جنہیں پر امن قرار دیا جاتا ہے۔
زیادہ تر قتل کے واقعات مقامی صحافیوں میں رونما ہوئے جو وہیں رہتے اور کام کرتے تھے اور انہیں اپنی ہی زمین پر قتل کیا گیا تھا۔رواں سال چار شہری صحافیوں کا قتل کیا گیا جن میں سے تمام کا تعلق شام سے تھا جہاں میڈیا نمائندوں کے لیے کام کرنا سب سے مشکل بتایا گیا ہے۔
آئی این ایس آءکے مطابق 9 واقعات کے ملزمان کی شناخت کرتے ہوئے انہیں حراست میں لیا گیا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔ہنناہ اسٹورم کا کہنا تھا کہ ہم اپنے فرائض سر انجام دیتے ہوئے قتل ہونے والے ہر صحافی کو جنس، قومیت اور مذہب کی تفریق کے بغیر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ رواں سال قتل ہونے والے68 صحافیوں نے اپنے کام کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔

