مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میر واعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ کشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں نہ کسی خاتون کی زندگی محفوظ ہے اور نا ہی کسی بچے بوڑھے کا جوان کی زندگی مامون ہے ۔انہوں نے کہا کہ کپواڑہ کی شہیدہ مصرہ بانو و شہید آصف اقبال‘ آج شوپیا ن میں شہید کی گئی ایک اور خاتون مسماة بیوٹی جان نیز راجستھان میں مارے گئے معصوم کشمیری جوان زاہد احمد بٹ کے بہیمانہ قتل سے ایک بات ثابت ہوجاتی ہے کہ فوج ،فورسز اور پولیس کا واحد کام کشمیریوں کو قتل کرنا ہے جبکہ یہاں کے ہند نواز سیاست کاروں کا کام اس قتل عام کو قانونی جواز فراہم کرنا ہے۔ان کا کہناتھا کہ اس قتل عام کو کشمیری ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرسکتے اور اس کے خلاف کل بدھوار‘مورخہ 20دسمبر کو مکمل ہڑتال کی جائے گی۔موصولہ ایک تحریری بیان کے مطابق فوج، فورسز اور پولیس کے ہاتھوں ‘وادی¿ کشمیر میں جاری قتل عام کو برداشت کے باہر قراردیتے ہوئے مشترکہ قیادت بشمول بزرگ قائد سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ ڈاکٹر محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ بہیمانہ قتل عام کا م کایہ سلسلہ اب حد سے گزر چکا ہے اور کشمیری مزید اس قتل عام کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل ایک خاتون مصرہ بانو کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیا اور کراس فائرنگ کا بہانہ تراش کر اس پر پردہ ڈالنے کی سعی کی گئی۔ کچھ ہی روز گزرے تھے کہ ایک اور معصوم جوان آصف اقبال جو ڈرائیور ی کرکے اپنی روزی روٹی کمارہا تھا کو بھی یہی مفروضہ تراش کر گولیوں سے بھون دیا گیا۔ابھی ان دونوں معصومین کا لہو تروتازہ ہی تھا کہ شوپیان میں ایک اور جوان سال خاتون مسماة بیوٹی جان زوجہ منظور احمد میر سفاک فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بنائی گئی اور کئی دوسرے لوگوں کو گولیاں مار کر مجروح کردیا گیا جن میں کئی ایک کی حالت انتہائی نازک بنی ہوئی ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ راجستھان میں بھی ایک معصوم کشمیری زاہد احمدبٹ کو جبر کی بھینٹ چڑھا کر شہید کردیا گیا۔ تحریری بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ خون کے خوگر بھارتی افواج ہوں یا سفاک فورسز اہلکار یا ظلم کی کلہاڑی کا دستہ بنی ہوئی پولیس ‘ سبھی کا واحد کام کشمیریوں کو قتل کرنا بن چکا ہے کیونکہ ان فورسز اور افواج کو نہ ہی مواخذے کا کوئی خوف ہے اور نہ کسی اخلاقی حد کی کوئی فکر لاحق ہے۔ تحریری بیان کے مطابق مشترکہ قائدین نے کہا کہ کشمیرمیں جتنے بھی لوگ ۷۴۹۱ءسے ابتک بھارتی فوجیوں، فورسز، پولیس اور ایجنسیوں کے ہاتھوں تہہ تیغ ہوئے ہیں یا ہورہے ہیں اُن کے قتل میں جہاں بھارتی قابض افواج و فورسز کا ہاتھ ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہوتی وہیں پر اس کی ذمہ داری براہ راست جموں کشمیر میں موجود بھارت نوازوں ، اسمبلی ممبران اور حکمرانوں کے سر عائد ہوتی ہے کیونکہ یہی لوگ اس قتل عام کو قانونی جواز اور قتل عام میں ملوث درندوں کو قانونی تحفظ فراہم کرکے شریک جرم ہوتے رہتے ہیں۔ مشترکہ قائدین نے کہا کہ ظلم و جبر حد سے گزر جائے تو اس کا خاتمہ لازمی بن جاتا ہے اور اسی اَبدی قانون کے تحت بھارت کا یہ ظلم بھی فنا ہوکر رہے گا ۔ ان شاءاللہ ۔مشترکہ قائدین نے کہا کہ ظلم و جبر و تعدی کوٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنا زندہ و جاوید اقوام کےلئے ناممکن ہوا کرتا ہے اور کشمیر میں جاری بھارتی جبر اور قتل عام بھی اب برداشت سے باہر ہوتاجارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد حکمرانوں نے کشمیر کے اندر ہر قسم کی سیاسی مکانیت کو مسدود کرکے ہمارے احتجاج کے دائرے بھی سمیٹ رکھا ہے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بھارتی افواج کے ہاتھوں جاری قتل عام کی موجودہ لہر کے خلاف کل بدھوار‘مورخہ 20دسمبر 2017ئ‘ کو ایک روزہ احتجاجی ہڑتال کی جائے گی جس کے ذریعے معصوم خاتون مصرہ بانو، معصوم جوان آصف اقبال،شوپیان کی خاتون بیوٹی جان اور راجستھان میں شہید کئے گئے معصوم کشمیری زاہد احمد اور دوسرے معصومین کے قتل عام کے خلاف آواز بلند کی جائے گی۔ تحریری بیان کے مطابق قائدین نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ کل بدھوار‘مورخہ 20دسمبر 2017ءکو مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کریں اور اپنے کاروبار، دفاتر، ٹرانسپورٹ اور دوسری سرگرمیوں کو معطل کرکے ظلم و جبر کے خلاف اپنی نفرت اور مزاحمت کا اعلان کریں۔دریں اثناءکشمیر میں جاری جبر و تشدد کی بدترین لہر ،بھارتی فوج،فورسز اور پولیس کی بہیمانہ کاروائیوں خاص طور پر کپواڑہ کی شہیدہ مصرہ بانو و شہید آصف اقبال اور آج شوپیا ن میں شہید کی گئی ایک اور خاتون کے بہیمانہ قتل کے خلاف آج آبی گزر سرینگر سے ایک پرامن احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ کشمیر کے طول و عرض میں جاری قتل عام کے خلاف فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہوا یہ جلوس ‘ لال چوک کی جانب روانہ ہوا تو پولیس اور فورسز کی بھاری جمعیت نے رکاوٹیں کھڑی کرکے اس جلوس کا راستہ روک لیا جس کے بعد شرکائے جلوس وہیں پر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ اس موقع پر قائدین نور محمد کلوال، حکیم عبدالرشید اور مشتاق احمد صوفی نے شرکائے جلوس اور میڈیا سے بھی خطاب کیا ۔ جلوس میں حریت(گ)،حریت (ع) اور لبریشن فرنٹ کے قائدین و اراکین جن میںایڈوکیٹ بشیر احمد بٹ، ماسٹر شیخ محمد افضل، حکیم عبدالرشید، انجینئر غلام رسول ڈار ایدھی، ایڈوکیٹ شیخ یاسر دلال،مولوی بشیر عرفانی،سید محمد شفیع، محمد صدیق ہزاری، مشتاق اجمل،محمد یاسین بٹ،بشیر احمد کشمیری،محمد سلیم زرگر، محمد صدیق شاہ،امتیاز احمد شاہ، امتیاز حیدر،یاسمین راجہ، رمیض راجہ، محمد یاسین عطائی،عمران احمد بٹ،فیاض احمد بڈگامی،حاجی عبدالقدوس،اشفاق خان اور کئی دوسروں نے لوگوں کی بڑی تعداد کے ہمراہ شرکت کی۔

