مفاد پرست جماعتیں لوگوں کو علاقائی، مذہبی اور لسانی بنیادوں تقسیم کرنے کے در پے: ساگر

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

جموں//نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کہا ہے کہ ریاست میں اس وقت دو مفاد پرست اور موقعہ پر ست سیاسی جماعتیں برسراقتدار ہیںجس کی وجہ سے جموں وکشمیر کی سالمیت، انفرادیت، آپسی رواداری ، مذہبی ہم آہنگی اور یکجہتی کو بہت زیادہ نقصان پہنچا اور اس رجحان کا توڑ کرنے کیلئے ریاست کے تینوں خطوں کے لوگوں کو متحدہوکر ایسے عناصر کو ناکام بنانا ہوگا جو لوگوں، خطوں اور مذاہب میں دوریاں بڑھانے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے شیر کشمیر بھون جموں میں صوبہ جموں کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے پارٹی عہدیداران، کارکنان اور وفود سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی، آپسی رواداری اور بھائی چارے کیلئے جموں وکشمیر پوری دنیا میں طرہ امتیاز حاصل رہا ہے لیکن بدقسمتی سے گذشتہ چند برسوں سے ریاست کی اس خصوصیت کا تہیہ تیغ کرنے کی سازشیں بُنی جارہی ہیں۔ چند مفاد پرستوں جماعتیں اپنی ذاتی سیاسی مفادات کی خاطر یہاں کے لوگوں کو علاقائی، مذہبی اور لسانی بنیادوں تقسیم کرنے کی گندی سیاست کررہے ہیں۔ ساگر نے کہا کہ ایسے سنگین حالات میں ہمیں انتہائی ذمہ داری سے کام لیکر ریاست کی وحدت، انفرادیت اور اجتماعیت کو بنائے رکھنے کیلئے کام کرنا ہے۔ نیشنل کانفرنس نے ریاست اور ریاست کے لوگوں کی ہر نازک موڑ پر صحیح رہنمائی کی ہے اور آج بھی یہ جماعت جموں و کشمیر کیخلاف رچائی جارہی سازشوں کا توڑ کرنے کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس لوگوں کی آواز بن کر ہمیشہ عوامی مسائل اور مشکلات اجاگر کرنے کیلئے اپنا رول نبھاتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے اقتدار میں رہ کر اور اقتدار سے باہر بھی لوگوں کی بے لوث خدمت کی ہے اور ہمیشہ سے ہی ریاست کی جمہوریت کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے اور تاریخی فیصلے لئے۔ انہوں نے کہا کہ 1947میں ریاست کی باگ ڈور سنبھالنے کے ساتھ نیشنل کانفرنس نے جموں وکشمیر میں جمہوریت کا ڈھانچہ قائم کیا اور اداروں کے قیام کا کام شروع کیا اور محدود وسائل کے باجوود 40لاکھ کی ستم زدہ آبادی کو بنیادی ضروریات فراہم کرنے کیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس آج تک لوگوں کی خدمت اُسی جذبے کے ساتھ کررہی ہے اور ہمیشہ اپنے فرائض خوش اسلوبی کیساتھ انجام دیئے۔ ساگر نے کہا کہ پی ڈی پی اور بھاجپا صرف زبانی جمع خرچ بڑے بڑے دعوے کررہے ہیں جبکہ ریاست کی تعمیر و ترقی اور جمہوریت کی مضبوطی میں ان دونوں جماعتوں کا کوئی رول نہیں۔ انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ وہ پی ڈی پی اور بھاجپا کی ریاست دشمن پالیسیوں کو سمجھ کر ان دونوں جماعتوں کیخلاف صف آراءہوجائیں اور دشمنوں کی تمام چالوں اور سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے ہمیشہ تیار رہیں۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں سے اپیل کی کہ وہ نیشنل کانفرنس کی مضبوطی کیلئے کام کریں کیونکہ یہی جماعت یہاں کے عوام کیلئے نجات دہندہ جماعت رہی ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے