حاجن میں جنگجوﺅں اور فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ،ایک اہلکار زخمی

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
File Photo

سرینگر:حاجن بانڈی پورہ کے ایک گاﺅں میںفوجی آپریشن کے دوران جنگجوﺅں کی فائرنگ سے فوج کا ایک پیرا کمانڈو زخمی ہوگیا جبکہ جنگجو فورسز کو چکمہ دیکرفرار ہونے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد فورسز اہلکار خالی ہاتھ واپس لوٹ گئے۔

اس دوران فورسزکو اُس وقت ٹیر گیس شیلنگ بھی کرنا پڑی جب نوجوانوں نے گھروں سے باہر آکر ان پر پتھراﺅ کیا ۔کے ایم این نمائندے نے بانڈی پورہ سے اطلاع دی ہے کہ ایس او جی ،فوج کی31آر آر،13پیرا اور سی آر پی ایف سے وابستہ اہلکاروں نے جمعرات علی الصبح4بجے حاجن کے پری بل نامی گاﺅں کو اچانک گھیرے میں لیا۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ فورسز کواپنے خفیہ ذرائع سے علاقے میں جنگجوﺅں کی موجودگی کے بارے میں مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی ۔

اس مقصدکےلئے علاقے کی طرف جانے والے تمام چھوٹے بڑے راستے سیل کردئے گئے اور کئی جگہوں پر خار دار تار کا استعمال کرتے ہوئے سڑکوں اور گلی کوچوں کی سخت ناکہ بندی کی گئی ۔نمائندے نے بتایا کہ جونہی فورسز اہلکاروں نے جنگجوﺅں کی تلاش میں گھر گھر تلاشی کا آغاز کیا توعلاقے میں موجود جنگجوﺅ ں نے نامعلوم سمت سے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے جواب میں فورسز اہلکاروں نے بھی گولی چلائی۔طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ مختصر مدت کےلئے جاری رہا، البتہ گولیاں چلنے کے ساتھ ہی پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ جنگجوﺅں کے ابتدائی حملے میںہی13پیرا سے وابستہ ایک کمانڈو گوبند سنگھ زخمی ہوا جسے علاج ومعالجہ کےلئے سرینگر میں قائم فوجی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔اسی اثناءمیں فورسز کی مزید کمک طلب کرکے ناکہ بندی کا دائرہ وسیع کردیا گیا اور فورسز نے فائرنگ کرنے والے جنگجوﺅں کا تعاقب کرنے کی کوشش کی۔دوسری جانب مردوزن گھروں سے باہر آکر احتجاج کرنے لگے ،انہوں نے فورسز کو تلاشی لینے سے روکنے کی کوشش کی اور دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا ہجوم سڑکوں پر امڈ آیا۔

فورسز نے جب انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی تو لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے بیک وقت کئی اطراف سے فورسز پر زبردست پتھراﺅ شروع کیا۔ جب پتھراﺅ میں شدت پیدا ہوئی مظاہرین کو تتر بتر کرنے کےلئے پہلے لاٹھی چارج کیا گیا اور بعد میں اشک آور گیس کے گولے داغے گئے جس کے نتیجے میں علاقے میں اتھل پتھل مچ گئی اور لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف بھاگتے دیکھا گیا۔

کے ایم این نمائندے نے پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پتھراﺅ، احتجاج اور افراتفری کے بیچ ہی فورسز اور پولیس کی بھاری تعداد کئی گھنٹوں تک علاقے میں موجود رہی تاہم جنگجو اتھل پتھل کے عالم میں ہی فورسز کو چکمہ دیکر فرار ہوگئے۔پولیس ذرائع نے مزید بتایا کہ پتھراﺅ کے واقعات کے بیچ ہی جنگجوﺅں کو فرار ہونے کا موقعہ فراہم ہوا ۔جھڑپوں کا سلسلہ کچھ دیر تک جاری رہا جس کے بعد فورسز خالی ہاتھ واپس لوٹ گئے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے