علیل چیئرمین جے کے ایل ایف صورہ ہسپتال سے رُخصت

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر19فروری لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک جو پچھلے کئی روز سے صورہ مڈیکل انسٹچوٹ میں زیر علاج تھے کو آج ہسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے۔انہیں ۴۱ فروری ۸۱۰۲ءکو مثانے میں شدید تکلیف کے باعث ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جب ان کے جسم سے پیشاب کے بدلے خون کا اخراج ہورہا تھا۔ صورہ مڈیکل انسٹچوٹ میں ڈاکٹر پروفیسر سلیم وانی اور ڈاکٹر نثار ترنبو نے ان کا ملاحظہ کرنے کے بعد انہیں ہسپتال میں داخل کردینے کا مشورہ دیا۔ ان کے کئی ٹیسٹ لئے گئے اور انہیں فوری طور پر آپریشن تھیٹر منتقل کرکے ان کے جسم میں ایک کیتھیٹر(Catheter)لگادیا گیا ۔ طبی تشخیص خاص طور پر USG نے اُن کے مثانے میں خون کے لوتھڑے ہونے کا انکشاف کیا اور Catheterکو نکالنے کے بعد لئے گئےUSG بھی ان کے مثانے میں خون کے لوتھڑے ہونے کا انکشاف کررہے تھے۔ ڈاکٹر محمد سلیم وانی اور انکی ٹیم نے ان کا علاج شروع کیا اور مسلسل نگہداشت اور علاج کے بعد بالآخر ی لوتھڑے خارج ہوچکے ہیں۔علاوہ ازیں ہسپتال میں ان کے دل، گردوں اور انتڑیوں وغیرہ کے حوالے سے بھی کئی طبی ٹیسٹ لئے گئے ہیں جن میں سے کئی ایک کی رپورٹ ابھی تک نہیں مل پائی ہے۔آج قریب چھ روز تک ہسپتال میں زیر علاج رکھنے کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں ہسپتال سے فارغ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد وہ گھر واپس آچکے ہیں۔ لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے یاسین ملک کے صحت میں آنے والی بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ہے۔ عام کشمیریوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ لوگوں نے جس انداز میں ان ایام کے دوران یاسین صاحب کےلئے دعائیں کی ہیں اُن کی صحت میں آنے والی بہتری ان دعاﺅں کا بھی نتیجہ ہے۔ترجمان نے مزاحمتی قائدین، سیاسی ،دینی و سماجی جماعتوںسے وابستہ قائدین و اراکین اور زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کہ جنہوں نے بذات خود ہسپتال آکر یا فون پر یاسین صاحب کی خیریت پوچھی کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ۔ صورہ مڈیکل انسٹچوٹ کے ڈاکٹر صاحبان اور انکی پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اس ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر صاحبان، پیرامڈیکل اسٹاف اور دوسرے متعلقین جس مہارت، جانفشانی اور جذبے کے ساتھ بیماروں کی نگرانی اور علاج کررہے ہیں اور جس طرح سے ان لوگوں نے یاسین صاحب کی نگہداشت کی ہے وہ قابل تحسین ہے۔ دریں اثناءلبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے بڈگام میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں ایک عام شہری جن کا دماغی توازن درست نہیں تھا کو اندھا دھند فائرنگ کرکے شہید کردینے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سویہ بگ بڈگام کے حبیب اللہ جو دماغی توازن کھو بیٹھے تھے کو کل رات فورسز نے اپنی گولیوں کا نشانہ بناکر قتل کیا تھا۔ اس قتل کو بھارتی فورسز کی سفاکیت کی ایک اور دلیل قرار دیتے ہوئے یاسین صاحب نے کہا کہ جب فوجیوں اور اہلکاروں کو قانون سے بالاتر ہونے اور مواخذے سے استثناءدیا جاتا ہے تو وہ جانور بن کر انسانوں کا قتل کرنے میں بے باک ہوجاتے ہیں اور آج اس معصوم کشمیری کا قتل بھی اسی بے باکی کا نتیجہ ہے۔ قتل کئے گئے معصوم کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے یاسین صاحب نے ان کے لواحقین کے ساتھ دلی اظہار یکجہتی کیا اور ان کےلئے صبر جمیل و جزیل کی دعائیں کیں۔ شمالی کشمیر میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے اراکین پر پولیس عذاب و عتاب کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ پولیس نے فرنٹ کے ضلع سیکریٹری مولوی ریاض احمد کو حال ہی میں گرفتار کرکے تھانہ چھورو میں مقید رکھا ہوا ہے جبکہ فرنٹ کے اراکین عبدالعزیز لون، عبدالمجید شاہ اور محمد امین کو گرفتار کرنے کےلئے ہندوارہ پولیس ان کے گھروں پر چھاپے مار رہی ہے۔ اس پولیس جبر کی سخت الفاظ میںمذمت کرتے ہوئے یاسین صاحب نے کہا کہ کشمیر میں ہر قسم کی سیاسی مکانیت کو مسدود کیا گیا ہے یہاں تک کہ نام نہاد جموریت والوں نے اب ماتم کرنے اور تعزیت پرسی پر بھی پابندی لگادی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے