جموں ،سرینگر:جموں میں جاری بجٹ اجلاس کے دوران قانون سازاسمبلی میں منگل کو سرحدی کشیدگی پر ہنگامہ آرائی ،شور شرابہ اور نعرہ بازی ہوئی ۔حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے ممبران نے لائن آف کنٹرول پر جاری آر پار آتشی گولہ باری کے معاملے کو اُجاگر کیا جسکے نتیجے میں نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ لائن آف کنٹرول پر صورتحال انتہائی تشویشناک اور خراب ہے ۔
قانون ساز اسمبلی میں ایک مرتبہ پھر سرحدی کشیدگی کی گونج سنائی دی ۔اپوزیشن ممبران کے ساتھ ساتھ حزب اقتدار کے ممبران نے یہ معاملہ ایوان ِ اسمبلی میں زیر بحث لایا۔قفہ سوالات کے دوران بی جے پی کے ممبر اسمبلی رویندر رینہ نے کہا ’لائن آف کنٹرول پر شدید فائرنگ اور ماٹر شلنگ مسلسل ہورہی ہے ‘انہوں نے راجوری کے نوشہرہ سیکٹر میں آتشی گولہ باری کے سبب لوگ بُری طرح سے متاثر ہورہے ہیں جبکہ اُنہیں مجبوراً ترک سکونت اختیار کرنی پڑ رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے بند ہیں ،رہائشی مکانات تباہ ہوگئے اور متاثرہ لوگ حکومت سے جواب طلب کررہے ہیں ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ نوشہرہ سیکٹر میں صورتحال کا جائزہ لینے کےلئے وزراءکی ایک ٹیم روانہ کی جائے ۔سی آئی ایم کے ریاستی سیکر یٹری محمد یوسف تاریگامی اور دیگر بھاجپا ممبران نے اس مطالبے کی حمایت کی ۔
سرحدی کشیدگی پر ایوان میں موجود نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے بتایا ’ لائن آف کنٹرول کے گرد ونواح میں صورتحال انتہائی تشویشناک اور خراب ہے ‘۔ان کا کہنا ہے کہ سرحدی کشیدگی کےلئے پاکستان ذمہ دار ہے جبکہ پاکستانی فوج کی فائرنگ اور آتشی گولہ باری سے ہی لوگ ترک سکونت اختیار کرنے پر مجبور ہورہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ متاثرہ لوگوں کو ہرممکن سہولیات فراہم کی جائے جبکہ سرحدی کے قریب رہائش پذیر لوگوں کے تحفظ کےلئے محفوظ پناہ گاہیں بھی فراہم کی جائے ۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حد متارکہ سے لیکر بین الاقوامی سرحد پر حالیہ آتشی گولہ باری کے سبب جموں ،کٹھوعہ ،سانبا،راجوری اور پونچھ ضلعے میں 18سے22جنوری تک 7عام شہریوں سمیت14افراد ہلاک جن میں خواتین بھی شامل ہیں اور70سے زیادہ دیگر افراد زخمی ہوئے ۔سرحدی کشیدگی کے باعث ہزاروں لوگ ترک سکونت اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ۔
لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کے 5کلو میٹر حدود میں تقریباً300تعلیمی اداروں کو احتیاطی اقدامات کے تحت بند کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے ۔

