سرینگر؍27،جنوری ؍کے این ایس ؍ ؍ محض تین روز بعد ایک اور ہلاکت خیز واقعہ جنوبی ضلع شوپیان کے گنوپورہ گاؤں میں سنیچر کے روز فوج کی راست فائرنگ کے نتیجے میں 20سالہ نوجوان سمیت 2شہری ازجان اور ایک درجن کے قریب دیگر افراد زخمی ہوئے ۔ہلاکت خیز واقعہ کے بعد جنوبی کشمیر میں تازہ کشیدگی کی لہر دوڑ گئی جبکہ پوری وادی میں شہری ہلاکتوں پر غم وغصہ پایا جارہا ہے ۔اس دوران پولیس نے ہلاکت خیز معاملے کی نسبت کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی جبکہ صوبائی انتظامیہ نے واقعہ کے حوالے سے مجسٹریل انکوائری کے احکامات صادر کئے۔ایس پی شوپیان رام امبیڈ کر نے ہلاکتوں کی تصدیق کی اور کہا مقدمہ درج کیا جبکہ صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان نے کہا کہ واقعہ کی نسبت مجسٹریل انکوائری کے احکامات صادر کئے گئے ۔۔ادھر مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میر واعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک نے شوپیان میں دو نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف اتوار کو کشمیر بند کی کال دی ہے ۔یاد رہے کہ24جنوری کو جنگجو مخالف آپریشن کے دوران 17 سالہ شاکر احمد میر ساکنہ کلام پورہ شوپیان جاں بحق جبکہ فوج فورسز کے درمیان معرکہ آرائی میں 2جنگجو ازجان ہوئے تھے ۔ جنوبی ضلع شوپیان سنیچر کے روز اُس وقت لال زار ہوا،جب فورسز نے یہاں مظاہرین پر راست فائرنگ کی جسکے نتیجے میں دو نوجوان ازجان ہوئے ۔اطلاعات کے مطابق گنو پورہ میں ایک جگہ جمع ہوئے کچھ نوجوانوں نے گاؤں سے گذرنے والے ایک فوجی قافلے پر مبینہ طور پتھراؤ کیا۔ تاہم فوجیوں نے مبینہ طور پر اپنی بندوقوں کے دھانے کھول کر مظاہرین کو براہ راست نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک درجن نوجوان خون میں لت پت ہوکر گر گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا جہاں20سالہ جاوید احمد بٹ اور 24سہیل احمد نامی دو نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ زخمیوں کی جن کی تعداد قریب ایک درجن بتائی جارہی ہے، کو جنوبی کشمیر اور سری نگر کے مختلف اسپتالوں میں علاج شروع کیا گیا ہے۔ چیف میڈیکل آفیسر شوپیان نے دو نوجوان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سہ پہر ساڑھے تین بجے فوج کی 12 سیکٹر راشٹریہ رائفلز (آر آر) کے قافلے کا گنوپورہ سے گذر ہوا۔رپورٹس کے مطابق بعض نوجوانوں نے قافلے میں شامل گاڑیوں پر پتھراؤکیا اور فوج نے وارننگ شاٹس چلانے کے بجائے مبینہ طور پر براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک درجن نوجوان شدید طور پر زخمی ہوکر خون میں لت پت زمین پر گر گئے۔ہلاکت خیز واقعے کے بعد جنوبی کشمیر میں شدید احتجاجی مظاہروں کی لہر دوڑ گئی جبکہ پوری وادی میں شہری ہلاکتوں پر غم وغصہ پایا جارہا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق گنوپورہ اور اس سے ملحقہ علاقوں کی صورتحال انتہائی کشیدہ رخ اختیار کرگئی ہے اور انتظامیہ نے علاقہ میں امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کردی ہے۔جموں وکشمیر پولیس نے واقعہ کی نسبت ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ اس دوران ایس پی شوپیان رام امبیدکر نے کے این ایس کے نامہ نگار اعجاز رشید کے ساتھ شہری ہلاکتوں کی تصدیق کی ۔ انہوں نے جان بحق ہوئے نوجوانوں کی شناخت جاوید احمد بٹ ساکنہ نارپورہ اور سہیل احمد لون ساکنہ گنو پورہ شوپیان کے بطور کی ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں نوجوان فوج کی فائرنگ سے از جان ہوئے جبکہ دو دیگر نوجوان زخمی ہوئے ۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ علاقے میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران پیش آیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی نسبت کیس درج کر کے تحقیقات شروع کردی گئی ہے ۔ ادھر ریاستی حکومت نے واقعے کے حوالے سے مجسٹریل انکوائری کے احکامات بھی صادر کئے ۔ کے این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان نے بتایا کہ شوپیان میں دو نوجوانوں کی ہلاکت کے واقعے کی مجسٹریل انکوائری کے احکامات صادر کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر شوپیان محمد اعجاز کو اس واقعے کے حوالے سے انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ہے ۔ اُن کا کہنا تھا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر کو واقعے کی نسبت 15دنوں کے اندر اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ اس دوران مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے ہلاکت کے اس واقعہ کے خلاف اتوار کو ’کشمیر بند‘ کی کال دے دی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ جنوبی ضلع شوپیان کے ژھے گنڈ نامی گاؤں میں24 جنوری کو ہونے والے مسلح تصادم میں جاں بحق ہونے والے دو جنگجوؤں میں سے فردوس احمد نامی جنگجو کا تعلق گنو پورہ سے ہی تھا۔ تب سے لیکر اب تک گنوپورہ سمیت پورے ضلع شوپیان میں صورتحال کشیدہ تھی۔ جبکہ موبائیل انٹرنیٹ خدمات تب سے بدستور منقطع ہے۔ واضح رہے کہ ژھے گنڈ شوپیان میں 24 جنوری کو سہ پہر کے وقت شروع ہونے والا مسلح تصادم شام دیر گئے دو مقامی جنگجوؤں سمیر احمد ساکنہ ژھے گنڈ شوپیان اور فردوس احمد ساکنہ گنو پورہ شوپیان کی ہلاکت پر ختم ہواتھا۔ دونوں مہلوک جنگجو ’حزب المجاہدین‘ سے وابستہ تھے۔ مسلح تصادم کے مقام پر جنگجوؤں کی حمایت میں سامنے آنے والوں پر سیکورٹی فورسز نے مبینہ طور پر براہ راست گولیاں اور چھرے چلائے تھے جس کے نتیجے میں 17 سالہ شاکر احمد میر ساکنہ کلام پورہ شوپیان جاں بحق جبکہ دو لڑکیوں سمیت متعدد دیگر زخمی ہوئے تھے۔ زخمی لڑکیوں کا سری نگر کے اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ تاہم جموں وکشمیر پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے کہا تھا کہ شاکر احمد کی موت کراس فائرنگ کی زد میں آنے سے ہوئی ۔ انہوں نے شاکر کی ہلاکت اور دو لڑکیوں کے زخمی ہونے کے واقعہ کو بدقسمتی سے تعبیر کیا تھا۔ادھر حریت کانفرنس (ع) کے چیرمین میرواعظ عمر فاروق نے شوپیاں کے گوانپورہ میں فوج کی جانب سے راست فائرنگ کے نتیجے میں 20 سالہ جاوید احمد بٹ،24 سالہ سہیل احمد لون اور نوجوان رائیس احمد گنائی کو ہلاک کئے جانے اور کئی افراد کو زخمی کر دینے جن میں 9 افراد شدید زخمی اور انتہائی نازک حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہیں کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قابض فوج اور فورسز کے ہاتھوں کشمیریوں کو موت کی نیند سلا دینے کارقص جاری ہے ۔ایک بیان میں میں انہوں نے کہا کہ بھارت کے فوجی جیرنیلوں کے جنگجویانہ بیانات سے شہ پاکر یہاں تعینات فوجی اور فورسز اہلکار بے لگام ہو کر نہتے کشمیریوں کوبغیر کسی جوابدہی کے خوف کے قتل کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔

