مزید سات کراس ایل او سی ٹریڈ پوائنٹس اور دو میٹنگ پوائنٹس کی تجویز ۔ گنگا

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
????????????????????????????????????

جموں:ریاستی حکومت نے جموں وکشمیر میں ایل او سی اور بین الاقوامی سرحد پر سات اضافی ٹریڈ روٹس کھولنے کا معاملہ مرکزی سرکار کی نوٹس میں لایا ہے۔یہ جانکاری آج صنعت و حرفت کے وزیر چندر پرکاش گنگا نے آج قانون ساز اسمبلی میں صنعت و حرفت محکمہ کے مطالبات زر پر ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے دی۔
انہوں نے کہا کہ جن نئے راستوں کی تجویز پیش کی گئی ہے ان میں جموں۔ سیالکوٹ ، چھمب ۔ جوریان سے میر پور ، گریز ۔ استور ۔ گلگت ، جنگر۔ میر پور اور پوٹلی ، ترتک ۔گپھالو ، کرگل ۔ سکردو اور ٹیٹوال ۔ چلہن شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کرگل ۔ اسکرودراستے پر ہندر من اور ترتک ۔گپھالو راستے پر ایک میٹنگ پوائنٹ کی بھی ریاستی حکومت نے تجویز رکھی ہے ۔
وزیر نے کہا کہ چکاں داباغ ، پونچھ اور سلام آباد اوڑی میں بالترتیب 10.41کروڑ روپے اور 10.73کروڑ روپے کی لاگت سے ٹریڈ فسیلٹیشن مراکز پر بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا جارہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ 21مزید اشیاءکو ایگریڈ لسٹ آف ٹریڈیبل ایٹمز میں شامل کرنے سے متعلق منصوبہ بھی مرکزی سرکار کو پیش کیا گیا ہے تاکہ وہ اس معاملے کو حکومت پاکستان کے ساتھ اٹھائی ۔
انہوں نے کہا کہ ایل او سی تجارت کے لئے ایک بینکنگ نظام متعارف کرنے کا معاملہ مرکزی سرکار کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔
صنعت و حرفت کے وزیر چندر پرکاش گنگا نے کہا ہے کہ ریاست میں صنعتی ترقی کو بڑھاوا دینے کے لئے کئی اختراعی اقدامات شروع کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ محکمہ ہینڈی کرافٹس کے ساتھ درج مقامی دستکاری یونٹوں کو اب صنعتی یونٹوں کا درجہ دیا جائے گا تاکہ وہ صنعتی پالیسی کے ذریعے سے مختلف مراعات حاصل کرنے کے اہل بن جائے۔
قانون ساز اسمبلی میں آج صنعت و حرفت اور منسلک محکموں کے مطالباتِ زر پر ہوئی بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ وزیر موصوف نے کہا کہ ریاست کے صنعتی ایسٹیٹس میں دہائیوں کے بعد 138کروڑ روپے کی لاگت سے بنیادی ڈھانچے کو تقویت دی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی ایسٹیٹس میں اب بہتر سڑکیں اور 24ووں گھنٹے بجلی دستیاب ہے۔
انہوںنے کہا کہ تمام انڈسٹریل ایسٹیٹس کی جی آئی ایس میپنگ کاکام ہاتھ میں لیاگیا ہے ۔وزیرنے کہا کہ تمام چھوٹے انڈسٹریل ایسٹیٹس کو سیکاپ کو تفویض کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لاسی پورہ میں انڈسٹریل ایسٹیٹ میں لیدر کلسٹر کے لئے ایک سی ایف سی قائم کرنے کے خاطر 40کروڑروپے کا ڈی پی آر تیار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بے روزگار نوجوانوں کو کار خانہ داری اور اختراعیت کی طرف راغب کرنے کے لئے حکومت نے کئی سکیمیں منظور کی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ انوویٹروںکو ماہانہ 10ہزار روپے کی ایک سال کے لئے معاونت دی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ سانبہ میں 100کروڑ روپے کا ایک ٹیکنالوجی سینٹر قائم کیا جارہا ہے تاکہ مختلف صنعتوں کو بڑھاواد یا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ تجارت کو آسان بنانے کے لئے حکومت نے کامیابی کے ساتھ 270 بزنس اصلاحات عملائے ہیں ۔وزیر نے کہا کہ محکمہ نے صنعت یونٹوں کے علاوہ صنعتی شعبوں کی دیگر خدمات کا کام آن لائن شروع کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ 2017-18 کے دوران 479 صنعتی یونٹ رجسٹر کئے گئے جن میں 345کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گنجائش ہے اور اس کی بدولت لگ بھگ 5000افراد روزگار حاصل ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ 2004سے اب تک صنعتوں کو 272.77کروڑ روپے کی مرکزی مراعات فراہم کئے گئے ۔
چندر پرکاش گنگا نے کہا کہ جموں وکشمیر انڈسٹریز لمٹیڈ کے بند پڑے کئی یونٹوں کو بحال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی جے کے آئی یونٹوں کو بڑھاوا دیا جارہا ہے جن میں سلک فیکٹر ی راج باغ بھی شامل ہے اور اس پر 23.54کروڑ روپے صرف کئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بڑی براہمنا جموں میں سلک فیکٹری پر 16.84کروڑ روپے صرف کئے جائیں گے ۔
انہوں نے کہاکہ جوینئری مل پانپور کو 8.50کروڑ روپے کی لاگت سے بڑھاوا دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہینڈی کرافٹس محکمہ کے 553تربیتی مرکز اس وقت کام کر رہے ہیں۔
وزیر نے کہا کہ پی ایم ڈی پی کے تحت48کروڑ روپے کا پشمینہ پروموشن پروگرام مرکزی وول ڈیولپمنٹ بورڈ کو بھیج دیا گیا ہے۔وزیر نے کہا کہ آرٹزن کریڈٹ کارڈ سکیم سے 44238مستحقین مستفید ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان کے حق میں 93.36کروڑ روپے واگذار کئے ۔
وزیر نے کہاکہ 26لاکھ روپے کی لاگت سے اربن ہاٹ جموں کو ترقی دی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت 20ہزار کاریگرروں اور بنکروں کو جوڑنے کے لئے عنقریب ایک ای۔ کامرس پلیٹ فارم متعارف کر رہی ہے ۔وزیر نے کہا کہ کشمیرمیں دستکاری برآمدات سال-17 2016ءکے دوران 115.12کروڑ روپے تک پہنچ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار کے ازسر نو تشکیل دئیے رہنما خطوط کے تحت ہینڈلوم کے 8بلاک لیول کلسٹر عملائیے جارہے ہیں۔ کے وی آئی کے حوالے سے وزیر نے کہا کہ بورڈ نے 46185یونٹ قائم کئے ہیں جن سے ریاست کی گھریلو پیداوار میں 1823کروڑ روپے اضافہ ہوتا ہے اور اس عمل سے 186964کاریگروں کو روزگار حاصل ہوتا ہے ۔
چندر پرکاش گنگا نے مزید کہا کہ پی ایم ای جی پی کی بدولت ریاست کے شہری و دیہی علاقوں میں روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے میں مدد ملی ہے ۔انہوں نے کہاکہ رواں مالی سال کے دوران 32.72کروڑ روپے کی لاگت سے 1650یونٹوں کا نشانہ مقر رکیا گیا تھا جسے اب 4125یونٹوں تک بڑھاوا دیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ بڑی براہمنا جموںمیں 8289لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل ای ڈی آئی کیمپس تعمیر کیا جارہا ہے ۔
وزیر موصوف نے اس موقعہ پر ریاست کے صنعتی منظر نامے کو آگے بڑھانے کے لئے حکومت کی طرف سے کئے جارہے دیگر اقدامات کا بھی تفصیلی خاکہ پیش کیا۔
اس سے پہلے جن ارکان نے اس بحث میں حصہ لے کر محکمہ کے کام کاج میں بہتر ی لانے کے حوالے اپنی تجاویز سامنے رکھیں ان میں وقار رسول ، مبارک گل ، راجیو جسروٹیہ، ایم وائی تاریگامی، شاہ محمد تانترے ، اعجاز احمد خان، بشیر احمد ڈار ، علی محمد ساگر ، راجیش گپتا ، سید فاروق اندرابی ، پون کمار گپتا ، عبدالرحیم راتھر ، محمد امین بٹ ، راجا منظور احمد ، شیخ اشفاق جبار، جی ایم سروری ، آر ایس پٹھانیہ ، اصغر علی کربلائی اور محمد اکبر لون شامل تھے۔
ایوان میں بعد میں صنعت و حرفت محکمہ کے لئے 56355.24لاکھ روپے کے مطالبات زر منظور کئے۔a

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے