شوپیان:”جنگجومخالف آپریشن کےخلاف شدیدعوامی مزاحمت “کے دوران شوپیان کے مضافاتی گاﺅں میں فورسزکی فائرنگ کے نتیجے میں 17سالہ معصوم نوجوان جاں بحق ہوگیاجبکہ گولیوں اورپیلٹ فائرکی زدمیں آکر2نوعمرلڑکوں اور2جواں سالہ لڑکیوں سمیت دیگرکئی افراد زخمی ہوگئے ۔ اس دوران پولےس کے سر براہ ڈاکٹر اےس پی وےد نے معرکہ آرائی کے دوران 2جنگجوﺅں کو جاں بحق کر نے کا دعویٰ کر تے ہو ئے کہا کہ ان کے قبضے سے بھاری مقدار مےں اسلحہ بر آمد کےا گےا۔انہوں نے کراس فائرنگ کے نتےجے مےں اےک کمسن نو جوان کی ہلاکت کو بد قسمتی سے تعبےر کےا ۔اس دوران ضلع پلوامہ کے نونگری چندگام علاقہ میں بھی جنگجومخالف کارروائی کی مزاحمت کرنے والے مظاہرین اورفورسزکے درمیان شدیدتصادم آرائی ہوئی اوریہاں بھی کچھ مظاہرین کے زخمی ہوجانے کی اطلاع ہے۔کے این ایس کے مطابق جنگجوﺅں کی موجودگی سے متعلق اطلاع ملتے ہی فوج ،فورسزاورریاستی پولیس کی ٹاسک فورس ونگ کے اہلکاروں نے بدھ کوبعددوپہرپہاڑی ضلع شوپیان کے چھے گنڈڈیرﺅگاﺅں کومحاصرے میں لیکرجنگجومخالف آپریشن شروع کیا۔بتایاجاتاہے کہ آپریشن کے تحت تلاشی کارروائی کاسلسلہ شروع ہوتے ہی مقامی اورنزدیکی کچھ دیہات کے نوجوان سڑکوں پرنکل آئے اورانہوں نے جنگجومخالف کارروائی میں مصروف سیکورٹی اہلکاروں پرشدیدسنگباری شروع کی جبکہ ہجوم نے جائے مقام تک پہنچنے کی کوشش بھی کی ۔بتایاجاتاہے کہ فوج ،فوورسزاورٹاسک فورس نے جنگجومخالف مشترکہ دستے میں شامل اہلکاروں اورپولیس نے مشتعل نوجوانوں کومنتشرکرنے کیلئے پہلے ٹیرگیس شلنگ اورپیلٹ فائرنگ کی لیکن جب اسکے باوجودمشتعل نوجوان سنگباری پرڈٹے رہے توسیکورٹی اہلکاروں نے اُن پرراست گولی باری کردی ،جسکے نتیجے میں کم سے کم تین نوعمرنوجوانوں کے اجسام میں گولیاں پیوست ہوگئیں اوراُنکونزدیکی صحت مرکزمنتقل کیاگیا۔مقامی لوگوں نے فوج وفورسزپرنوجوانوں کیخلاف طاقت کابے تحاشہ استعمال کئے جانے کاالزام لگاتے ہوئے کہاکہ گولیاں لگنے سے شدیدطورپرزخمی ہوئے تین لڑکوں میں سے 17سال کاایک لڑکاجاں بحق ہوگیا۔اُدھرپولیس ودفاعی ذرائع نے بتایاکہ آپریشن شروع ہوتے ہی محصورگاﺅں میں پھنسے جنگجوﺅں نے فرارہونے کی کوشش کے تحت سیکورٹی اہلکاروں پرفائرنگ شروع کردی جسکابروقت جواب دیاگیا۔ذرائع کے مطابق جنگجوﺅں اورفورسزکے درمیان گولیوں کاتبادلہ شروع ہوتے ہی یہاں ایک ہجوم نے جنگجومخالف آپریشن میں خلل ڈالنے کی کوشش کی اوراُنھیں منتشرکرنے کیلئے طاقت کاکم سے کم استعمال کیاگیا۔اُدھر پرائمری ہیلتھ سینٹرواقع راجپورہ پلوامہ میں تعینات طبی ونیم طبی عملہ میں شامل کچھ ڈاکٹروں اورملازمین نے بتایاکہ بدھ کی سہ پہریہاں کم سے کم تین ایسے نوجوانوں کوزخمی حالت میں لایاگیاجن کوگولیاں لگی تھیں ۔انہوں نے بتایاکہ ان میں سے ایک نوجوان 17سالہ شاکراحمدمیرساکنہ قلم پورہ شوپیاں زخموں کی تاب نہ لاکردم توڑبیٹھا۔انہوں نے بتایاکہ مذکورہ نوعمرنوجوان راستے میں بے تحاشہ خون بہہ جانے کے نتیجے میں دم توڑچکاتھااورجب ڈاکٹروں نے یہاں اُسکامعائنہ کیاتوانہوں نے اُسے مردہ قراردے دیا۔اسپتال ذرائع کے مطابق مزیددوزخمی نوجوانوں کوبھی یہاں لایاگیا۔بلاک میڈیکل آفیسرجاویداحمدکاکہناتھاکہ پرائمری ہیلتھ سینٹرراجپورہ دوزخمیوں کویہاں داخل کیاگیاجن کی حالت مستحکم ہے ۔اُدھر17سالہ شاکرکے جاں بحق ہوجانے کی خبرپہنچتے ہی شوپیان کے محصورگاﺅں چھے گنڈمیں صورتحال مزیدبگڑگئی اوریہاں مشتعل مظاہرین وفورسزکے درمیان جھڑپوں میں شدت پیداہوئی ۔بتایاجاتاہے کہ مظاہرین کومنتشرکرنے کیلئے فورسزکی کارروائی کے دوران 2لڑکیوں سمیت مزیدکئی افرادزخمی ہوگئے ۔معلوم ہواکہ زخمی ہوجانے والی دونوں لڑکیوں کوضلع اسپتال پلوامہ پہنچایاگیاجہاں سے انکونازک حالت میں سرینگرمنتقل کیاگیا۔بتایاجاتاہے کہ فورسزکی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوجانے والے دونوں جواں سالہ لڑکیوں کاتعلق اوڈﺅشوپیاں گاﺅں سے ہے ۔اس دوران نزدیکی ضلع پلوامہ کے نونگری چندگام علاقہ میں اسوقت پُرتشددمظاہرے شروع ہوئے جب بدھ کی سہ پہرفوج ،فورسزاورٹاسک فورس کے اہلکاروں نے محاصرے کرکے یہاں تلاشی کارروائی شروع کی ۔بتایاجاتاہے کہ کچھ جنگجوﺅں کے یہاں موجودہونے کی اطلاع ملتے ہی فوج،فورسزاوراٹاسک فورس اہلکاروں نے مشترکہ طورپرگاﺅں کومحاصرے میں لیکرجنگجومخالف آپریشن شروع کیا۔معلوم ہواکہ فورسزکی کارروائی شروع ہوتے ہی یہاں نوجوانوں گھروں سے باہرآئے اورانہوں نے سیکورٹی اہلکاروں پرسنگباری شروع کردی ۔مقامی لوگوں کے مطابق فورسزکی جوابی کارروائی میں کئی مظاہرین زخمی ہوگئے ۔ادھر پولےس کے سر براہ ڈاکٹر اےس پی وےد نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوےٹر پر معرکہ آرائی کے دوران 2جنگجوﺅں کو جاں بحق کر نے کا دعویٰ کر تے ہو ئے کہا کہ ان کے قبضے سے بھاری مقدار مےں اسلحہ بر آمد کےا گےا۔انہوں نے کراس فائرنگ کے نتےجے مےں اےک کمسن نو جوان کی ہلاکت کو بد قسمتی سے تعبےر کےا

