سری نگر: جموں وکشمیر کی گرمائی دارالحکومت سری نگر کے صورہ علاقہ میں واقع شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز (سکمز) کو عنقریب مکمل طور پر ڈیجیٹل بنایا جائے گا جس کے ساتھ ہی ڈاکٹر سے ملاقات کے لئے ایک فون کال کافی ہوگی جبکہ مریضوں کو تشخیصی رپورٹیں آئن لائن دستیاب ہوں گی۔
انسٹی چیوٹ کے عبوری ڈائریکٹر ڈاکٹر عمر جاوید شاہ نے یہ بات منکشف کرتے ہوئے بتایا کہ اسپتال کی ڈیجیٹلائزیشن سے اس کی کارکردگی اور مریضوں کو ملنے والی سہولیات میں بہتری آئے گی۔ ڈاکٹر عمر جنہیں حال ہی میں ڈاکٹر اے جی آہنگر کے اٹیچمنٹ کے بعد ڈائریکٹر کے عہدے کا عبوری چارج سونپ دیا گیا، نے یو این آئی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ’ وادی کے اطراف واکناف سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کی تعداد میں مریض یہاں (سکمز) میں آتے ہیں۔ بعض اپنی تشخیصی رپورٹیں حاصل کرنے اور ڈاکٹر کے ساتھ اپنی اگلی ملاقات کی تاریخ کے بارے میں جاننے جبکہ بعض ڈاکٹر سے ملاقات کی غرض سے آتے ہیں۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ انہیں اپنی تشخیصی رپورٹیں آن لائن دستیاب ہو، اور انہیں متعلقہ ڈاکٹر سے ملاقات کی تاریخ کے بارے میں جانکاری محض ایک فون کال پر مل جائے‘۔
سکمز ڈائریکٹر نے بتایا کہ انہوں نے اسپتال کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ سے کہا ہے کہ وہ اس پروجیکٹ پر ترجیحی بنیادوں پر کام کرے۔ انہوں نے بتایا ’میں نے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کو مکمل آزادی دے رکھی ہے اور ضرورت پڑنے پر اضافی فنڈس کی واگذاری کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ اس پروجیکٹ سے وہ مریض مستفید ہوجائیں گے جو دور دراز علاقوں سے محض اس لئے اسپتال کا رخ کرتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی تشخیصی رپورٹیں حاصل کرنی ہوتی ہیں۔ اگر ان کے گھر میں انٹرنیٹ کی سہولیت دستیاب نہیں ہوگی تو وہ اپنے علاقہ میں قائم کسی بھی انٹرنیٹ کیفے پر جاکر اپنی رپورٹیں پرنٹ کراسکتے ہیں‘۔
اسی طرح دور دراز علاقوں کے رہنے والے وہ لوگ جو محض اس لئے اسپتال کا رخ کرتے ہیں کیونکہ وہ ڈاکٹر سے ملاقات کے خواہاں ہوتے ہیں، وہ فون کال کرکے ڈاکٹر سے ملاقات کی تاریخ اور وقت کی جانکاری حاصل کریں گے۔ ایسا کرنے سے کسی بھی مریض کو دن بھر اسپتال میں اپنی باری کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹر عمر نے بتایا ’اس سے نہ صرف مریضوں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ اسپتال کی جانب سے فراہم کی جارہی سروسز میں بھی بہتری آئے گی۔ انہیں لمبی قطاروں میں کھڑا نہیں ہونا پڑے گا‘۔ ڈائریکٹر نے بتایا کہ مریض اور ڈاکٹروں و نرسنگ اسٹاف کے رشتے میں مٹھاس لانے کے لئے اسپتال عملے بشمول نرسنگ اسٹاف اور ڈاکٹروں کی کونسلنگ کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا ’یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اسپتال کے ڈاکٹروں، نرسنگ اور دیگر سپورٹنگ سٹاف کو یہ زیادہ تربیت نہیں ہے کہ ہمیں مریضوں اور تیمارداروں کو کیسے ڈیل کرنا ہے۔ ہم انہیں مرحلہ وار طریقے سے تربیت فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہم کونسلروں کی خدمات حاصل کریں گے جو ہمارے اسٹافروں کو مریضوں اور تیمارداروں سے بات چیت کے بہترین طریقوں کے بارے میں بتائیں گے۔ اس کی بدولت مریضوں اور اسپتال کے عملے کے رشتے میں مٹھاس پیدا ہوگی‘۔
ڈائریکٹر نے بتایا کہ مریضوں کو مدد فراہم کرنے کے لئے سوشل ورکروں کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا ’بہت سارے مریض ایسے ہوتے ہیں جن کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں کس شعبے میں جانا ہے اور میڈیکل ٹیسٹس کے لئے کہاں جانا ہے۔ یہ سوشل ورکر ایسے بیماروں کو متعلقہ جگہوں تک لے جانے میں مدد کریں گے ۔ اس سے کیا ہوگا کہ کسی مریض کو کوئی شکایت نہیں رہے گی‘۔ ڈاکٹر عمر نے بتایا کہ اسپتال میں انتقال کرجانے والے مریضوں کے تیمارداروں کی مدد کے لئے کونسلروں کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا ’یہ ایک اسپتال ہے۔ یہاں سے مریض ٹھیک ہوکر جاتا ہے یا اللہ کو پیارا ہوجاتا ہے۔ جب کسی مریض کی موت ہوجاتی ہے تو اس کے رشتہ دار انتہائی صدمے میں ہوتے ہیں۔ یہ کونسلر ان کی مدد کے لئے سامنے آئیں گے‘۔ سکمز ڈائریکٹر نے اسپتال میں پی ای ٹی سکین کی تنصیب کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ میشن اب مکمل طور پر آپریشنل ہے۔ ڈاکٹر عمر نے جنرک میڈیسن کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو سستے داموں ادویات ملتی ہیں لیکن ان سے درکار افادیت حاصل نہیں ہوتی ہے تو پھر ایسی دوائیں لکھنے کا کیا فائدہ ہے‘۔ یو اےن آئی

