ریاستی و قومی سطح پر منعقدکھیلوں میں 6سونے ،4چاندی اور 1کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا
اعجاز ڈار
سرینگر کے بالاہی با غ بژھ پورہ علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک کمسن طالبہ نے مقامی اور قومی سطح پر منعقد کھیلوں میں سونے کے 6، چاندی کے 4اور کانسی کا ایک تمغہ حاصل کرکے نہ صرف ریاست جموں کشمیر بلکہ واپنے والدین کا نام روشن کیا ۔ اسی دوران کمسن طالبہ کی بہترین کارگردگی کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والی سکائی مارشل آرٹ چمپئن شپ کیلئے منتخب کیا گیا ۔کے پی ایس کے مطابق سرینگر کے الاہی باغ بژھ پورہ علاقے سے تعلق رکھنی والی 9سالہ زینب مشتاق دختر میر مشتاق احمد نے نومبر 2016سے کھیل کے میدان میں قدم رکھ کر ایسے کارنامے انجام دئے جس شاید ہی کوئی اور دیں سکتا ہے ۔ ڈریم لینڈ اسکول گاندربل میں چوتھی جماعت میں زیر تعلیم کمسن بچی نے ضلعی ، ریاستی اور قومی سطح پر منعقد کھیلوں جن میں کراٹے ، سکائی مارشل آرٹ اور دیگر چمپئن شپ قابل ذکر ہے میں حصہ لیکر اپنی صلاحیت کا بھر پور لوہا منواتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کی ۔کے پی ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے زنیب مشتاق کے والد میر مشتاق احمد نے بتایا کہ سال2016میں کھیل کے میدان میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی زینب نے اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرکے ا سکولی سطح اور ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے مقابلوں میں حصہ لیا اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرکے انعامات حاصل کئے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک سال کے کم وقفہ میں زنیب نے سونے کے 06،چاندی کے 04اور کانسی کا ایک تمغہ اپنے نام کیا جس میں انہوں نے گوا میں قومی سطح شطح پر منعقد کردہ چمپئن شپ میں ایک سونے کا جبکہ ایک کانسی کا تمغہ جیت لیا ۔مشتاق احمد نے بتایا کہ دسمبر کے مہینے میں گوا میں قومی سطح پر سکائی مار شل آرٹ چمپئن شپ منعقد ہوئی جس میں زینب کا مقابلہ عالمی چمپئن سے ہوا تاہم زنیب نے اسکو کراری شکست دیگر سونے کا تمغہ اپنے نام کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اس شاندار کامیابی کے بعد زینب کو بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونی والی سکائی مارشل آرٹ چمپئن شپ کیلئے منتخب کیا گیا تاہم گزشتہ دنوں نا معلوم وجوہات کی بنا پر چمپئن شپ کی تاریخ موخر کی گئی ۔میر مشتاق کا مزید کہنا تھا کہ زینب کی اس کامیابی میں اسکول کے علاوہ اس کے کوچ جن میں ڈاکٹر اقبال جو کراٹے کیلئے زینب کی کوچنگ کر رہا تھا جبکہ سکائی مارشل آرٹ میں اسے نذیر احمد کی سرپرستی حاصل ہوئی جس نے زینب کے علاوہ تمام کھلاڑیوں کی بہتر کوچنگ کرکے انہیں اس مقام پر پہنچا یا ۔ اسی دوران زینب مشتاق نے کامیابی کو والدین اور اساتذہ کے نام کرتے کہا کہ تما م با صلاحیت لڑکیوں کو کھیلوں میں بڑچڑھ کر حصہ لینا چاہئے تاکہ انہیں میں اپنے آپ کو کسی بھی حالات میں بچانے کی بھر پور صلاحیت حاصل ہو سکی ۔ انہوں نے بتایا کہ کھیل کود انسان کو تندرست بنانے کے علاوہ ان میں ذہنی صلاحیت پید ا کر تی ہے ۔
