جموں،سرینگر: ”اسپیکرکی اپیل کے باجوداسمبلی کارروائی کابائیکاٹ“کرنے والے ممبراسمبلی انجینئررشیدکے حامیوں نے سرینگرمیں احتجاجی جلوس نکالا۔انہوں نے ڈپٹی اسپیکر،محمداکبرلون اوربھاجپاممبران کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کہاکہ انجینئررشیدکی آوازدبانے کی ہرکوشش اورسازش کامقابلہ کیاجائیگا۔ ممبراسمبلی لنگیٹ کی جانب ایوان اسمبلی میں واپس آنے کی اپیل کوخاطرمیں نہ لائے جانے کے بعد اسمبلی اسپیکرکویندرگپتانے ایوان میں یہ اعلان کیاکہ وہ ممبراسمبلی کی جانب سے مارشلوں پرلگائے گئے مارپیٹ کے الزام کی تحقیقات کریں گے۔ایوان میں محمدیوسف تاریگامی سمیت کچھ اپوزیشن ممبران کی جانب سے انجینئررشیدکیساتھ مبینہ ہتک آمیزسلوک کامعاملہ اُٹھانے کے بعداسپیکرگپتاکاکہناتھاکہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کریں گے ۔تاہم اسپیکرنے ساتھ ہی کہاکہ مارشلوں پرلگایاگیاالزام اُنکی دانست کے مطابق صحیح نہیں ہے ۔کویندرگپتانے کہاکہ وہ اس معاملے پرانجینئرشیدکیساتھ بات کریں گے ۔خیال رہے منگل کے روزایوان اسمبلی میں محمداکبرلون سمیت کچھ ممبران کیساتھ نوک جھونک اورتلخ کلامی کے بعدڈپٹی اسپیکرنذیرگریزی نے مارشلوں کوہدایت دی کہ انجینئررشیدکوایوان بدرکیاجائے ۔ایوان بدرکئے جانے کے بعدممبراسمبلی لنگیٹ نے نامہ نگاروں کوبتایاکہ مارشلوں نے اُنکی مارپیٹ کی اوراُنکے ساتھ ہتک آمیرسلوک کیاگیا،اسلئے وہ رواں بجٹ اجلاس کی کارروائی کامکمل بائیکاٹ کررہے ہیں ۔ادھرسرینگرمیں بدھ کے روزممبراسمبلی لنگیٹ کے حامیوں نے عوامی اتحادپارٹی کے جھنڈے تل احتجاج کیا۔کے این ایس کوموصولہ بیان کے مطابق عوامی اتحاد پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں نے ریاستی اسمبلی کے اندر انجینئر رشید پر کئے گئے حملے کےخلاف بھر پور احتجاج کیا اور اس بات کا عہد کیا کہ اسمبلی کے اندر اور باہر انجینئر رشید کی آواز کو دبانے کی تمام سازشوں کا بھر پور توڑ کیا جائے گا ۔ پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں نے سرینگر میں شیر کشمیر پارک سرینگر سے لالچوک تک احتجاجی مارچ کیا۔ ہاتھوں میں بینر اور کالے جھنڈے اٹھاتے ہوئے مظاہرین ڈپٹی اسپیکر نذیر گریزی، محمد اکبر لون اور دیگر ممبران کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے لالچوک کی طرف بڑھے تاہم پریس کالونی کے قریب پولیس نے جلوس کو آگے بڑھنے سے روک دیا ۔ اس موقعہ پر پارٹی کے ترجمان ماجد بانڈے نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انجینئر رشید نے 2009سے آج تک اسمبلی کے اندر اور باہر جس طرح دیانتداری ، بے باکی اور خلوص کے ساتھ کشمیریوں کے جزبات کی کسی استحصال کے بغیر ترجمانی کی ہے وہ کشمیر کی تاریخ کا ایک حصہ بن چکا ہے ۔

