کرگل۵۱، جنوری ٹھٹھرتی سردی میں اسرائیل مخالف احتجاجی جلوس برآمدکرتے ہوئے کرگل میں مظاہرین نے نیتن یاہوکاپُتلااوراسرائیل وامریکہ کے پرچم نذرآتش کردئیے۔مقرین نے اسرائیلی وزیراعظم کی نئی دہلی میں آﺅبھگت پرسخت ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ کہ گاندھی کی سرزمین پرنیتن یاہوجیسے جنگی مجرم کااستقبال کرناافسوسناک ہے۔کشمی
تفصیلات کے مطابق خطہ لداخ کے کرگل قصبہ میں ہزاروں لوگوں نے رات کومنفی 20ڈگری سردی جھیلنے کے باوجودسوموارکواسرائیلی وزیراعظم کے دورہ بھارت کیخلاف سڑکوں پرنکل کراحتجاج کیا۔مقامی امام خمینی میمورئیل ٹرسٹ کے زیراہتمام اس احتجاجی جلوس اورمظاہرے میں شدیدٹھنڈکے باوجودہزاروں لوگ شامل ہوئے ۔
ہندوپاک وزراءاعظموں کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرین نے فلسطینی عوام کیساتھ مکمل یکجہتی کااظہارکیا۔ہاتھوں میں فلسطینی جھنڈے اورمختلف قسم کے بینراُٹھائے مطاہرین نے کرگل کے لالچوک میں جمع ہوکراپنی ناراضگی ظاہرکرنے کیلئے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکاپتلااورامریکہ واسرائیل کے پرچم شعلوں کی نذرکردئیے ۔
اس موقعہ پراحتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین گارڈئین کونسل امام خمینی میمورئیل ٹرسٹ نے کہاکہ گاندھی کی سرزمین پرنیتن یاہوجیسے جنگی مجرم کااستقبال کرناافسوسناک ہے۔انہوں نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ اگرآج تک بھارت مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کرتاآرہاہے توکس بناءپراسرائیلی وزیراعظم کااستقبال کیاجارہاہے ۔ کے این ایس
