ہندتوکی سیاست ہندستان کے عالمی طاقت بننے کی راہ میں حائل : سابق چیف جسٹس جگدیش سنگھ کیہر

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
نئی دہلی : اجودھیا تنازع کے حل کے لئے ثالثی کی پیش کش کرنے والے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جگدیش سنگھ کیہر نے ایک بار پھر اس تنازع کے پرامن حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندتوکی سیاست ملک کے عالمی طاقت بننے کی راہ میں حائل ہوسکتی ہے ۔

جسٹس(ریٹائر)کیہرنےکہا کہ 1947میں تقسیم کے دوران ہندؤوں اور مسلمانوں نے بھیانک تشددکا درد برداشت کیا تھا۔آزادی کے بعد ہندستان جہاں سیکولر ملک بنا ،وہیں پاکستان نے اسلامی ملک بننے کی راہ اختیار کی تھی ۔ انھوں نے کہا کہ ہندستان کے سابق لیڈروں نے یہ یقینی بنایاتھا کہ ملک میں مکمل سیکولرازم ہو ،لیکن اب ہم ایک بار پھر اسے بھولنے لگے ہیں اور ’جیسے کو تیسا‘ کی راہ پر چل پڑے ہیں ۔

سابق وزیر اعظم آنجہانی لال بہادر شاستری کی برسی کے موقع پر کل دیر شام یہاں نہرو میوزیم میں منعقدہ 14ویں یادگاری خطبہ میں انھوں نے کہا کہ کہ ہندستان عالمی طاقت بننے کی آرزو رکھتاہے ۔عالمی منظرنامہ میں اگر آپ مسلم ملکوں کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہتے ہیں تو آپ واپس اپنے ملک میں مسلم مخالف نہیں بن سکتے ۔اگر آپ عیسائی ملکوں کے ساتھ مضبوط رشتے قائم کرنا چاہتے ہیں تو آپ عیسائی مخالف نہیں بن سکتے ۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے