جمہوریت کی بقا کیلئے شفاف عدالتی نظام ضروری:سپریم کورٹ ججز

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

نئی دہلی : ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے چار ججوں نے پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس جسٹس جے چلامیشور کے گھر پر منعقد کی گئی تھی۔ ان کے ساتھ دیگر تین جج جسٹس رنجن گوگوئی ، جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس کورین جوزیف بھی موجود تھے۔ خیال رہے کہ ججوں کی تقرری کے سلسلہ میں حکومت اور عدالت کے درمیان جاری تصادم کی وجہ سے یہ پریس کانفرنس کی گئی تھی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس جے چلامیشور نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جو ہوا ، وہ صحیح نہیں تھا ، ہم نے چیف جسٹس کو سمجھانے کی پوری کوشش کی ، لیکن ہم کامیاب نہیں ہوسکے۔ ہم چاروں ججوں کا ماننا ہے کہ جمہوریت کی بقا کیلئے شفافیت ضروری ہے۔

جسٹس چلا میشور نے مزید کہا کہ ہم چاروں میڈیا کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں ، یہ کسی بھی ملک کی تاریخ میں غیر معمولی واقعہ ہے ، کیونکہ ہمیں یہ بریفنگ دینے کیلئے مجبور ہونا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بہت سے سمجھدار لوگ سمجھداری بھری باتیں کہہ رہے ہیں ، ہم نہیں چاہتے ہیں کہ 20 سال بعد لوگ کہیں کہ جسٹس چلامیشور ، گوگوئی ، لوکر اور کورین جوزیف نے اپنا ضمیر بیچ دیا اور آئین کے مطابق صحیح فیصلے نہیں دئے۔

ادھرہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے چار ججوں نے پریس کانفرنس کی اور ججوں کی تقرری کے معاملہ میں حکومت اور جوڈیشیل کے درمیان ٹکراو پر انہوں نے اپنی بات رکھی۔ ذرائع کے مطابق ججون کی پریس کانفرنس کے بعد پی ایم او بھی حرکت میں آگیا ہے اور خود وزیر اعظم مودی نے وزیر قانون روی شنکر پرساد سے بات چیت کی ہے۔ تاہم بتایا جارہا ہے کہ حکومت اس معاملہ سے خود کو الگ ہی رکھے گی۔

جسٹس چلا میشور نے مزید کہا کہ ہم چاروں میڈیا کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں ، یہ کسی بھی ملک کی تاریخ میں غیر معمولی واقعہ ہے ، کیونکہ ہمیں یہ بریفنگ دینے کیلئے مجبور ہونا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بہت سے سمجھدار لوگ سمجھداری بھری باتیں کہہ رہے ہیں ، ہم نہیں چاہتے ہیں کہ 20 سال بعد لوگ کہیں کہ جسٹس چلامیشور ، گوگوئی ، لوکر اور کورین جوزیف نے اپنا ضمیر بیچ دیا اور آئین کے مطابق صحیح فیصلے نہیں دئے۔

اس دوران سپریم کورٹ کے چار ججوں کی پریس کانفرنس کے معاملہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے اس وقعہ کا تذکرہ کیا ، جس کے بعد سپریم کورٹ میں ججوں اور سینئر ججوں کے درمیان عدم اطمینان بڑھنے لگا تھا۔ انہوں نے اس کیلئے پرساد میڈیکل کالج کے معاملہ کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ جج خود کو شہنشاہ سمجھنے لگے ہیں ، وہ آج کل کسی بھی سوال کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھتے ہیں۔

پرشانت بھوشن نے کہا کہ جس طرح پرساد میڈیکل کلالج معاملہ میں جو کچھ چیف جسٹس نے کیا ، وہ حیران کن تھا۔ انہوں نے یہ کیس سینئر ججوں سے لے لیا اور اس سے ڈیل کی اور پھر اسے جونیئر ججوں کو دیدیا گیا ، یہ سنگین بات ہی نہیں بلکہ کوڈ آف کنڈیکٹ کی خلاف ورزی بھی تھی۔ جس طرح سی جے آئی نے اپنی طاقت کا غلط استعمال کیا ، اس سے کسی کو تو ٹکرانا ہی تھا۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح یہ چاروں ججز سامنے آئے ہیں ، یہ ایک تاریخی ہے تو افسوسناک بھی ، لیکن یہ ضروری بھی تھا۔ آخر یہ سوال تو اٹھتا ہی ہے کہ آخر سی جے آئی کیوں سینئر ججوں سے کیس لے کر جونیئر ججوں کو دے رہے تھے۔ صاف ہے کہ وہ اپنی طاقت کی وجہ سے کھلواڑ ہی کررہے تھے ، اس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے ، ان ججوں نے اپنی آئینی ذمہ داری ادا کی ہے۔بشکریہ اردو نیوز 18۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے