جموں :وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ اُن کی حکومت سماج کے پچھڑے طبقے کے لوگوں بالخصوص مزدوروں اور بغیر اراضی کے لوگوں اور غیر منظم سیکٹر میں کام کرنے والے افراد کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے اور ان کے معیارِ زندگی میں بہتری لانے کی وعدہ بند ہے۔
ریاست میں غیر منظم سیکٹر میںکام کر رہے لگ بھگ تین لاکھ کامگاروں کیلئے محافظ نامی سماجی تحفظاتی نیٹ کی شروعات کرنے کے بعد ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس سیکٹر کے لوگوں کے معیار زندگی میں بہتر ی لانے کی اشد ضرورت ہے ۔انہوں نے اس طبقے کو سماج کی ترقی کے لئے کلیدی نوعیت کا قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے ان ورکروں کے بچوں کی بہتر پرورش کے ساتھ ساتھ انہیں معیاری تعلیم سے روشناس کرانے کے علاوہ انہیں سماجی تحفظاتی سکیموں کے دائرے میں لانے کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ موت واقع ہونے یا حادثات کے دوران جاں بحق ہونے یا زخمی ہونے کی صورت میں معاوضے کی گنجائش ہونی چاہیئے۔اُنہوں نے کہا کہ ورکروں کی روزمرہ کی زندگی میں بہتر ی لانے کے لئے اقدامات کئے جانے چاہیئے ۔انہوںنے سماج کے اس طبقے کے لئے بہبودی کی یہ منفرد سکیم شروع کرنے کے لئے لیبر محکمہ کی ستائش کی۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی حکومت سماج کے پچھڑے طبقے بالخصوص مزدور طبقے کو تقویت بخشنے کے لئے پُر عزم ہے کیونکہ اس طبقے نے ماضی میں کافی استحصال کیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے حال ہی میں ساٹھ ہزار کیجول ورکروں کی نوکریوں کو باقاعدہ بنانے کا تاریخی فیصلہ لیااور اب تک ان ملازمین کو اپنا مشاہرہ حاصل کرنے کے لئے بھی دھر دھر کی ٹھوکری کھانا پڑتی تھیں۔
وزیر اعلیٰ نے محکمہ کو مشورہ دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کامگاروں بالخصوص خواتین ورکروں کو اس سکیم کے دائرے میں لایا جائے۔انہوں نے کامگاروں کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے معیار حیات میں بہتری لانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے ورکروں کے بچو ں کے لئے ماہانہ سکالر شپ 1200روپے سے بڑھا کر 1500روپے کرنے کا موقعہ پر ہی اعلان کیا۔
اس موقعہ پر وزیر اعلیٰ نے جے کے بینک کے مائیکرو کریڈٹ لنکیڈ ڈبیٹ کارڈ کی بھی رسم رونمائی انجام دی۔ انہوں نے انشورنش سکیم کی شروعا ت کرنے کے ساتھ ساتھ ورکرس ویلفیئر بورڈ کی ویب سائٹ کا بھی افتتاح کیا۔ یہ سکیم مرحوم مفتی محمد سعید کی دوسری برسی کے موقعہ پر شروع کی گئی کیونکہ مرحوم نے پوری زندگی سماج کے پچھڑے طبقے کی بہبودی کے لئے بے مثال کام انجام دیا۔
اس سے قبل اپنے خطبے میں نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے تین برس سے کم قلیل عرصے میں کئی تواریخی فیصلے لئے جن کی بدولت سماج کے تمام طبقے مستفید ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ مزدور طبقے کی یومیہ اجرتوں میں پچھلے برسوں ے دوران خاطر خواہ اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ساٹھ ہزار کیجول ورکروں کی نوکریوں کو باقاعدہ بنانا حالیہ برسوں میں کسی بھی حکومت کی طرف سے سب سے بڑا بہبودی قدم ہے۔
خزانہ و روزگار کے وزیر ڈاکٹر حسیب اے درابو نے اپنے خطبے میں اس سکیم کے اہم نکات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سکیم کے تحت ویلفیئر بورڈ کے ساتھ رجسٹرشدہ ورکر کو حادثاتی موت کی صورت میں چار لاکھ روپے معمول کی موت پر دو لاکھ روپے دئیے جائیں گے۔اس کے علاوہ پوری طرح ناخیز ہونے والے ورکر کو دو لاکھ روپے جبکہ جزوی طور ناخیزی کی صورت میں ایک لاکھ روپے ورکر کو دئیے جائیں گے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ معمولی ایمرجنسی کی صورت میں ورکروں کے لئے دس ہزار روپے کی کریڈٹ فیسلٹی بھی دستیاب ہوگی۔انہوںنے کہا کہ آنے والے اوقات میں کامگاروں کو ہیلمنٹ ، سلیپرس ،وردیاں اور دیگر بچاﺅ آلات بھی دئیے جائیں گے۔
اس سے قبل جے اینڈ کے بلڈنگ اینڈ ادر ورکرس ویلفیئر بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر بشیر احمد خان نے بورڈ کے کام کاج اور دیگر سرگرمیوں کا تفصیلی خاکہ پیش کیا۔
لیبر کمشنر ڈاکٹر عبدالرشید ، جے کے بینک کے چیئرمین ، ایل آئی سی آف انڈیا کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ٹی آر مندی رتا اور کئی دیگر اعلیٰ افسروں کے علاوہ کافی تعداد میں کامگار بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔

