چلہ کلان کے بیچ پریس کالونی میں احتجاجی مظاہروں کی بہار

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر:مختلف محکموں میں کام کررہے ملازمین نے اپنی مستقلی جبکہ کرناہ سے آئے لوگوں نے سادھنا ٹاپ پر ٹنل تعمیر کرنے کے حق میںپریس کالونی سرینگر میں دھرنا دیکرزوردار احتجاجی مظاہرے کئے۔ شہر کے پریس انکلیو میں پیر کو احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ وقفے وقفے سے دن بھر جاری رہا۔

نمائندے نے بتایا کہ وادی کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے عارضی ملازمین کی ایک بڑی تعداد سوموار کی صبح پریس کالونی میں نمودار ہوئی اور حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کی۔یہ احتجاج جے اینڈ کے یونائٹیڈ ایمپلائز فورم کے بینر تلے کیا گیاجس میں ایگری کلچر، سریکلچر، ٹورازم سوشل فارسٹری اور پی ایچ ای محکمہ میں کام کررہے کیجول لیبروں نے شرکت کی ۔

احتجاج کے شرکاءنے اپنے مطالبات کے حق میں ہاتھوں میں پلے کارڈس اٹھا رکھے تھے۔ احتجاجی ملازمین ایس آر او64پر عملدرآمد کا مطالبہ کررہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک طویل عرصے سے مزدوروں کی حیثیت سے کام کررہے ہیں اورانہیں حال ہی میں عارضی ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے جاری کئے گئے ایس آر او520کے دائرے میں نہیں لایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ قریب60ہزار ایسے ورکر وں کو ساتویں تنخواہی کمیشن کی مراعات بھی دی جانی چاہئے۔مظاہرین نے کچھ دیر تک دھرنا دیا اور زوردار نعرے بلند کئے۔

نمائندے نے بتایا کہ اس احتجاج کے کچھ دیر بعد محکمہ تعلیم میں کُک ورکروں کے بطور عارضی طور کام کرنے والے ملازمین نے بھی پریس کالونی میں جمع ہوکر نعرے بازی کی۔وہ مانگ کررہے تھے کہ ان کےلئے محکمہ تعلیم میں کلاس پانچ یونٹ قائم کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر چہ ان کے بارے میں ایس آر او 308جارaی کیا گیا لیکن علیحدہ یونٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہ مختلف مراعات سے مسلسل محروم ہیں۔دریں اثناءسرحدی تحصیل کرناہ سے آئے لوگوں نے بھی پریس انکلیو کے باپر دھرنا دیا اور حکومت مخالف نعرے بازی کی۔وہ مطالبہ کررہے تھے کہ کپوارہ کرناہ شاہراہ پر سادھنا ٹاپ علاقے میں ایک ٹنل تعمیر کی جائے ۔

مظاہرین نے حال ہی میں سادھنا ٹاپ پر پیش آئے واقعہ میں جاں بحق ہونے والوں کی تصاویر اپنے ہاتھوں میں اٹھا رکھی تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ ٹنل کی عدم موجودگی کے باعث ہر سال بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا اتلاف ہوتا ہے۔انہوں نے ریاستی اور مرکزی سرکاروں پر زور دیا کہ ٹنل کی تعمیر کا کام فوری طور شروع کیا جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے حادثوں سے بچا جاسکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے