حزب المجاہدین کی پنچایت انتخابات لڑنے والوں کو تیزاب سے اندھا کرنے کی دھمکی

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

تعمیل ارشاد نیوز ڈیسک میڈیا رپورٹس:

سری نگر: وادی کشمیر میں سرگرم حزب المجاہدین کے آپریشنل کمانڈر ریاض نائیکو کا ایک دھمکی آمیز مبینہ آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے جس میں انہیں اپنے ماتحت جنگجوو¿ں کو ریاست میں 15 فروری سے شروع ہونے والے پنچایتی انتخابات میں کھڑے ہونے والے امیداروں کو تیزاب کا نشانہ بنانے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس انہوں نے کہا ہے کہ الیکشن لڑنے والوں کو مارنے کی پالیسی صحیح ثابت نہیں ہوئی ہے کیونکہ بقول ان کے مقتولین کے ورثاءکو بعد ازاں سرکار مختلف مراعات بشمول نوکریاں اور مالی مدد فراہم کرتا ہے جس سے وہ آباد ہوجاتے ہیں۔ وائرل ہونے والے قریب 12 منٹ طویل مبینہ آڈیو میں جب حزب المجاہدین کے جنگجو سمیرٹائیگر حزب کمانڈر نائیکو سے پنچایت الیکشن میں تنظیم کی حکمت عملی سے متعلق پوچھتے ہیں تو وہ اپنے جواب میں کہتے ہیں ’ہمیں کسی کو دھمکی دینی ہے نہ کسی کو مارنا ہے۔ ہم 29 برسوں سے دھمکی دیتے آئے ہیں۔ آپ دیکھئے کہ گذشتہ الیکشن میں کتنے لوگ مارے گئے۔ بعض کو ایجنسیوں نے ہلاک کیا۔ بعض ہمارے ہاتھوں مارے گئے۔ ان کے گھر والے آباد ہوئے ہیں‘۔

میڈیا رپورٹس کے مطا بق ریاض نائیکو کو آڈیو میں آگے یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے ’آپ نے دیکھا کہ سال 2016 میں کتنے نوجوانوں کو پیلٹ بندوقوں سے نابینا کیا گیا۔ اس لئے اس بار ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ نہ ہم دھمکی دیں گے اور نہ ہم کسی کو ماریں گے۔ لیکن جو بھی پنچایت الیکشن کے لئے کھڑا ہوگا اور اپنا فارم داخل کرے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطا بق سیدھے اس کے گھر جانا ہے ، اس کو اپنے گھر سے باہرنکال نکالنا ہے اور اس کی آنکھوں میں تیزاب کے تین چار قطرے ڈالنے ہیں۔ وہ بعد میں اپنے گھر والوں کے لئے بوجھ ثابت ہونا چاہیے۔ جو کوئی بھی الیکشن کے لئے کھڑا ہوگا، اس سے پہلے پوچھنا ہوگا کہ اسے کھڑا کرنے والا کون ہے۔ کچھ لوگوں کو نادان سمجھ کر الیکشن کے لئے کھڑا کیا جاتا ہے۔ جب وہ مذکورہ شخص کا نام لے گا، تو اس کا بھی یہی حشر کرنا ہے۔ اس سے ان کی سمجھ میں آئے گا کہ آج تک (پیلٹ گن سے ) نابینا ہوئے ہیں، ان کی کیا کیفیت ہے‘۔

میڈیا رپورٹس کے مطا بق ریاض نائیکو کے ایسے ہی آڈیو پیغامات گذشتہ برس (2017ء) میں بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے گذشتہ برس 25 دسمبر کو ریاست میں پنچایتی انتخاب کے انعقاد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی عوام نے ہمیشہ گولیوں کے بجائے ووٹ پرچیوں کو ترجیح دی ہے۔ محبوبہ مفتی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا تھا ’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ جموں وکشمیر میں پنچایتی انتخابات 15 فروری 2018 سے شروع ہوں گے۔ ریاست کے لوگوں نے ہمیشہ گولیوں کے بجائے ووٹ پرچیوں کو ترجیح دی ہے اور آگے بھی دیتے رہیں گے‘۔

ریاست میں پنچایتی انتخابات نان پارٹی بنیادوں پر ہوں گے۔ ریاست میں پنچایتی انتخابات سال 2011 ءمیں 37 برس کے طویل عرصے کے بعد منعقد کئے گئے تھے۔

عمر عبداللہ کی قیادت والی سابق نیشنل کانفرنس کانگریس مخلوط حکومت میں ہونے والے ان پنچایتی انتخابات کے دوران 4098 سرپنچ اور 29 ہزار 402 پنچ منتخب قرار پائے تھے۔ ریاست میں پنچایتی انتخابات سال 2016 میں منعقد کرانے تھے، لیکن جولائی کے اوائل میں معروف حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والی طویل احتجاجی مظاہروں کی لہر کی وجہ سے منعقد نہیں کئے جاسکے تھے۔

ریاست میں نئی حد بندی کے بعد 280 نئے پنچایتی حلقوں کا اضافہ ہوگیا ہے، جس سے ریاست میں پنچایتی حلقوں کی تعداد بڑھ کر 4378 ہوگئی ہے۔ پنچایتی انتخابات کا انعقاد نہ کرنے کی وجہ سے ریاست کا بھاری نقصان ہورہا ہے۔ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے پہلے ہی پنچایت انتخابات کے بائیکاٹ کی کال دے رکھی ہے۔ یو اےن آئی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے