کپوارہ :جسے اللہ رکھے اُسے کون چکھے۔۔۔؟ ایک شخص زندہ برآمد

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

جنوری62018تعمیل ارشاد نیوز ڈیسک

 

کپوارہ:جسے اللہ رکھے اُسے کون چکھے۔۔۔؟شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ میں برفانی تودے کی زد میں آئے9افراد میں سے ایک شخص کو 12گھنٹے کے بعد زندہ برآمد کیا گیا ۔یہ اللہ کی قدرت ہی کہ ریسکیو ٹیموں کو برف کے تودے میں زندہ دب گیا شخص زندہ برآمد کیا گیا ،اس سفید قہر میں پہلے ایک10سالہ بچہ معجزیاتی طور پر بچ گیا ہے۔

شمالی کشمیر کے کپوارہ کرناہ شاہراہ پر گذشتہ روز ایک بھاری برفانی تودے کی زد میں آکر نابود ہوچکی سومو گاڑی کے سواروں میں سے ایک شخص کو 12 گھنٹے بعد معجزاتی طور زندہ برآمد کیا گیا ہے۔سادھنا ٹاپ پر خونی نالہ کے قریب گذشتہ روز ایک سومو گاڑی برفانی تودے کے تلے دب گئی تھی اور اس میں سوار سات افراد غائب بتائے جارہے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جاری امدادی کارروائیوں کے دوران رات تین بجے رضاکاروں کو اسوقت خوش گوار حیرت ہوئی کہ جب انہوں نے منوں برف کے نیچے زندگی کا نشان پایا۔

غلام نبی بٹ ولد علی محمد ساکن کلمونہ تارتپورہ بے حس و حرکت تاہم زندہ تھے اور انہیں فوری طور اسپتال روانہ کیا گیا ہے جہاں انکا علاج ہو رہا ہے۔بٹ کے برف تلے دفن ہونے کے یہ بارہ گھنٹے بعد تھا کہ جب انہیں زندہ برآمد کیا گیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ایک دس سالہ بچے کو بھی برف کے ایک بھاری تودے کے نیچے سے زندہ بر آمدکیا گیا تھا ،تاہم یہ کامیابی حادثہ ہونے کے کچھ دیر بعد ہی ملی تھی۔حادثے میں مارے جانے والے ابھی تک تین افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے