کپوارہ میں سفید سونامی کا قہر،3لاشیں برآمد،6ہنوز لاپتہ

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

جنوری62018تعمیل ارشاد نیوز ڈیسک

کپوارہ:سرحدی ضلع کپوارہ میں سفید سونامی کے قہر کے باعث بیکن افسر سمیت9افراد لاپتہ ہوگئے جن میں سے اب تک3افراد کی نعشیں برآ مدکی گئیں جبکہ6مزید افراد ہنوز لاپتہ ہیں ۔برفا نی تودے کی زد میں آئے افراد کی تلاش کے حوالے سے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے ۔

شمالی کشمیر کے بالائی علاقوں میں ہوئی بھاری برفباری کی وجہ سے کرناہ جانے والی سڑک کے دو الگ الگ مقامات پر ایک سومو گاڑی اور پیدل جارہے چند مسافر برفانی تودے کی زد میں نابود ہوگئے ہیں۔ متاثرین میں سے ایک دس سالہ بچے کو معجزاتی طور زندہ نکالا گیا ہے جبکہ دیگراں میں سے فقط تین کی لاشیں برآمد کی جاسکی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کپوارہ سے سات مسافروں کو لیکرکرناہ کیلئے نکلی ایک سومو گاڑی، جس کا نمبر JK09A/3249 بتایا گیا ہے،نستہ چھن گلی کے قریب پہنچ کر ایک بھاری برفانی تودے کی زد میں آکر گویا نابود ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق اس حادثے کی خبر پانے پر عام لوگوں اور علاقے میں موجود فوجیوں نے بچاو کارروائیاں شروع کر دی تھیں ،تاہم موسم خراب ہونے اور شدید دھند کی وجہ سے انہیں جمعہ دیر رات تک کوئی کامیابی نہیں ملی تھی۔

اسی شاہراہ پر ایک اور دلدوز حادثے میں پیدال جارہے تین اور مسافر برف کے نیچے دب کر گویا غائب ہوگئے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ان میں ایک دس سالہ بچہ بھی تھا جو معجزاتی طور زندہ برآمد ہوا ہے اور فوری طور اسپتال روانہ کردیا گیا ہے۔ ایک پولس افسر نے اس بچے کی حالت مستحکم بتاتے ہوئے کہا کہ وہ معجزاتی طور بچ گیا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ ہفتہ کی صبح یہاں دوبارہ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا اور برفانی تودے کی زد میں آنے والوں میں سے تین کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں جنکی شناخت ،شکیلہ بیگم زوجہ عبدالرحیم پرے ساکن سلامان ٹنگڈار، الطاف احمد چک ولد سمندر چک ساکنہ ناوپورہ ٹنگڈار اور فرید حسین شاہ والد محمد علی شاہ ساکن چھم کوٹ کرناہ کے بطور،ہوئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ علاقے میں بچاﺅکارروائیاں ابھی بھی جاری ہیں اور دیگر مسافروں کی لاشیں نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے