وادی کشمیر درد کی جنت ،مداوا ناگزیر:بھارتی سیول سوسائٹی اراکین

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر: بھارتی سیول سوسائٹی اراکین نے کشمیر کو درد کی جنت قرار دےتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ جامع مذاکراتی عمل سے ہی مسئلہ کشمیر کا پرامن اور پائیدار حل تلاش کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ فورسز کو جوابدہ بنانے سے ہی بشری حقوق کی پاسداری کو یقینی بنایا جاسکتا ہے جبکہ افسپا جیسے قوانین کو ختم کرنے سے عوامی اعتماد کو بحال کیا جاسکتا ہے ۔مقررین نے پاکستان اور مزاحمتی لیڈر شپ کو سیاسی مسئلے کے حوالے سے اہم ترین متعلقین سے تعبیر کرتے ہو ئے کہا کہ قیام امن کےلئے ان دو اہم ترین متعلقین سے بات چیت لازمی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق سرینگر کے ایک ہوٹل میں ’چنار ڈائیلاگ ‘ کے عنوان سے بحث ومباحثے پر مبنی ایک کانفرنس منعقد ہوئی ،جس میں معروف بھارتی صحافیوں،دانشور وں اور سیول سوسائٹی کے اراکین کے علاوہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے سیول سوسائٹی اراکین ودانشوروں کے علاوہ طلباءوطالبات کی ایک خاصی تعداد نے شرکت ۔

مقررین میں نامور بھارتی صحافی سدھارتھ ور ادرجن،صحافی وسابق ممبر راجیہ سبھا شاہد صدیقی ،سیول سوسائٹی اراکین پروفیسر حمیدہ نعیم وغیرہ شامل تھے ۔اس موقع پر بھارت کے معروف صحافی سدھارتھ ور ادرجن نے کہا کہ جموں وکشمیر کے حوالے سے کون متعلقین ہیں اور کون نہیں ،یہ واضح ہونا چاہئے ۔ان کا کہناتھا کہ جب تک یہ واضح نہیں ہوتا ہے کہ کون متعلقین ہیں اور کون نہیں ،تب مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھ سکتا ہے اور نہ ہی کو ئی بڑی پیش رفت ممکن ہے ،جبکہ قیام امن کےلئے تمام متعلقین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ مسئلہ کے حوالے سے اقدامات اٹھائےں یا پہل کریں ۔

انہوں نے کہا ’میرے نظریہ یا خیال سے جموں وکشمیر کے5متعلقین (اسٹیک ہولڈر ) ہیں ،حکومت ِہند وستان ،فوج وفورسز ،پاکستان ،مزاحمتی لیڈر شپ اور مین اسٹریم لیڈر شپ ہے ‘۔انہوں نے کہا کہ جہاں حکومت ہند پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ بات چیت کرے ،وہیں اُس پر یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ پاکستان کے ساتھ بھی تعلقات کو بہتر بنائے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی کو بھی اپنے رویہ میں تبدیلی لانی ہوگی ،تاہم انہوں نے کہا کہ واجپائی ۔مشرف کا دور مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے تاریخی تھا ،تاہم بدقسمتی ہے کہ وہ عمل کسی نہ کسی وجہ سے آگے نہیں پڑ سکا ۔ نامور بھارتی صحافی سدھارتھ ور ادرجن کئی سوالوں کے جواب میں اعتراف کیا کہ وادی کشمیر میں فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیاں سر زر ہوتی ہیں ۔انہوں نے اس ضمن میں مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ بڈگام میں فاروق احمد ڈار نامہ نوجوان کو جیپ کے ساتھ باندھنے میں فوج کو تین سے پانچ منٹ کا وقت لگ گیا ہو گا ،لیکن اس دوران نہ تو کوئی پتھر چلتا ہے اور نہ ہی فوج گولی چلاتی ہے ،اتنے وقت میں فوج وہاں سے بہ آسانی گزر سکتی تھی ۔

ان کا کہناتھا کہ کسی کو جیپ کے ساتھ باندھ کر دیہات در دیہات گمانا انسانی حقوق کی پامالی ہے اور اس کا کوئی جواز نہیں ہونا چاہئے ۔ نامور بھارتی صحافی سدھارتھ ور ادرجن نے پی ڈی پی ،بھاجپا حکومتی اتحاد سے قبل جو کم ازکم مشترکہ پروگرام یا ایجنڈا آف الائنس سامنے آیا ،اُس میں کوئی مثبت چیزیں بھی تھیں ،جیسے کہ آر پار تعلقات کی بہتری ،راستوں کو کھولنے کی وکالت اور افسپا جیسے قوانین کا خاتمہ شامل ہے ۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے چھوٹے اعتماد سازی کے اقدامات سے ہی مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے راہ ہموار ہوگی ۔تاہم انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آگے بڑھنے کےلئے تمام متعلقین کو اپنا کلیدی کردار یا رول ادا کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ ہر ایک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشمیر کو درد اور تکالیف سے باہر نکالے ۔انہوں نے کہا کہ ہند پاک تعلقات میں بہتری کی ضرورت ہے ،تاہم دونوں ممالک کے اندورنی حالات ایسے ہیں ،کہ بات نہیں بن پارہی ہے ۔

بحث و مباحثے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر حمیدہ نعیم نے کہا کہ بھارت کو یہ حقیقت کو تسلیم کرنی ہی ہوگی کہ جموں وکشمیر ایک متنازعہ مسئلہ ہے اور فوجی طاقت وقوت پر بھارت نے یہاں قبضہ کر رکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ فوج وفورسز کو جموں وکشمیر کے مسئلے کے حل کے حوالے سے اہم متعلقین (اسٹیک ہولڈر )میں شامل کرنا ،مضحکہ خیز ہے ۔ان کا کہناتھا کہ فوج وفورسز کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی مرتکب ہو رہی ہیں ،جس پر جشن منایا جاتا ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ یہ کہنا کہ فوج وفورسزنے کشمیر میں ُڈبل سنچری ‘ مکمل کی ہے ،کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے ،کیو نکہ جن کو مار کر ڈبل سنچری مکمل کر نا دعویٰ کیا جاتا ہے اور جشن منایا جاتا ہے ،اُنکی عمریں محض 16اور17برس کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ کشمیر ی نوجوان اُس راہ کو اختیار کررہے ہیں ،جہاں اُنہیں موت کا کوئی خوف نہیں ہے ۔ان کا کہناتھا کہ کشمیر میں قیام امن کا انحصار مسئلے کے منصفانہ اور پائیدار حل پر ہے ،لہٰذا بھارت کو نوشتہ دیوار پڑھ کر مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات اٹھانے ہونگے ۔

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ،صحافی وسابق ممبر راجیہ سبھا شاہد صدیقی نے کہا کہ بھارتی سیول سو سائٹی کے پاس مسئلہ کشمیر کا حل تو نہیں ہے ،لیکن کشمیریوں کے درد اور تکلیف سے وہ بخوبی واقف ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک درد کی جنت ہے ،جہاں تکالیف ،پریشانیاں ،مسائل اور مشکلات ہی مشکلات ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بات کرنے سے ہی بات بننے گی ،بلے ہی اس میں وقت لگے ۔

ان کا کہناتھا کہ مذاکرات کے ذریعے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے ،لیکن مذاکراتی عمل کا تسلسل برقرار رہنا چاہئے ،ٹوٹنا نہیں چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ وہ بھارت کی حکومت اور بھارتی عوام کو کشمیر کی زمینی صورتحال کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے میں ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے ۔صحافی وسابق ممبر راجیہ سبھا شاہد صدیقی نے قیام امن کےلئے کشمیریوں کے درد کا مداوا ناگزیر ہے ۔

انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کےلئے فورسز کو جوابدہ بنا نا ہوگا اور مذاکراتی عمل کی کامیابی کےلئے خوشگوار ماحول پیدا کر نا بھی لازمی ہے ۔اس دوران دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔انہوں نے بھی مذاکراتی عمل کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ان کا کہناتھا کہ کشمیر ایک جنت ہے،اور اس جنت میں ضرور امن قائم ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی عوام کو کشمیریوں کے درد کو محسوس کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ایک ماں کو اپنے بچے کی فکرہوتی ہے ،اسی طرح کشمیری بچوں کی بھی فکر کر نی ہوگی ۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے