جموں:جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے انگریزی اور اردو کے بعد اب ہندی زبان میں بھی ٹویٹ کرنا شروع کردیا ہے۔ رواں برس کے 25 ستمبر کو ٹویٹنگ کا آغاز کرنے والی محبوبہ مفتی نے 3 دسمبر کو ریاست کی سرکاری زبان اردو میں بھی ٹویٹ کرنا شروع کردیا تھا۔ تاہم بعض ٹویٹر صارفین جن میں زیادہ تعداداہلیان جموں کی تھی، نے محترمہ مفتی سے ہندی میں بھی ٹویٹ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
محترمہ مفتی نے جب جمعرات کی صبح ہندی زبان میں اپنا پہلا ٹویٹ کیا تو محض چند گھنٹوں کے اندر اسے سینکڑوں بار ری ٹویٹ اور شیئر کیا گیا ۔تاہم بیشتر صارفین ہندی زبان میں ٹویٹنگ کے بجائے ٹویٹ کے متن پر اپنا ردعمل ظاہرکررہے تھے۔ محترمہ مفتی نے ہندی میں اپنا پہلا ٹویٹ پاکستان میں سزائے موت پانے والے سابق بھارتی فوجی افسر کلبھوشن یادیو کے بارے میں کیا۔ انہوں نے لکھا ’پاکستان کلبھوشن یادیو کے ساتھ انسانی رویہ اختیار کرے اور ان کے کیس کی منصفانہ سماعت ہو۔ پاکستان میں یادیو کی ماں اور اہلیہ کے ساتھ ہوئے سلوک سے بہت دکھ ہوا۔
انسانیت کو سیاست پر فوقیت ہونی چاہیے‘۔ بیشتر ٹویٹر صارفین نے محترمہ مفتی کے اس ٹویٹ کے ردعمل میں لکھا کہ انڈیا کو پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ اس نے انہیں (ماں اور اہلیہ) کو یادیو سے ملاقات کی اجازت دی‘۔ بعض صارفین نے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ ’کیا انہیں یاد ہے کہ انڈیا نے افضل گورو کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ انڈیا نے افضل گورو کے باقیات بھی واپس نہیں کئے‘۔ محترمہ مفتی نے جب 3 دسمبر کو اردو میں ٹویٹنگ کا آغاز کیا تو بعض افراد نے یہ کہتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے اس اقدام پر تنقید کی تھی کہ ’میڈم۔۔یہ انڈیا ہے۔۔ پاکستان نہیں کہ آپ اردو میں ٹویٹ کررہی ہیں‘۔
تاہم ٹویٹر صارفین کی بڑی تعداد نے اس اقدام کی سوشل میڈیا پر سراہنا کی تھی۔ 57 سالہ محبوبہ مفتی نے 4 اپریل 2016 ءکو ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے جموں وکشمیر کی پہلی مسلم خاتون وزیراعلیٰ بننے کا اعزاز حاصل کرلیاتھا۔کشمیر کے معاملات پر گہری نگاہ رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انگریزی کے علاوہ اردو اور ہندی میں ٹویٹنگ اور فیس بک پوسٹنگ کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنا ہوگا۔ انہوں نے کہا ’سوشل میڈیا کی طاقت واضح ہے۔ جموں و کشمیر میں سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو خبریں اور دیگر معلومات اردو اور ہندی میں پڑھنا پسند کرتی ہے‘۔ رواں برس ستمبر کے تیسرے ہفتے میں جب جموں وکشمیر کے محکمہ سیاحت نے ’زمین پر گرم ترین جگہ‘ کے عنوان سے مختصر فلم سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تو محترمہ مفتی نے اس فلم کی یوٹیوب لنک کو ٹویٹر پر شیئر کرکے اپنا پہلا ٹویٹ کیا تھا۔ یو این آئی
