تاجروں کے احتجاج سے کشمیر کے دونوں جانب تجارت معطل

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

مظفرآباد: تاجروں کے احتجاج کے باعث چکوٹھی-اوڑی کراسنگ پوائنٹ سے کشمیر کے دونوں جانب تجارت معطل ہوگئی جبکہ مطالبات کے حل تک معطل رہنے کا امکان ہے۔تاجروں کا دعویٰ تھا کہ پولیس اور پاکستان کسٹم کی جانب سے ان کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ کچھ عرصے سے تاجروں کی جانب سے شکایت کی جارہی تھیں کہ جب ان کے ٹرک اور دیگر تجارتی سامان پاکستانی زیر نتظام کشمیر سے پاکستانی علاقے میں داخل ہونے لگتا ہے تو کسٹم حکام کی جانب سے چھاپہ مار کر اسے قبضے میں لے لیا جاتا ہے۔

اس بارے میں انٹرا کشمیر ٹریڈرز کے ترجمان اعجاز احمد میر نے دعویٰ کیا کہ جیسے ہی ہمارے ٹرک کوہالا پل پار کرتے ہیں ہمیں پہلے خیبر پختونخوا پولیس کو ’مٹھائی‘ دینی پڑتی ہے اور اس کے بعد پنجاب پولیس بھی ہم سے اپنے حصے کی ’مٹھائی‘ مانگتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان دونوں کو مٹھائی دینا کافی نہیں اور پاکستان کسٹم کے حکام بھی ان ٹرکوں پر نظر رکھتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ انٹرا کشمیر تجارت کے ذریعے لایا گیا سامان صرف پاکستانی زیر نتظام کشمیر کے علاقے میں ہی فروخت کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 30 نومبر کو تاجروں نے اس صورتحال سے بچنے کے لیے گاڑیوں کو کارواں کی صورت میں لے جانا چاہا لیکن جب وہ فیض آباد (راولپنڈی) پہنچے تو کسٹم حکام کی جانب سے انہیں روک لیا گیا اور وہ ٹرکوں کو ضبط کرنا چاہتے تھے، جس کے نتیجے میں تصادم ہوا اور دو اہلکار اور تین تاجر زخمی ہوگئے۔

اس واقعے کے بعد کسٹم حکام کی درخواست پر صادق آباد تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی، جس میں 7 معلوم اور 39 نامعلوم تاجروں کو نامزد کیا گیا۔13 دسمبر کو صادق آباد پولیس نے آٓئی جے ٹی روڈ پر قافلے میں اسی طرح کی مداخلت کی اور تین تاجروں کو 2 ٹرکوں سمیت گرفتار کرلیا۔

اعجاز احمد میر نے دعویٰ کیا کہ کسٹم حکام نے ان کا کیلوں سے بھرا ٹرک ضبط کیا، جسے بعد میں نیلام کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 4 ہفتوں سے زائد سے کسٹم حکام نے سامان سے لدے 12 ٹرک کو ضبط کیا اور نیلام کیا گیا، جس سے تاجروں کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوا۔

ان کا کہنا تھا ایسا لگتا ہے کہ کسٹم حکام اور پنجاب پولیس کی جانب سے یہ سب تجارت کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا جارہا ہے۔خیال رہے کہ یہ تجارت اکتوبر 2008 میں شروع ہوئی تھی، جسے پاک بھارت ایل او سی کے درمیان دوسرا اہم کشمیر سے مخصوص اعتماد سازی اقدام کہا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت انٹرا کشمیر تجارت کے ذریعے لائے گئے سامان پر کسی قسم کی ڈیوٹی چاہتی ہے تو وہ ہمیں سرکاری طور پر ا?گاہ کرے اور کوہالا اور ا?زاد پٹھان کے مقام پر چیک پوسٹ تیار کرے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے