غالب ایک عہد ساز شخصیت: 220ویں یوم ولادت

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

الہامی شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب 27 دسمبر 1797 میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ آج ان کی 220 ویں یوم ولادت ہے۔شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جو دو صدی قبل پیدا ہوئے غالب کو نہ جانتا ہو، جو محض ایک شخصیت نہیں بلکہ عہد ساز شخصیت تھےاور بے مثال خوبیوں کا مرقع تھے۔

غالب کا پورا نام مرزا ا سداللہ بیگ خاں تھا۔ ان کی پیدائش آگرہ کے ایک فوجی خاندان میں ہوئی تھی۔ انہوں نے فارسی اور اردو میں اپنی شاعری کی۔ غالب کا نکاح 1810ئ میں 13 برس کی عمر میں امرا و¿ بیگم سے ہوا۔نکاح کے بعد وہ دہلی آ گئے اور اپنی پوری زندگی دہلی میں ہی بسر کی۔

شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی۔غالب اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں سے ایک ہیں۔ یہ بات مسلم ہے کہ 19 ویں صدی غالب کے نام سے ہی منسوب ہے جبکہ 18 ویں میر تقی میر کے نام سے جانی جاتی تھی۔اور 20 ویں صدی شاعر مشرق علامہ اقبال کی شاعری پر فخر کرتی ہے۔

عبد الرحمان بجنوری نے لکھا ہے کہ” ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں، دیوان غالب اور وید“۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انہوں نے مغلوں کی ایک عظیم الشان سلطنت کو برباد ہوتے دیکھا ہے۔ان کی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز آئے ،کبھی پنشن کے حوالے سے تو کبھی ملازمت یا گھریلو حالات کے۔

مختصر اًاگر ان کی حالات زندگی پر نظر ڈالی جائے تو انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی آرام نہیں کیا۔ اپنی پریشانی کا رونا وہ ہمہ وقت روتےرہے باوجود اس کے وہ اپنی زندگی سے لطف اندوز بھی ہوتے رہے۔غالب فطری اعتبار سے بہت مذاحیہ تھےاور جب ہنسی اڑانے پرآتے تو خود کو بھی نہیں بخشتے۔

وہ پرمزاق انداز میں اپنی ضعیفی کا شکوہ کچھ اس انداز سے کرتے ہیں کہ اب تو میں اتنا بوڑھا ہو گیا ہوں کہ ”صبح جتنی دیر میں، میں بستر سے اٹھتا ہوں اتنی دیر میں مجھ سے اونچی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔دوسری جگہ وہ رقم طراز ہیں کہ اپنے گھر کی شکایت کچھ اس انداز سے کرتے ہیں کہ، بارش ایک گھنٹے ہوتی ہے اور میری چھت چار گھنٹے برستی ہے۔

غالب کو آم سے بڑی رغبت تھی جس سے سبھی واقف ہیں۔ آم کے بارے میں مرزا غالب اور ان کے ایک رفیق کا واقعہ بہت ہی مشہورہے ۔جب وہ اپنے احباب کے ساتھ بیٹھ کر آم کھا رہے تھے، تو ان کے ایک رفیق کو آم پسند نہیں تھے۔ ایک گدھا آتا ہے اور آم کے چھلکے اور گٹھلی کو سونگھ کر چلا جاتا ہے تو غالب کے دوست کہتے ہیں کہ دیکھو گدھا بھی ا?م نہیں کھاتا، جس کے جواب میں غالب بے سا ختہ کہتے ہیں کہ بیشک گدھا آم نہیں کھاتا۔

آم غالب کو بےحد پسند تھے جب وہ اپنے رفیق کو ملیح آباد خط و کتابت کرتے ہیں تو وہ آم کی شکایت ضرور کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”نہ آم ہی آیا ہے اور نہ تم خود“۔اردو شاعری میں مرزا غالب کی حیثیت ایک درخشاں ستارے کے مانند ہے۔ انہوں نے اردو شاعری میں ایک نئی روح پھونک دی۔

مثلاً ان کے کچھ اشعار
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
کھلتا کسی پے کیوں میرے دل کا معاملہ
شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
ہوگا کوئی ایسا بھی جو غالب کو نہ جانے
شاعر تو وہ اچھا ہے پر بدنام بہت ہے

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے