محبوبہ مفتی نے راجوری عوام کی شکائت کے ازالہ کا کیمپ منعقد کیا

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

راجوری عوام تک پہنچنے کے اپنے پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے آج راجوری کا دو روزہ دورہ شروع کر کے یہاں عوامی شکائتی کیمپ منعقد کیا۔ دوران کیمپ انہوں نے لوگوں کی مانگیں سُنیں اور کئی معاملات میں مسائل کے ازالہ کے لئے موقعہ پر ہی ہدایات جاری کیں۔
وزراءچوہدری ذوالفقار علی اور عبدالغنی کوہلی اور ضلع کے قانون ساز بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔
وفود میں شامل لوگ جو عوامی شکائتی کیمپ میں وزیر اعلیٰ سے ملاقی ہوئے ، نے ڈیلی ویجروں، کنٹریکچول و دیگر ایڈہاک ملازمین کے ملازمتوں کو باقاعدہ بنانے کے لئے اُن کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کئی دہائیوں کے بعد اس قدم کو تاریخی قدم قرار دیا جس کی بدولت ریاست کے لاکھوں لوگ مستفید ہوں گے۔
قصبہ کے مختلف وفود نے سڑکوں کی تجدید اور مرمت و مغل روڈ کے راجوری۔ بفلیاز سڑک کے حصے کو بہتر بنانے، منی سیکرٹریٹ کی تعمیر، بُدھل۔ شوپیاں سڑک کا سروے مکمل کرنے، قصبہ میں پینے کے پانی کی قلت کو دور کرنے، قصبہ میں گندے پانی کے ٹریٹمنٹ پلانٹ اور قصبہ میں پارکوں کی ترقی کی مانگ پیش کیں۔ انہوں نے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ اور پارکوں کے قیام کے علاوہ وئیر ہاو¿س اور پارکنگ سلاٹس کی تعمیر کرنے کی بھی مانگ کی۔
وزیر اعلیٰ نے اس موقعہ پر قصبہ میں وئیر ہاو¿س کی تعمیر کے لئے50 لاکھ روپے واگذار کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے قصبہ میں پارکوں کی تعمیر کے لئے بھی رقم واگذار کرنے کا اعلان کیا۔
ڈونگی دیہات سے آئے ایک وفد نے ڈونگی۔ کلیاں سڑک کی توسیع، علاقے میں کیندریہ ودھیالیہ کے قیام کی مانگیں پیش کرنے کے علاوہ علاقے میں بجلی کے ترسیلی نظام میں بہتری لانے پر بھی زور دیا۔
وزیر اعلیٰ ڈونگی۔ گلیاں سڑک کی توسیع کے لئے40 لاکھ روپے واگذار کرنے کا اعلان کرنے کے علاوہ علاقے میں بجلی کے تقسیمی نظام کو مستحکم بنانے کے لئے10 ٹرانسفارمر فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
دراج سے آئے ایک وفد نے علاقے میں بجلی کے تقسیمی نظام کو مستحکم بنانے کے لئے گرڈ سٹیشن تعمیر کرنے اور
پینے کے پانی کی ترسیلی سہولیات کو مزید مستحکم بنانے کی مانگ کی۔ انہوں نے مقامی ہیلتھ سینٹر میں مزید سہولیات اور مقامی مڈل سکول کا درجہ بڑھانے کی بھی مانگ کی۔
وزیر اعلیٰ دراج میں واٹر سپلائی سکیم مکمل کرنے کے لئے 10 لاکھ روپے واگذار کرنے کا اعلان کیا۔ کالا کوٹ سے آئے وفد نے علاقے میں نئی کانوں کا سروے کرنے کی مانگ کی تا کہ مقامی لوگوں کے لئے روز گار کے مزید مواقعے پیدا کئے جاسکیں۔ پنج گیرہ سے آئے وفد نے مقامی ہائی سکول کا درجہ بڑھانے کی مانگ کی۔
مذہبی علماءپر مشتمل ایک وفد نے ریاست میں مدرسہ بورڈ کے قیام کی مانگ کی۔
کوٹ رانکہ سے آئے وفد نے علاقے میں کالج کے قیام ، علاقے میں سیاحت کو فروغ دینے ، آئی ٹی آئی کو چالو کرنے، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر تعینات کرنے کی مانگیں پیش کیں۔انہوں نے کوٹ رانکہ میں ریسلنگ اکاڈمی، فائیر سٹیشن قائم کرنے، سٹریٹ لائٹس نصب کرنے اوردرہال میں منصف کورٹ قائم کرنے کی مانگ کی۔
منجا کوٹ سے آئے وفد نے علاقے میں بہتر سڑک رابطہ سہولیت کا قیام عمل میں لانے، ڈگری کالج، منصف کورٹ قائم کرنے،کاکوڈا، بی جی سڑک کا باقی ماندہ حصہ مکمل کرنے اور پٹ رادھا واٹر سپلائی سکیم مکمل کرنے کی مانگ کی۔
کوٹا دھارا سے آئے وفد نے علاقے میں بنک کی شاخ کھولنے اور کمیونٹی ہال تعمیر کرنے، چیریاں اور کراہڈ میں سکولوں کا درجہ بڑھانے کی مانگیں پیش کیں۔ ایک اور وفد نے شاہدرہ شریف۔ تھنہ منڈی سڑک کو بہتر بنانے اور سٹریٹ لائٹس نصب کرنے کی مانگ کی۔ انہوں نے چاوا دیہات کو پینے کے پانی کی سہولیت فراہم کرنے کی بھی مانگ کی۔
وزیر اعلیٰ نے چاوا دیہات کے لئے واٹر سپلائی سکیم مکمل کرنے کے لئے10 لاکھ روپے واگذار کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کوٹ دھارا میں روڈ پروجیکٹ اور واٹر سپلائی سکیم کے لئے20 لاکھ روپے کی منظوری کا اعلان کیا۔
سندر بنی سے آئے وفد نے ہسپتال روڈ سے ناجائیز قبضہ ہٹانے، ریزن فیکٹری کی زمین کو واپس منتقل کرنے، مقامی ہائیر سکینڈری سکول کی فوری مرمت کرنے، قصبہ میں ریسٹ روم تعمیر کرنے اور تالہ نگارا پنچائت میں کلورٹ تعمیر کرنے کی مانگ کی۔
سنخاری سے آئے وفد نے پالم۔ سنخاری۔ پیری روڈ کی توسیع، سنخاری میں ڈاکخانہ کھولنے، پینے کے پانی کی سہولیت کو توسیع دینے، کمیونٹی ہال تعمیر کرنے اور ترالا سکول کو توسیع دینے کی مانگ کی۔
وزیر اعلیٰ نے برسالا واٹر سپلائی سکیم کو ایک ماہ کی مدت کے اندر چالو کرنے کی مانگ کی۔
وزیر اعلیٰ نے تمام وفود کی مانگیں دن بھر سنیں اور یہ سلسلہ شب گئے تک جاری رہا۔ کئی ایک معاملات میں محبوبہ مفتی نے شکایات کے ازالہ کے لئے موقعہ پرہی ہدایات جاری کیں جو وفود نے کافی سراہا۔
وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری روہت کنسل، ڈویثرنل کمشنر جموں ، وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کے اعلیٰ افسران ، مختلف
محکموں کے سربراہ، ڈپٹی کمشنر راجوری، ضلع کے سول اور پولیس افسران اس موقعہ پر موجود تھے۔
راجوری کے دورے کے ساتھ محبوبہ مفتی نے اب تک ریاست کے13 اضلاع میں عوام تک پہنچنے کا پروگرام روبہ عمل لایا جن میں صوبہ کشمیر کے پلوامہ، اننت ناگ، کولگام، کپواڑہ، بڈگام، بارہ مولہ، بانڈی پورہ اور صوبہ جموں کے رام بن، سانبہ، کٹھوعہ، کشتواڑ اور ڈوڈہ اضلاع شامل ہیں۔
ان عوامی شکائتی کیمپوں کے دوران وزیر اعلیٰ متعدد عوامی وفود و افراد سے ملیں اور ان کی شکایات بغور سنیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے