ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بدھ کو غیر معمولی اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ڈی پی کی سر براہی والی مخلوط حکومت60ہزار ڈیلی ویجروں اور کیجول لیبروں کو مستقل نوکریاں فراہم کررہی ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے یہ اعلان سماجی رابط ویب سائٹ ٹویٹر کے ذریعے کیا ۔انہوں نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے تحریرکیا کہ ’ہماری حکومت جموں و کشمیر کے مختلف سرکاری محکموں میں کام کر رہے تقریباً ساٹھ ہزار ڈیلی ویجروں اور کیجول لیبروں کو پائیدار زریعہ اور روزگار فراہم کرنے کے لیے انہیں مستقل نوکریاں فراہم کررہی ہے،جنہیں اسکی بے حد ضرورت ہے“۔
جموں وکشمیر حکومت نے مختلف سرکاری محکموں میں عارضی بنیادوں پر کام کرنے والے 60 ہزار ملازمین کو مستقل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’ہماری حکومت جموں وکشمیر کے مختلف سرکاری محکموں میں کام کررہے تقریباً ساٹھ ہزار ڈیلی ویجروں اور کیجول لیبروں کو پائیدار ذریعہ اور روزگار فراہم کے لئے انہیں مستقل نوکریاں فراہم کررہی ہے‘۔
مستقل کئے جانے والے ملازمین پر ایس آر او 202 کا اطلاق نہیں ہوگا جس کے تحت ملازمین کو پانچ سال تک صرف بیسک تنخواہ دی جاتی ہے۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ مستقل کئے جانے والے ملازمین کے لئے ایک علیحدہ ایس آر او لایا جائے گا۔ ریاست میں خزانہ، محنت و روزگار کے وزیر ڈاکٹر حسیب احمد رابو نے یو این آئی کو بتایا کہ مختلف محکموں میں کام کرنے والے قریب 60 ہزار ملازمین کی نوکریاں اگلے ہفتے مستقل کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا ’کابینہ نے اس سلسلے میں اکتوبر میں روڑ میپ مرتب کیا تھا۔ اس حوالے سے ایک نیا ایس آر او اگلے ایک ہفتے کے اندر سامنے لایا جائے گا‘۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ایس آر او 202 کا اطلاق مستقل ہونے والے ملازمین پر بھی ہوگاتو ڈاکٹر درابو کا جواب تھا ’نہیں۔
ان پر ایس آر او 202 کا اطلاق نہیں ہوگا۔ ان کے لئے ایک الگ ایس آر او مرتب کیا جائے گا‘۔ سی پی آئی (ایم) کے ممبر اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے عارضی ملازمین کی مستقلی میں ہوئی تاخیر پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ تاریگامی نے بتایا ’میں مطمئن نہیں ہوں کیونکہ اس میں بہت تاخیر ہوئی ہے۔ کئی دوسرے طبقات کو نظرانداز کیا گیا ہے‘۔

