ہندوارہ// ہندوارہ پولیس نے بیروزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بے وقوف بناکر انہیں بھاری رقومات کے عوض پولیس سمیت مختلف محکموں میں نوکریوں کے فرضی آرڈر تقسیم کرنے والے ایک برطرف شدہ ایس پی او کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیاہے۔مذکورہ جعلساز خود کو سرکاری بھرتی ایجنٹ جتلاکر سادہ لوح نوجوانوں کو اپنا شکار بناتا تھا۔
وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے درجن بھر پڑھے لکھے نوجوانوں نے کچھ عرصہ قبل ایس پی ہندوارہ غلام جیلانی وانی کے پاس اس بات کی شکایت درج کی کہ فیاض احمد بٹ ولد مرحوم عبدالعزیز ساکنہ ویلگام ہندوارہ نے انہیں سرکاری محکموں بالخصوص جموں وکشمیر پولیس میں نوکریاں فراہم کرنے کا جھانسہ دیکر بھاری رقومات اینٹھ لیں اور بعد میں انہیں یہ پتہ چلا کہ وہ ان میں نوکریوں کے فرضی آرڈر تقسیم کرتا تھا ۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ ان شکایات کی بناءپر پولیس نے فیاض احمد کے خلاف جال بچھایا اور اسے گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ابتدائی چھان بین کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ 32سالہ فیاض احمد اپنے آپ کو ایک سرکار ی بھرتی ایجنٹ جتلاکر تعلیم یافتہ نوجوانوں سے رقومات وصول کرتا تھا اور اس کے عوض انہیں نوکریوں کے جعلی آرڈر تھما دیتا تھا۔
ذرائع کے مطابق پولیس کو یہ بھی پتہ چلا ہے کہ نوجوانوں کو بے وقوف بنانے کیلئے فیاض احمد کبھی اپنے فون سے جعلی نمبرات پر بات کرتا تھا اور کبھی کبھار ڈرامائی انداز میں اعلیٰ افسران کے پاس جاتا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ فیاض احمد نے جب پولیس کے ایک سینئر آفیسر کے لیٹر ہیڈ پر لکھا گیا نوکری کا آرڈر ایک نوجوان کو تھما دیا تو وہ نوکری جوائن کرنے کی تاریخ معلوم کرنے کیلئے ہندوارہ پولیس کے پاس گیا جہاں اسے یہ بتایا گیا کہ اس کا آرڈر فرضی ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ فیاض احمد نوجوانوں کو مشاہرے کی بنیاد پر بطور ایس پی او تعیناتی کے آرڈر فراہم کرتا تھا۔چنانچہ دھوکہ دہی کے بارے میں معلوم ہونے پر امیدواروں نے پولیس میںشکایت درج کی اور پولیس نے اسے دھر لیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فیاض احمد ایک فرضی نام ظہور احمد کے ساتھ مجرمانہ سرگرمیاں انجام دیتا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق اس نے حال ہی میں منظور احمد خان ولد وفادار خان ساکنہ ہائہامہ بٹہ پورہ کپوارہ اور نذیر احمد میر ولد غلام حسن ساکنہ وارسن کپوارہ کو اپنا شکار بنایا ۔اسے حوالات میں بند کردیا گیا ہے اور اس کے خلاف ایف آئی آر زیر نمبر387/17زیر دفعات420اور467آر پی سی درج کرکے مزید تحقیقات شروع کی گئی ہے اور فیاض احمد سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔(کے ایم این )

