سرینگر پولیس نے دس روز قبل شوپیان میں ایک مقامی فوجی اہلکار کو اغوا کرنے کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کرنے میں ملوث جنگجوﺅں کی نشاندہی اور ان میں سے ایک کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واردات حزب المجاہدین کے کمانڈر صدام پڈر اور اس کے ساتھیوں نے انجام دی جن کی تلاش بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ 25نومبر کو جنوبی کشمیر کے پہاڑ ی ضلع شوپیان کے وتھمولہ ناڑ نامی گاﺅں میں اُ س وقت سنسنی پھیل گئی جب مقامی لوگوں نے نزدیکی میوہ باغ میں خون میں لت پت ایک لاش دیکھی ۔پولیس کی ایک ٹیم نے لاش کو اپنی تحویل میں لیکر اس کی شناخت 23سالہ عرفان احمد ڈار ولد غلام محمد ساکن سزی پورہ شوپیان کے بطور کی جو کہ فوج میں تعینات تھا۔جہاں اس کی لاش برآمد کی گئی، وہ جگہ اس کے گھر سے قریب دو کلومیٹر دور ہے۔ اس کے جسم پر گولیوں کے واضح نشان تھے جس سے یہ بات صاف ہوئی کہ اسے گولیاں مار کر قتل کردیا گیا ۔ عرفان احمد 175بٹالین ٹیریٹوریل آرمی سے وابستہ اور گریز بانڈی پورہ میں لائن آف کنٹرول پر فوج کی انجینئرنگ رجمنٹ کے ساتھ تعینات تھا۔ مذکورہ فوجی اہلکارچھٹی پر گھر آیا تھا اور24نومبر کی شام گھر سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہوگیاتھا۔پولیس کے مطابق معاملے کی نسبت پولیس اسٹیشن شوپیان میں ایف آئی آر زیر نمبر298/2017زیر دفعہ302آر پی سی درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی جس دوران اس ہلاکت کے بارے میں کچھ اہم سراغ پولیس کے ہاتھ لگے۔اس سلسلے میں بدھ کو پولیس کی طرف سے ایک تفصیلی بیان جاری کرکے دعویٰ کیا گیا کہ پولیس فوجی اہلکار کی ہلاکت میں ملوث جنگجوﺅں کی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ موصولہ بیان میں بتایا گیاکہ اب تک کی چھان بین کی بنیاد پریہ بات منکشف ہوئی کہ حزب المجاہدین سے وابستہ جنگجو کمانڈر صدام پڈر ساکن ہیف، بلال مہند ساکن ہیف اور توصیف احمد ساکن گڈ بگ کے علاوہ حال ہی میں جنگجوﺅں کی صفوں میں شامل ہونے والے مزمل احمد ساکن شرمال شوپیان نے عرفان احمد کو قتل کرنے کی مجرمانہ سازش رچی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس سازش کے تحت 24نومبر کو مزمل ہی عرفان کے آبائی گاﺅں گیا اور اسے وتھمولہ پہنچایا جہاں دیگر مذکورہ جنگجو ایک نزدیکی باغ میں پہلے سے ہی موجود تھے، وہ باغ سے باہر آئے اور سپاہی عرفان پر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں اس کی موقعے پر ہی موت واقع ہوئی۔پولیس کے مطابق یہ واردات انجام دینے کے بعد چاروں جائے واردات سے فرار ہوگئے۔پولیس نے بتایا کہ دستیاب ثبوت و شواہد کی بنیاد پر اس سازش کی تمام کڑیوں کے بارے میں پتہ لگایا گیا اور بالآخر مزمل کو گرفتار کیا گیا جو کہ اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے۔تاہم پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اس کی تحویل سے اسلحہ یا کوئی قابل اعتراض چیز برآمد ہوئی ہے یا نہیں!پولیس کے مطابق دیگر ملوث جنگجوﺅں کی تلاش جاری ہے اور تحقیقات کا عمل مکمل کرنے کےلئے مزیدقانونی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔

