حاجن:فوج کی گشتی پارٹی پر پتھراﺅ ،جوابی کارروائی میں کئی مضروب

fILE PHOTO
حاجن/  حاجن بانڈی پورہ میں اُس وقت حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے جب نوجوانوں نے فوج کی ایک گشتی پارٹی پراچانک سنگباری کی اور جواب میں ان پر ٹیر گیس شیلنگ، پیلٹ فائرنگ اور گولی چلائے جانے کے نتیجے میں5افراد زخمی ہوئے جن میں سے گولی لگنے سے مضروب ہوئے ایک نوجوان کو سرینگر کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا ہے جبکہ4افراد کو پیلٹ لگے ہیں۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ مشتعل فورسز اہلکاروں نے مکانوں کی زبردست توڑ پھوڑ اورلوگوں کی شدید مارپیٹ کے ساتھ ساتھ گھاس کی بڑی مقدار کو نذر آتش کرکے علاقے میں خوف و دہشت پھیلادی۔ بدھ کی صبح فوج کی13آر آر سے وابستہ اہلکاروں پر مشتمل ایک گشتی پارٹی حاجن کے پرے محلہ سے گزر رہی تھی کہ اس دوران گلی کوچوں سے نوجوانوں کی ٹولیاں نمودار ہوئیں اور انہوں نے فوجی اہلکار پر پتھراﺅ شروع کیا۔فوجی اہلکاروں نے جب جوابی کارروائی شروع کی تو پورے علاقے میں اتھل پتھل مچ گئی،حالات آناً فاناً کشیدہ ہوگئے، دکاندار دکانیں بند کرکے بھاگ گئے اور راہگیروں کو محفوظ مقامات کی طرف بھاگتے دیکھا گیا۔اسی اثناءایک جانب پولیس اور فورسز کی مزید کمک علاقے میں نمودار ہوئی اور دوسری جانب مزید نوجوان سڑکوں پر نکل آئے۔اس طرح فورسز اور مظاہرین کے مابین باضابطہ جھڑپوں کا آغاز ہوا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کےلئے پہلے اشک آور گیس کے گولے داغے گئے اور پھر پیلٹ فائرنگ کی گئی۔مقامی لوگوں کے مطابق فورسز نے مظاہرین پر راست فائرنگ بھی کی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ پتھراﺅ کے ساتھ ہی فورسز اہلکار اس قدر مشتعل ہوئے کہ انہوں نے ان کے راستے میں آنے والے ہر فرد کی بے تحاشا مارپیٹ اور مکانوں کی زبردست توڑ پھوڑ بھی کی جس کے نتیجے میں علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے پرے محلہ، بونہ محلہ، کھوسہ محلہ اور ملحقہ علاقوں میں قریب ایک درجن مقامات پر جمع کی گئی سوکھی گھاس کو آگ لگادی ۔ فورسز کی اضافی نفری کی تعیناتی کے باوجود کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے دوران5افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر کیمونٹی ہیلتھ سینٹر حاجن منتقل کیا گیا۔ان میں سے چار چھرے جبکہ ایک گولی لگنے سے مضروب ہوا ۔سی ایچ سی حاجن میں تعینات ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ اسپتال میں5زخمیوں کو لایا گیا جن میں شامل نعیم احمد میر نامی ایک نوجوان کے بائیں ٹخنے میں گولی لگی ہے اور اسے مزید علاج و معالجہ کےلئے بون اینڈ جوائنٹ اسپتال برزلہ سرینگر ریفر کیا گیا جبکہ چار دیگر زخمیوں کا علاج اسی طبی مرکز پر کیا گیا۔اس صورتحال کی وجہ سے علاقے کے حالات دن بھر پرتناﺅ رہے اور امن و قانون کو برقرار رکھنے کےلئے پولیس اور فورسز کی بھاری تعداد تعینات رہی۔ (کے ایم این )
Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے