سرینگر// شبانہ سردیوں میں متواتر اضافے کے بیچ محکمہ موسمیات نے جموں، کشمیر اور لداخ میں 11سے15دسمبر تک درمیانہ سے بھاری برفباری اور بارشوں کی وارننگ جاری کی ہے جس کے نتیجے میں دن جے درجہ حرارت میں کمی اور رات کے کم سے کم درجہ حرارت میں اضافے کا امکان بھی ہے۔اس وارننگ کے پیش نظر حکومت نے تمام متعلقہ محکموں کو کسی بھی ممکنہ صورتحال کےلئے تیار رہنے کی ہدایت دی ہے ۔ وادی کشمیر میں موسم بدستور خشک رہنے سے اہل وادی طرح طرح کی مشکلات سے دوچار ہیں۔اگر چہ حال ہی میں کئی بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری بھی ہوئی، تاہم اس کے بعد موسم خشک رہنے سے شبانہ سردیوں کی شدت میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔کئی ماہ سے جاری خشک سالی کے نتیجے میںدریائے جہلم میں پانی کی سطح تشویشناک حد تک کم ہونے کے ساتھ ساتھ متعدد ندی نالے مکمل طور سوکھ گئے ہیں۔ خشک موسم کے چلتے سردی سے لگنے والی بیماریوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جبکہ دوسری جانب زراعت اور باغبانی سے وابستہ لوگوں کو بھی فکرو تشویش لاحق ہوئی ہے۔ تاہم اب محکمہ موسمیات نے طویل خشک سالی ٹوٹ جانے کی پیشن گوئی کی ہے۔سرینگر میں محکمے کے ڈائریکٹر سونم لوٹس نے کہا کہ اگلے ہفتے کے اوائل میں یہ خشک سالی ٹوٹ جانے کا امکان ہے کیونکہ11سے15دسمبر کے درمیان وادی کے ساتھ ساتھ جموں اور لداخ میں بھی درمیانہ سے بھاری درجے کی بارشیں اور برفباری متوقع ہے ۔ سونم لوٹس نے بتایا کہ بحیرہ عرب سے نمی حاصل کرنے والی تازہ مغربی ہوائیں11دسمبرسے ریاست کی فضاﺅں میں داخل ہوکر موسم پر اثر انداز ہونا شروع ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ اس موسمی تبدیلی کے نتیجے میں ریاست کے تینوں خطوں یعنی جموں، کشمیر اور لداخ میں بیشتر مقامات پر برفباری اور بارشوں کا امکان ہے۔ سونم لوٹس نے بتایا”ان ہواﺅں کے نتیجے میںموسم سے متعلق بنیادی سرگرمی12اور13دسمبر کو دیکھنے کو ملے گی جب درمیانہ سے بھاری درجے کی بارشیں اور برفباری متوقع ہے جس کے بعد اس کی شدت میں کمی واقع ہوگی“۔محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹرنے کشمیر میڈیا نیٹ ورک کو بتایا کہ یہ رواں موسم کے دوران ریاست میں بارشوں اور برفباری کا پہلابڑا مرحلہ ہوگا جس کے باعث سرینگر لیہہ، سرینگر جموں اور مغل شاہراہ سمیت زمینی اور فضائی ٹریفک متاثر ہونے کا ابھی امکان ہے۔سونم لوٹس نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس عرصے کے دوران وادی اور لدا خ کے بالائی علاقوں کے ساتھ ساتھ جموں کے پہاڑی علاقوں میں درمیانہ سے بھاری درجے کی برفباری متوقع ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ آنے والی موسمی تبدیلی وادی کے میدانی علاقوں میںکسانوں بالخصوص ربی فصلیں اُگانے والوں کےلئے راحت کا پیغام لیکر آئے گا اور زمین کی نمی میں بہتری ہوگی۔محکمہ موسمیات نے کسانوں کو اس ہفتے اپنے کھیتوں کی سینچائی نہ کرنے کی صلاح دی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس موسمی تبدیلی کے نتیجے میں دن جے درجہ حرارت میں کمی اور رات کے کم سے کم درجہ حرارت میں اضافے کا امکان ہے۔ ادھر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ موسمیات کی اس وارننگ کے پیش نظر حکومت نے تمام متعلقہ محکموں کو تیار رہنے کےلئے کہا ہے اور اس ضمن میں ان محکموں کے افسران اور اہلکاروں کے نام ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔دریں اثناءخشک موسم کے چلتے سردی کی شدید لہر کا اندازہ اس بات سے لگاےا جا سکتا ہے کہ پوری وادی میں رات کا کم سے کم درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب کے دوران ریاست کے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی3.3ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گےا ۔اس شب کے دوران لداخ کا لیہہ علاقہ سرد ترین علاقہ ثابت ہوا جہاںرات کا کم سے کم درجہ حرارت منفی13.6ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ رات جنوبی کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی2 جبکہ گلمرگ میں منفی 3.8ڈگری سیلشیس رہا۔جموں شہر میں رات کا کم سے کم درجہ حرارت6.4، کٹرہ میں8، بٹوت میں4.9، بانہال میں1.4، ادھم پور میں2.4اور بھدرواہ میں3.5ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا۔

