امریکہ اصدر ٹرمپ کا طالبان راہنماں سے ملاقات کا اعلان

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر /1 مارچ: ور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد امریکی صدرٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد افغان طالبان کے راہنماں سے ملاقات کریں گے ۔کشمیر نیوز ٹرسٹ کے مطابق وائٹ ہاوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ مستقبل قریب میں طالبان راہنماں سے ملاقات کے خواہش مند ہیں تاہم ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ ملاقات کہاں ہوگیانھوں نے کہا کہ رواں برس مئی تک افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں پانچ ہزار تک کمی کی جائے گیصدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج افغانستان میں دہشت گردوں کو ہلاک کر رہی تھیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ کوئی اور اس کام کو سرانجام دے یہ کام اب طالبان کریں گے یاافغانستان کے ہمسایہ ممالک انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ طالبان کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں جو اس بات کا اظہار کرے ہم سب وقت ضائع نہیں کر رہے اگر اب بھی کچھ برا ہوتا ہے تو ہم اتنی قوت سے واپس افغانستان جائیں گے جو کسی نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گیکے این ٹی کے مطابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں 19سال تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران ایک لاکھ افغانوں اور 35سو اتحادی فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئیں امریکا کو مجموعی طور پر 2ہزار ارب ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑا جنگی تباہ کارروائیوں کے شکار افغانستان میں مزید تباہ حالی کا شکار ہوا اس عرصے میں ایک لاکھ افغان شہریوں کا جانی نقصان ہوا جن میں خواتین اور بجے بھی شامل تھے.2001میں نوگیارہ کے واقعات کے بعد امریکا نے افغانستان میں اس واقعے کے ذمے داران کو کیفرکردار تک پہنچانے کا جواز بنا کر اپنے اتحادیوں کے ساتھ جنگ کا آغاز کیا‘چند ماہ بعد ہی طالبان کابل سمیت دیگر شہروں کو خالی کرکے پہاڑوں میں چلے گئے اور اسامہ بن لادن سمیت القاعدہ کی دیگر قیادت بھی روپوش ہوگئی امریکا نے جنگ کو طول دیتے ہوئے افغانستان میں قیام کا فیصلہ کیا‘امریکا کا ساتھ دینے والی نیٹو افواج نے 2014 میں اپنی افواج کو واپس بلانا شروع کردیا اوراپنی سرگرمیاں صرف افغان فوج کی تربیت تک محدود کردیںلہذاامریکا کو اکیلے اس جنگ کو آگے بڑھانا پڑا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے