روہنگیا پناہ گزین ریاست کی سیکورٹی کیلئے خطرہ: جموں وکشمیر اسمبلی اسپیکر کا بیان

جموں:: جموں وکشمیر اسمبلی کے اسپیکر کویندر گپتا نے جموں میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کو ریاست کی سیکورٹی کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو حالیہ دنوں میں منشیات اور سیکس سکنڈلوں میں ملوث پایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کو میانمار سے نکالا گیاتو ہماری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں لیکن ان کا بڑی تعداد میں جموں وکشمیر پہنچا ایک تشویشناک امر ہے۔

روہنگیا مسلمانوں پر اپنے حالیہ بیان کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنے والے اسمبلی اسپیکر مسٹر گپتا نے پیر کے روز یہاں ایک نیوز پورٹل سے بات کرتے ہوئے کہا ’روہنگیا پناہ گزین ہمارے لئے سیکورٹی خطرہ ہیں۔ یہ میرا ماننا ہے۔ حال کے دنوں میں ان کو منشیات اور سیکس سکنڈلوں میں ملوث پایا گیا۔ سرکار کو اس طرف دھیان دینا چاہیے۔ اگر ان کو میانمار سے نکالا گیا ہے تو ہماری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ لیکن اتنے روہنگیا جموں وکشمیر کیسے پہنچے۔

یہ ایک تشویشناک امر ہے۔ اس کے پیچھے کوئی دوسرا مقصد ہوسکتا ہے‘۔ واضح رہے کہ جموں کے گاندھی نگر میں واقع سنجوان ملٹری اسٹیشن پر 10 فروری کو ہوئے فدائین حملہ کے تناظر میں کویندر گپتا نے اسمبلی کے اندر ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حملہ علاقہ میں روہنگیا مسلمانوں کی موجودگی کی وجہ سے پیش آیا ۔ ان کا کہنا تھا ’علاقہ میں روہنگیا پناہ گزینوں کی موجودگی ایک سیکورٹی خطرہ بن گیا ہے۔ حملے میں ان پناہ گزینوں کا بھی ہاتھ ہوسکتا ہے‘۔ انہیں اس بیان پر اپوزیشن نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے اراکین کی شدید برہمی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسمبلی میں اپنے متنازع بیان سے قبل اسپیکر گپتا نے ملٹری اسٹیشن کے باہر نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ روہنگیا مسلمان پہلے سے ہی شک کے دائرے میں تھے۔ انہوں نے کہا تھا ’اس میں کوئی دو رائے نہیں کہیں کہیں سیکورٹی میں چوک ہوئی ہے۔ یہاں رہنے والے لوگ (روہنگیا مسلمانوں) پہلے سے ہی شک کے دائرے میں تھے۔ انتظامیہ نے پہلے ہی ان کے خلاف کاروائی کی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ جلد ہی ان پر کوئی فیصلہ لیا جائے گا‘۔

سنجوان ملٹری اسٹیشن پر فدائین حملہ اور اسمبلی کے اندر و باہر بی جے پی کے اراکین کی روہنگیا مسلمانوں سے متعلق متنازعہ بیان بازی کے پس منظر میں جموں کے مضافاتی علاقہ گاندھی نگر کے چھنی راما علاقہ میں 10 فروری کی رات کو کچھ شرارتی عناصر نے روہنگیا پناہ گزینوں کی جھگی جھونپڑیوں کو مبینہ طور پر آگ کے شعلوں کی نذر کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ ان شرارتی عناصر نے جھونپڑیوں کی طرف کچھ پوسٹر بھی پھینکے تھے جن پر لکھا تھا کہ روہنگیا پناہ گزینوں کو واپس بھیجا جائے۔

بی جے پی اور پنتھرس پارٹی پہلے سے ہی جموں میں روہنگیائی مسلمانوں کی موجودگی کے خلاف ہیں۔ جموں میں اگرچہ مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے قریب تین لاکھ رفیوجی بھی رہائش پذیر ہیں، تاہم بی جے پی اور پنتھرس پارٹی انہیں ہر ایک سہولیت فراہم کئے جانے کے حق میں ہیں۔ حکومتی اعداد وشمار کے مطابق جموں کے مختلف حصوں میںمقیم میانمار کے تارکین وطن کی تعداد محض 5 ہزار 700 ہے۔ یہ تارکین وطن جموں میں گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے مقیم ہیں۔

گذشتہ برس فروری کے اوائل میں جموں شہر میں چند ہورڈنگز نمودار ہوئیں جن کے ذریعے پنتھرس پارٹی کے لیڈروں نے روہنگیائی اور بنگلہ دیشی مسلمانوں کو جموں چھوڑنے کے لئے کہا تھا۔ مرکزی سرکار کی جانب سے گذشتہ برس سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ دائر کیا گیا جس میں روہنگیا مسلمانوں کو ملک کی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔ تاہم نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر میں یہ خطرہ مابعد 2014 ءپیش رفت کا پیدا کردہ ہے۔ یو اےن آئی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے