سرینگر 16 جنوری : مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کے اُس بیان پر کہ جموں وکشمیر میں آل آؤٹ نام کا کوئی آپریشن نہیں چل رہا ہے کو زمینی حقائق سے بعید اورگمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کی طرف سے بار بار واضح الفاظ میں یہ بیانات دیئے جاتے رہے ہیں کہ جموں وکشمیر میں آپریشن آل آؤٹ کے تحت کارروائیاں جاری ہیں جس کے تحت بھارتی فوج کی طرف سے کشمیر کے طول و عرض خاص طور پر جنوبی کشمیر میں آئے روز کی ہلاکتوں ، مار دھاڑ، قتل و غارت گری ،خانہ تلاشیوں،خواتین کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات ، ہراسانیوں اورمزاحمتی قیادت کی پر امن سرگرمیوں پر قدغنیں اور پابندیاں برابر اور تسلسل کے ساتھ جاری ہیں اور یہ سب کچھ آپریشن آل آؤٹ نہیں ہے تو کیا ہے ؟قائدین نے کہا کہ یہاں قدم قدم پر فوج کے سخت پہرے ہیں اور بڑی بے دردی کے ساتھ نہتے نوجوانوں کو قتل کیا جارہا ہے ، طاقت اور تشدد کے بل پر نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کرکے اُن سے جینے کا حق چھینا جارہا ہے، ہماری پر امن سرگرمیوں پر بھی آئے روز پہرے بٹھائے جا رہے ہیں، خانہ و تھانہ نظر بندیوں کا سلسلہ جاری ہے یہاں تک کہ ہمیں شہیدوں کی نماز جنازہ میں شرکت اور لواحقین کے ساتھ تعزیت کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور یہ سلسلہ ایک طویل عرصے سے بالخصوص گزشتہ تین سالوں سے برابر جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں قابض افواج کوافسپا اور کالے قوانین کے بل پر جو بے پناہ اختیارات تفویض کئے گئے ہیں اُن کا بے دردی سے استعمال کرکے نہتے عوام کو پُر تشدد کارروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فوج پولیس اور وزارت داخلہ کی جانب سے یہ بیان کہ کشمیر میں صرف دوسو کے قریب عسکریت پسند سرگرم عمل ہیں اس کے لئے ساڑھے سات لاکھ افواج کی تعیناتی کا کیا جواز ہے ؟۔ حقیقت یہ ہے کہ جموں وکشمیر کو ایک پولیس سٹیٹ میں تبدیل کردیا گیا ہے اور طاقت کے بل پر عوام کے جملہ حقوق سلب کر لئے گئے ہیں اور اس ریاست کے حوالے سے فیصلے بھارت کی سیاسی قیادت کے بجائے فوج اپنے طور پر لیتی ہے ۔قائدین نے2018ء میں جموں وکشمیر کے حدود میں قتل و غارتگری اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے تعلق سے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ سال گزشتہ قابض فورسز کے ہاتھوں161 نہتے شہری،جبکہ 355 عسکریت پسندوں کو شہید کیا گیا اتنی بڑی تعداد میں بے گناہوں کا قتل عام ، آپریشن آل آؤٹ نہیں تو پھر اور کیا ہے ؟۔ اس دوران بلٹ اور پیلٹ سے 4524 افراد کو شدید طور پر زخمی جبکہ 724 افراد کی آنکھیں شدید طور پر متاثر ہوئی۔آخر یہ سب کچھ کیا ہے؟قائدین نے جموں وکشمیر کے متنازعہ مسئلہ کے ہیئت اور حیثیت کو بگاڑنے کے کسی بھی عمل کیخلاف بھر پور مزاحمت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کشمیری عوام سے اپیل کی کہ وہ بھارت کی جانب سے یہاں کے مبنی برحق جدوجہد کوکمزور کرنے اور اس مسئلہ کی تاریخی حیثیت اور ہیئت کو بگاڑنے کے منصوبوں کے حوالے سے چوکنا رہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ میں ء State Subject Law , 35A کے حوالے سے دائر پٹیشن کے ضمن میں 19 جنوری2019ء کو شنوائی کی تاریخ طے تھی لیکن کورٹ کے روسٹر میں مذکورہ تاریخ میں اس پٹیشن کی شنوائی موجود نہیں ہے تاہم مزاحمتی قیادت نے جموں وکشمیر میں تمام سیاسی، تجارتی ، مذہبی اور سماجی انجمنوں، سول سوسائٹی کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور قیادت پورے معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس ضمن میں اگلے پروگرام سے عوام کو اگاہ کیا جائیگا۔قائدین نے یہ بات زور دیکر کہی کہ حکومت ہندوستان یہاں ایک منصوبے کے تحت اس ریاست کی آبادی Demography کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے تاکہ اس متنازعہ مسئلہ کی تاریخی حیثیت کو تبدیل کیا جاسکے جس کی ہرگز اجازت نہیں دی جائیگی۔

