پی ڈی پی کی بنیاد اور سیاست جھوٹ اور فریب پر مبنی ، اس بار ہمارا مقابلہ براہ راست آر ایس ایس کیساتھ ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ

By
5 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر 16 جنوری: یاست کی انفرادیت ، شناخت اور وحد کو ہر قیمت پر قائم ودائم رکھنے کا عزم دوہراتے ہوئے صدر جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس ( رکن پارلیمان)ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ آج ہمارا مقابلہ براہ راست آر ایس ایس اور بھاجپا سے ہے اس لئے ہمیں متحدہ ہوکر تقسیمی اور کشمیر دشمن عناصر کو ناکام بنانا ہوگا۔سی این ایس کے مطابق ان باتوں کا اظہار انہوں نے آج بٹہ مالومیں یک روزہ پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، سینئر لیڈران چودھری محمد رمضان، عرفان احمد شاہ(انچارج کانسچونسی)،پیر آفاق احمد، ایڈوکیٹ شوکت احمد میر اور بلاک صدور صاحبان بھی موجو دتھے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ سابق پی ڈی پی بھاجپا حکومت نے مرکز کی غلط پالیسیوں کو من و عن ریاست میں عملایا، جس کا نتیجہ ہم آج بخوبی زمینی سطح پر دیکھ سکتے ہیں۔ بھاجپا نے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کیلئے وادی کو آگ کے شعلوں کی نذر کردیا جبکہ جموں میں فرقہ پرستی کے رجحان کو ہوا دی۔ اُن کا کہنا تھا کہ آج یہاں جو کچھ ہورہا ہے اُس کا خاکہ آر ایس ایس نے کھینچا ہے ، یہ لوگ ریاست جموں وکشمیر کو ٹکڑوں میں بانٹنا چاہتے ہیں اور اس کیلئے یہ لوگ ہمیں مذہب، زبان اور علاقائی بنیادوں پر لڑوانے کی مذموم کوششیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کو اپنی انفرادیت ، وحدت ، پہچان اور کشمیریت کو قائم رکھنے کے لئے ہمیں متحدد ہو کر رہنے کی ضرورت ہے ۔ پی ڈی پی نے جس طرح کشمیریوں کی پیٹ پر چھرا گھونپ کربھاجپا کے ساتھ اتحاد کیا اور آر ایس ایس کے خاکوں میں رنگ بھرنے کیلئے جو رول نبھایا وہ یہاں کے عوام کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ فرقہ پرست طاقتیں دفعہ 370 کے ساتھ ساتھ 35اے کو بھی ختم کرنے کے پیچھے لگی ہیں، جس کے تحت ریاست کے لوگوں کو خصوصی جمہوری اور آئینی حقوق حاصل ہوئے ہیں۔ گزشتہ 70برسوں سے یہ فرقہ پرست ریاست کے لوگوں کو اُن خصوصی پوزیشن کے ساتھ ساتھ ان جمہوری اور آئینی حقوق سے مکمل طور پر محروم کرنا چاہتے ہیں جو آئین ہند کے تحت ریاست کے لوگوں ملے ہیں اور جن کے تحت یہاں کے مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان کے ساتھ 3شرائط پر الحاق کیا تھا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی کی بنیاد ہی جھوٹ اور فریب پر مبنی ہے اور اس جماعت نے ہمیشہ جھوٹ پر سیاست کی اور لوگوں کو گمراہ کیا۔ ہندوستان اور پاکستان نے عالمی دباؤ کے تحت آپسی تعلقات کی خوشگواری کیلئے سرینگر مظفر آباد بس سروس شروع کی اور یہاں مفتی صاحب اور اُن کی جماعت کے لوگوں نے اسے اپنے خاطے میں ڈال کر خوب سیاست کی اور فریبی دعوے کئے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی اور بھاجپا نے ساڑھے3سالہ دورِ حکومت کے دوران خزانہ عامرہ کو دو دو ہاتھوں سے لوٹا، مرکزی سکیموں کے تحت فراہم کی گئی رقومات کا گھوٹالا کیا گیا، چور دروازے سے بھرتیاں عمل میں لاکر مستحق ، باصلاحیت اور قابل اُمیدواروں کے حقوق پر شب خون مارا گیا۔ جس کے انکشافات وقت وقت پر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سابق مخلوط اتحاد میں شامل پی ڈی پی اور بھاجپا نے لوٹ کھسوٹ اور بندر بانٹھ میں اس قدر مصروف رہے کہ ریاست کی تعمیر و ترقی کی طرف کوئی بھی توجہ نہیں دی گئی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اس ان دونوں جماعتوں کی نااہلی اور ناکامی کی وجہ سے وادی کے حالات 90ء کے جیسے بنائے گئے۔ پی ڈی پی حکومت نے مودی سرکار کی سخت گیر پالیسی کو من و عن ریاست میں لاگو کیا اور یہاں عوام کیخلاف براہ راست جنگ چھیڑ دی۔

Share This Article