سرینگر 16 جنوری: اپنے والد ککہ پر ے کے موت کی جانچ کامطالبہ کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر اور پارٹی کے ضلع صدر بانڈی پورہ امتیاز پرے نے انکشا ف کیا کہ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے حاجن آکر ہزاروں لوگوں کے سامنے میر ے مرحوم والدکو’’ اخوان‘‘ مزید مضبوط اور خون خرابے کے لئے ہوم منسٹر بنانے کی پیشکش کی تھی جس کو میرے والد نے ٹھکرا دیا۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے امتیاز پر ے نے کہا کہ جب ککہ پر ے نے سرینگر میں ایک بھاری عوامی اجتماع کے دوران بندوق کو خیربادکہہ کر سیاست میں آ نے کا اعلان کیاتوانکے زندہ رہتے بہت کچھ منظر عام پر آسکتا تھا مگر بد قسمتی سے انکی حادثاتی موت نے تمام رازوں پر پردہ ڈال دیا۔سی این ایس کے مطابق کانگریس کے سینئر لیڈر اور پارٹی کے ضلع صدر بانڈی پورہ نے عمر عبداللہ کی جانب سے ککہ پر ے سے متعلق بیان کو جملہ بازی اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اخوان اور سپیشل ٹاسک فورس ان کے والد فاروق عبدللہ کی ایجاد ہیے جس قوم کے آج عمر عبداللہ ہمدرد ہونے کا ڈھونگ رچا رہے ہیں اسی عوام کو ان کے والد ڈاکٹر فاروق مصیبت میں چھوڑ کر عمر صاحب کے ہمراہ لندن بھاگ گئے تھے۔ سال 1987 میں انکو اور انکی جماعت کو کشمیری عوام نے رد کیا تھا کہ فاروق عبداللہ نے نوے کی دہائی میں یہاں پہلے حالات خراب کروایے اور پھر اخوان بنوا کردھوکے سے وزرات اعلیٰ کی کرسی پر قابض ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ککہ پرے اور انکے لوگوں کو فاروق عبدللہ نے استعمال کیااور پھر ٹاسک فورس کا وجود عمل میں لاکر لوگوں پر مضالم ڈھایے۔عمر عبداللہ کے والد نے حاجن میں آکر ہزاروں لوگوں کے بیچ ککہ پرے کو ہوم منسٹر بنانے کی پیشکش کی تھی جس کو میرے والد صاحب نے ٹھکرا دیا کیونکہ اس کے بدلے فاروق عبداللہ چاہتے تھے کہ اخوان کو اور مضبوط کیا جائے مگر ککہ پرے نے صاف انکار کیا کیونکہ وہ ان کی سیاست سے واقف ہو چکے تھے اس کے فوراً بعد انہوں نے سرینگر میں ایک بھاری عوامی اجتماع کے دوران اخوان اور ہر طرح کے بندوق کو خیرباد کہا تھا جس کا علم تقریباً پورے ذرائع ابلاغ کو بھی ہے۔انکے زندہ رہتے بہت کچھ منظر عام پر آسکتا تھا مگر بد قسمتی سے انکی حادثاتی موت نے تمام رازوں پر پردہ ڈال دیا۔میرا مطالبہ ہیے کہ اس حادثے کی پوری جانچ ہونی چاہیے۔ فاروق صاحب اور عمر عبدللہ صاحب کو بِلا جھجک یہ سچ مان لینا چاہیے اور ہزاروں بے قصور کشمیریوں کے قتل کی ذمہ داری لینی چاہیے انکی سیاسی بربریت کے شکار ہو کر زمین بوس ہوگئے۔انہوں نے مزید کہا کہ عمر صاحب کا 2010 کا سچ بھی لوگوں کو معلوم ہے۔انہوں نے اپنے والد کے نقش قدم پر چل کر کرسی بچانے اور کشمیریوں کی آواز کو کچلنے کیلئے دوبارہ اخوان لانے کی کوشش کی تھی مگرانکی اس چال کو اب ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیا جاے گا کیونکہ ہمارا ماننا ہیے کہ مسلہ کشمیر کا حل صرف اور صرف بات چیت سے نکل سکتا ہے
