رواں ماہ کے 14دنوںمیں 12دن دونوں جانب گولہ باری کی گئی
سرینگر/14جنوری: سرحدی ضلع پونچھ میں حد متارکہ پر آج ایک بار پھر بھارت اور پاکستانی افواج کے مابین گولیوںکاشدید تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں سرحدی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ راجوری میں گذشتہ روز پاکستانی فوج کی سنیپر فائرنگ کے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار کے زخمی ہونے کے بعد دونوں فوجیوںنے پھر گولہ باری کی ۔ کرنٹ نیوزآف انڈیا کے مطابق گذشتہ روز راجوری کے سرحدی پٹی پر تعینات فوجی اہلکار کو پاکستانی فوج نے اپنی سنیئپر رائفل سے نشانہ بناکر گولی چلائی جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہواتھا ۔ اس واقعہ کے ایک دن بعد آج سوموار کے روز ایک مرتبہ پھر ہندوستان اور پاکستانی افواج کے مابین کنٹرول لائن پر گولیوں کا تبادلہ ہوا ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی افواج نے سوموار کو ضلع پونچھ میں کنٹرول لائن پر ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔اطلاعات کے مطابق دونوں طرف کی افواج نے کھاری، کمارا اور دوسرے علاقوں میں چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال عمل میں لایا۔حکام کے مطابق فوری طور پر کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ضلع پونچھ میں گذشتہ کچھ دنوں سے بھارت اور پاکستانی کی افواج میں گولیوں کا تبادلہ ہورہا ہے جس کے نتیجے میں مقامی آبادی خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ادھر دفاعی ذرائع نے پاکستانی فوج پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان فوج نے بلا اشتعال ہماری فوجی چوکیوں کو نشانہ بناکر جدید ہتھیاروں سے گولیاں چلائیں اور مورٹار کے کئی گولے داغے تاہم اس میں کوئی جانی نقصانہیں ہوا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ فوج نے بھی پاکستانی فوجی بنکروں کو نشانہ بناکرجوابی کارروائی کی ۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ آر پار گولہ کے نتیجے میں سرحدی علاقوںمیں تنائو اور کشیدگی کا ماحول پھیل گیا ہے اور لوگ خوف وہراس کی فضاء میں اپنے گھروںمیں سہم کے رہ گئے ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آر پار گولہ باری کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یاد رہے کہ رواں برس کے 14دنوںمیں سے 12دنوں کو ہندوستان اور پاکستانی افواج کے مابین گولیوں کا تبادلہ ہوا جس میں اب تک تین سے زیادہ افراد ازجان ہوئے ہیں ۔

