پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے چار مسافر اور وادی سے تعلق رکھنے والا شامل
سرینگر 07جنوری : کاروان امن بس نے آج سرینگر سے کمان پوسٹ کی طرف سرینگر سے پانچ مسافروں کو لیکر روانہ ہوئی ۔وہاں سے مظفر آباد کیلئے ایک اور گاڑی مسافروں کو لے جانے کیلئے تیار ہوگی ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق سرینگر مظفرآباد کے درمیان چلنے والی ہفتہ روزہ کاروان امن بس سروس آج سرینگر سے مظفرآباد کیلئے روانہ ہوئی ۔ سرینگر بمنہ سے سوموار کو مظفرآباد کے چار مسافر اور وادی سے تعلق رکھنے والا ایک مسافر بس میں سوار ہوکر روانہ ہوا۔ بس ضلع بارہمولہ کے سلام آباد ٹورسٹ رسپشن سنٹر تک جائی گی جہاں سے مسافر کمان پُل پیدل پار کرکے اُس پار دوسری گاڑی کے ذریعے مظفرآباد کی طرف روانہ ہوں گے ۔ سرینگر مظفرآباد بس سروس پاکستان اور ہندوستان کے مابین اعتمادسازی کی ایک واضح مثال کے بطور ثابت ہوئی ہے ۔ جبکہ ہندوستان پاکستان کے درمیان سرحدی اور خارجہ کشیدگی کے باوجود بھی بس سروس حسب معمول چالو ہے ۔ 7اپریل 2005سے کاروان امن بس کے زریعے اب تک ہزاروں کی تعداد میں لوگ آر پار اپنے رشتہ داروں سے ملے ہیں ۔دونوں جانب سفری دستاویزات کیلئے سٹیٹ سبجکٹ درکار ہوتی ہے ۔ سفر کرنے کی اجازت خفیہ ایجنسیوں کی جانچ کے بعد ہی دی جاتی ہے ۔ واضح رہے کہ 2005میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید نے مرکزی سرکار جس میں آنجہانی اٹل بہاری واجپائی سرکار میں تھے کی جانب سے ہندوستان اورپاکستان کے مابین اعتماد سازی کی بحالی کے حوالے سے سرینگر مظفرآباد بس سروس کو چالو کیا گیا تھا اور تب سے آج تک یہ بس سروس متواتر چلتی آرہی ہے ۔ اس کے علاوہ سرینگر اور مظفرآباد کے مابین تجارت کے حوالے سے آر پار ٹریڈ بھی شروع کیا گیا ۔ جس میں مخصوص اجناس رکھی گئی ہے ۔

