افسپا کی آڑ میں کشمیریوں کی نسل کشی کی مہم جوئی نا قابل قبول
سری نگر:٧،جولائی :/ مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کولگام شہری ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے افسپا کی آڑ میں کشمیریوں کی نسل کشی کی مہم شروع کر رکھی ہے ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت ہند مشترکہ مزاحمتی قیادت اور یہاںکی حریت پسند عوام کا سیاسی سطح پر مقابلہ کرنے کے بجائے سامراجی پالیسی پر گامزن ہے جو انصاف پسند اقوام و ممالک کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کو موصولہ بیان کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے دوران خانہ وتھانہ نظر بندی کالے قوانین،افسپا وغیرہ کی آڑ میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں آئے روز ایک مذموم منصوبے کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کی مہم کیخلاف شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم کشمیریوں کے مقدس خون سے سرزمین کشمیر کو لالہ زار بنانے کا عمل جاری ہے ، نہتے شہریوں کابے دردی سے خون بہایا جارہا ہے اور اب فورسز چھوٹے چھوٹے اورکمسنوںکو بھی نشانہ بنا کر اپنی بہادری کا ثبوت فراہم کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس کیا جارہا ہے کہ فورسز کوحکومت ہند کی جانب سے گرین سگنل ملا ہوا ہے کہ وہ بلا خوف و خطر اور کسی بھی قسم کی جواب دہی (Accountability) کے تصور سے بالا تر ہوکرعسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ سرکاری جارحیت اور ظلم و جبر کیخلاف آواز بلند کرنے والے معصوم کشمیریوںکو بھی سبق سکھانے کیلئے چن چن کر انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیں ۔انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت ہند مشترکہ مزاحمتی قیادت اور یہاںکی حریت پسند عوام کا سیاسی سطح پر مقابلہ کرنے کے بجائے ریاستی عوام کو فوج کے رحم و کرم پر چھوڑ کر قتل و غارت گری کے بازار کو گرم رکھنے کی سامراجی پالیسی پر گامزن ہے جو انصاف پسند اقوام و ممالک کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔قائدین نے CASO کے بہانے ہاوورہ کولگام میں قیامت صغریٰ برپا کرنے کے نتیجے میں ایک کمسن بچی سمیت تین نہتے شہریوں جن میں 16 سالہ کمسن طالبہ عندلیب ،20 سالہ ارشاد احمد لون اور 22 سالہ شاکر احمد کھانڈے شامل ہیں کو راست فائرنگ سے بے دردی کے ساتھ شہید کرنے اور درجنوں پر امن مظاہرین کو شدید زخمی کر دینے کیخلاف سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے فورسز کارروائیوں کی پر زور مذمت کی ہے ۔بیان کے مطابق انہوں نے شہداء کے لواحقین کے ساتھ دلی تعزیت اور ہمدردیوں کا اظہار کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ ایک بلند نصب العین کے تحت دی جارہی جانی اور مالی قربانیوںکو کسی بھی قیمت پر فراموش نہیں کیا جاسکتا اور حصول مقصد تک ہماری حق و انصاف پر مبنی پر امن جدوجہد جاری و ساری رہیگی۔بیان کے مطابق قائدین نے کولگام قتل عام کیخلاف کل 8 جولائی 2018ء کو پہلے سے دی گئی ہمہ گیر احتجاج اور ہڑتال کے پس منظر میں جہاں اس دن کو یوم سیاہ اور سول کرفیو کے طور پر مناکر بھر پور صدا احتجاج بلند کریں وہاں نماز ظہر کے موقعہ پر ان شہیدوںکے حق میں غائبانہ نماز جنازہ کا بھی اہتمام کریں اور شام کو شہداء کی یاد میں Black out کریں۔بیان کے مطابق قائدین نے کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال کو انتہائی تشویشناک اور اضطراب انگیز قرار دیتے ہوئے یہاں جاری سرکاری دہشت گردی ، بربریت ، قتل و غارت گری اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیخلاف بین الاقوامی برادری کی خاموشی کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیا اب بھی وقت نہیں آیا ہے کہ عالمی برادری کا ضمیر جاگے؟ اور وہ حکومت ہند پریہاں جاری قتل و غارت اور مار دھاڑ کو رکوانے کیلئے دبائو ڈالنے کے ساتھ ساتھ دیرینہ مسئلہ کشمیر کوحق خودارادیت کی بنیاد پر حل کرانے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔بیان کے مطابق قائدین نے وادی کے مختلف علاقوں خاص طور پر جنوبی کشمیر کے کولگام، پلوامہ، ترال، شوپیاں اور اسلام آباد سمیت بانڈی پورہ میں سرکاری فورسز کی جانب سے گھر گھر تلاشیوں ، اسباب خانہ کی توڑ پھوڑ، حریت پسند رہنمائوں اور کارکنوں کی رہائش گاہوں پر شبانہ چھاپوںاور گرفتاریوں کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں ،سیاسی انتقام گیری سے عبارت اُس جارحانہ پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد ڈرا دھماکا کر حریت پسندوں کے عزائم و حوصلوں کو توڑنا ہے ۔انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ ماضی میں بھی اس طرح کے حربوں سے کچھ حاصل نہیں ہوا ہے اور نہ ہی آئندہ ممکن ہے ۔

