ٹنل کے آر پار تیز آندھی ،موسلادھار بارشیں اور سیلابی ریلے

By
8 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

موسم کی قہر سامانیاں۔24گھنٹوں میں8اموات
درختان ،فصلوں ،سبزیوں ،گاڑیوں اور رہائشی مکانات سمیت درجنوں ڈھانچوں کو شدید نقصان

سری نگر:۴،جولائی :کے این این/ طوفانی بارشوں ،تیزآندھی ،لینڈ سلائڈنگ،سڑک حادثات،غرقآب اور حرکت قلب بند ہونے کے واقعات میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ٹنل کے آر پار ایک خاتون سمیت8افراد کی موت ہوگئی جبکہ 17دیگر افراد مضروب ہوئے ۔اس دوران نگین جھیل سرینگر اورادھپور میں7افراد کی جانیں بچا لی گئیں جبکہ سرینگر ۔جموں شاہراہ ،سرینگر لہیہ شاہراہ اور مغل روڑ پر در ماندہ سینکڑوں گاڑیوں کو ریسکیو آپریشنز کے دوران مسافروں سمیت محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ۔ادھر موسلا دھاربارشوں ،ژالہ باری ،آندھی طوفان اور سیلابی ریلوں کے باعث درختان ،فصلوں ،سبزیوں ،بجلی کے کھمبوں ،ترسیلی ومواصلاتی لائنیں،گاڑیوں اور رہائشی مکانات سمیت درجنوں دیگر ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچا ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق گزشتہ ہفتے شدید موسلادھار بارشوں کے با عث پیر پنچال کے آر پار سیلابی صورتحال کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا ،تاہم موسم میں بہتری آنے کے ساتھ ہی لوگوں کی اضطرانی کیفیت ختم ہوگئی ۔دو روز تک موسمی صورتحال بہتر رہنے کے بعد منگل کی سہ پہر پیر پنچال کے آر پار موسم نے خطر ناک رُخ اختیار کیا ،جس کے ساتھ ہی پیر پنچال کے آر پار موسلادھار بارشوں کا تازہ سلسلہ شروع ہوا جبکہ اس دوران تیز آندھی ،لینڈ سلائڈنگ ،زمین دھنسنے ،چٹانیں کھسکنے اور مٹی کے تودے گر آنے کے سبب ایک خاتون سمیت8افراد کی موت ہوگئی جبکہ11دیگر افراد مضروب ہوئے ۔تاہم اِن واقعات کے علاوہ متعدد اموات سڑک حادثات ،غر قآب اور حرکت قلب بند ہونے کے نتیجے میں ہوئیں ۔موسم کی تباہ کاریوں یا قہر سامانیوں کے حوالے سے ملی تفصیلات کے مطابق شالیمار باغ میں تیز آندھی کے سبب 6چنار کے درخت جڑ سے اُکھڑ گئے ۔حکا م کے مطابق صدی قدیم 6چنار کے درخت تیز آندھی کے سبب جڑ سے اُکھڑ گئے ۔اس دوران شالیمار باغ میں سیاحوں کو ریسکیو کیا گیا جبکہ شالیمار سے ہار ون تک روڑ کلیئر کیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ تیز آندھی کے بیروہ بڈگام میں کئی رہائشی مکانوں کو شدید نقصان پہنچا اور یہاں کئی افراد معجزیاتی طور پر حادثات میں محفوظ رہے ۔منگل کے روز ہی کشمیر یونیورسٹی میں چنارکے درختوں کی شاخیں ٹوٹ کر گاڑیوں پر گریں جسکی وجہ سے یہاں کھڑی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ۔ ادھر لینڈ سلائڈنگ کے نتیجے میں3یاتری ہلاک اور حرکت قلب بند ہونے کے نتیجے میں2یاتریوں کی موت ہوئی ۔اس سلسلے میں ملی تفصیلات کے مطابق بالہ تل بیس کیمپ سے امرناتھ گپھا کے روایتی راستے پر منگل کی شام کو موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں چٹانیں اور مٹی کے تودے گر آئے،جسکے نتیجے میں3یاتری ہلاک ہوئے ۔پولیس کے مطابق مرنے والے یاتریوں میں 35سالہ بمل شرماساکنہ دہلی رجسٹریشن نمبر168070،54سالہ اشوک مہٹو ساکنہ بہار پٹنا رجسٹریشن نمبر300838اور30سالہ شلیندر سنگھ ساکنہ دہلی رجسٹریشن نمبر168700ہے اور تینوں یاتریوں کی نعشیں ملبے سے برآمد کی گئیں ۔اس واقعہ زخمی ہونے والے افراد میں20سالہ ریاض احمد وگے ولد غلام محمد وگے ساکنہ شانگس اننت ناگ،60سالہ نند لعل ساکنہ جئے پور راجستھان،54سالہ منسک لال ساکنہ گجرات ،جنہیں صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں داخل کیا گیا ،23سالہ عارف حسن کھٹانہ ولد لیاقت علی ساکنہ کار پورہ کوکرناگ اور23سالہ محمد سکندر ولد محمد اسماعیل ساکنہ تھانے کنگن ،کو اسپتال سے طبی امداد فراہم کرنے کے بعد رخصت کیا گیا ۔ادھر حرکت قلب بند ہونے کے باعث آندھرا پردیش کی خاتون یاتری سیما کرتی کی گپھا کے مقام پر موت ہوگئی جبکہ ایک اور یاتری کی موت دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوگئی ۔اس دوران نگین جھیل میں کشتی اُلٹ جانے سے 2افراد غر قآب ہوئے جن کی نعشیں بدھ کی صبح برآمد کی گئیں ۔معلوم ہوا ہے کہ یہ واقعہ منگل کے روز تیز آندھی چلنے کے دوران پیش آیاتھا ۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کشتی میں5افراد سوار تھے جن میں 3کو ریسکیو کیا گیا ۔مرنے والوں کی شناخت 24سالہ سجاد احمد ولد محمد یوسف ساکنہ حافظ باغ ملہ باغ اور عمر احمد ولد محمد سلطان ساکنہ لولی پورہ ہاؤسنگ کالونی الہیٰ باغ کے بطور ہوئی ۔اس دوران زینہ کوٹ علاقے سے ایک عدم شناخت شخص کی نعش برآمد کی گئی ،جسے پولیس نے قانونی اور طبی لوازمات پُر کرنے کیلئے اپنی تحویل میں لیا ۔اطلاعات کے مطابق مذکورہ شخص کی موت غرقآب ہونے سے ہوئی ہے ،تاہم پولیس نے معاملے کی نسبت کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی ۔ادھر سرینگر ۔جموں شاہراہ پر سڑک کے ایک حادثے میں7امرناتھ یاتری زخمی ہوئے ۔معلوم ہوا ہے کہ رام بن کے چندر کوٹ کے مقام جموں سے سرینگر کی طرف آرہی یاتری گاڑی کو حادثہ پیش آیا ،جس میں سوار 7یاتری زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا ۔ادھر سرینگر ۔جموں شاہراہ اور مغل روڑ پر لینڈ سلائڈنگ سے پیدا شدہ رکاوٹیں کے سبب کئی گھنٹوں تک بند رہی ،تاہم رکاوٹیں ہٹانے کے ساتھ ہی دونوں اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی آوا جاہی بحال کردی گئی۔اس دوران 4افراد کو ادھمپور میں فلش فلڈ کے دوران ریسکیو کیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ2خواتین اور2بچے گوردی نالہ گزشتہ شب عبور کررہے تھے ،جس دوران یہاں فلش فلڈ کے نتیجے میں وہ نالے میں ہی در ماندہ ہوکر رہ گئے جس دوران پولیس نے مقامی لوگوں کی مدد ست چاروں کو بحفاظت بچالیا گیا ۔ادھر مغل روڑ پر درماندہ55گاڑیوں ریسکیو کیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ55گاڑیاں چھٹا پانی اور رٹہ چمب کے مقام پرلینڈ سلائڈنگ کے سبب درماندہ ہو کر رہ گئیں ،جس کے بعد پولیس کی جانب سے ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا،جوبدھ کی صبح3بجے تک جاری رہا اور رکاوٹیں ہٹاکر تمام گاڑیوں کو بحفاظت محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ۔ادھر جنوبی ضلع پلوامہ کے ترال قصبے میں فلش فلڈ آنے کے نتیجے میں کئی علاقہ جات زیر آب آگئے جبکہ رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ۔معلوم ہوا ہے کہ نارستان اور گترو ترال میں منگل کی شب فلش فلڈ کے نتیجے میں خوف وہراس کی لہر دوڑ گئی ۔معلوم ہوا ہے کہ یہاں سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی جسکی وجہ سے کئی مکانوں کو نقصان پہنچا جبکہ کئی ہیکٹر اراضی میں دھان کی فصل کو شدید نقصان پہنچا ۔ادھر آری پل ترال میں سیلابی پانی کے سبب کئی سڑکوں کو نقصان پہنچا ۔موسلا دھاربارشوں ،ژالہ باری ،آندھی طوفان اور سیلابی ریلوں کے باعث درختان جڑ سے اکھڑ گئے جبکہ فصلوں اور سبزیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ۔معلوم ہوا ہے کہ شمال وجنوب میں موسلادھار بارشوں ،ژالہ باری اور آندھی طوفان کے باعث دھان کے کھیت اور میوہ باغات کو شدید نقصان پہنچا ۔آندھی طوفان کے باعث بجلی کے کھمبوں ،ترسیلی ومواصلاتی لائنیں زمین بوس ہوگئیں جسکی وجہ کئی علاقوں میں ترسیلی اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ۔ادھر بدھ کو بھی موسلا دھار بارشوں اور طوفانی ہواؤں کا سلسلہ جاری رہا جسکی وجہ سے معمول کی زندگی متاثر ہوئی ۔

Share This Article