سرینگر//سی پی آئی ایم کے سینئر رہنماو ممبراسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے کہاہے کہ حکومت کے مشکل حالات کیلئے تیار رہنے کے تمام تر دعوﺅں کی پول حالیہ معمولی سے برفباری سے کھل گئی ہے جس کے بعد بجلی کی سپلائی بری طرح سے متاثر ہوئی اور سڑکیں بند ہوگئیں جبکہ لوگوں کو راشن اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قلت کاسامنا کرناپڑا۔
ایک بیان میں تاریگامی نے کہاکہ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے باوجود ریاستی انتظامیہ نے برف سے قبل کوئی انتظام نہیں کیا ،حالانکہ ریاست میں موسم سرماکے دوران برف برسنا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن انتظامیہ کی طرف سے ورک کلچر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور چند انچ برف پڑنے سے پوری انتظامیہ مفلوج بن کر رہ جاتی ہے جس سے ریاست بھر کے لوگوں پر اثر پڑتاہے اور ساتھ ہی حکومت کے صورتحال سے نمٹنے کے دعوﺅں کی پول بھی کھل جاتی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ وادی کے بیشتر دیہی علاقوں میں سڑکوں سے برف نہیں ہٹائی گئی جس کی وجہ سے لوگ مشکلات کاشکار ہیں جبکہ تین سو کلو میٹر جموں سرینگر شاہراہ بھی پچھلے تین روز سے بند پڑی ہے جس کے نتیجہ میں خواتین اور بچوں سمیت سینکڑوں مسافر درماندہ ہیں لیکن حکومت خواب خرگوش میں ہے ۔
ان کاکہناتھاکہ ایسے حالات میں تمام محکموں خاص کر بنیادی سہولیات فراہم کرنے والے شعبوں کے درمیان بہتر تال میل ہوناچاہئے اور اس بات یقینی بنایاجاناچاہئے کہ لوگوں کو سہولیا ت فراہم ہوں ۔تاہم انہوںنے کہاکہ تقسیم کاری کا نظام مایوس کن تصویر پیش کررہاہے اور لوگوں کو رسوئی گیس اور دیگر سہولیات کی عدم دستیابی کاسامناہے ۔انہوںنے کہاکہ بجلی کے کریک ڈاﺅن سے لوگ بری طرح سے متاثر ہوئے اور پوری وادی خاص کر دیہی علاقے اندھیرے میں چلے گئے ۔
انہوںنے متعلقہ حکام پر زور دیاکہ وہ بجلی سپلائی کی بحالی کے اقدامات کریںتاکہ سردیوں کے اس موسم میں لوگوں کی مشکلات قدرے کم ہوسکیں ۔تاریگامی نے کہاکہ محکمہ بجلی صوبائی سطح پر بجلی کے ٹرانسفارمر دستیاب رکھنے میں ناکام ہوگیاہے جس کی وجہ سے خراب ٹرانسفارمر ٹھیک کرانے میں وقت لگ رہاہے ۔ انہوںنے کہاکہ کئی علاقوں میں ٹرانسفارمر خراب ہوگئے ہیں جنہیں ٹھیک کرانے میں کافی وقت لگے گا۔انہوںنے کہاکہ محکمہ بجلی ضلع سطح پر ورکشاپ قائم کرنے کے بارے میں بھی سنجیدہ نہیں اور پہلے ٹرانسفارمروں کی مرمت پرائیویٹ ورکشاپ سے ہوتی تھی لیکن حکومت نے ان کے عوض رقومات کی ادائیگی ہی نہیں کی جس وجہ سے یہ نظام ہی ابتر بن گیاہے ۔
حکومتی دعوے زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتے :تاریگامی
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

